Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

حجاب کے متعلق کرناٹکا ہائی کورٹ کا فیصلہ اور سیکولرزم کی حقیقت (2)

 حجاب کے متعلق کرناٹکا ہائی کورٹ کا فیصلہ اور  سیکولرزم کی حقیقت (2) 

حجاب کے متعلق کرناٹکا ہائی کورٹ کا فیصلہ اور  سیکولرزم کی حقیقت (2)

کرناٹکا ہائی کورٹ میں پہلے ایک جج (جسٹس کرشنا ڈکشٹ) نے درخواستیں سنیں لیکن معاملے کی اہمیت کے پیشِ نظر انھوں نے اسے چیف جسٹس  (جسٹس ریتو راج اوستھی) کے سامنے رکھا کہ کیا اس کے متعلق بڑا بنچ تشکیل دینے کے بارے میں فیصلہ کریں۔ چیف جسٹس نے تین رکن بنچ تشکیل دیا جس کی سربراہی خود انھوں نے کی اور جسٹس کرشنا ڈکشٹ کے علاوہ مس جسٹس جے ایم قاضی کو بنچ میں شامل کیا۔ درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ چیف جسٹس نے لکھا جس سے دیگر دو ججز نے اتفاق کیا۔ 

فیصلے کا آغاز چیف جسٹس صاحب نے ایک مضمون کے اقتباس سے کیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جس مضمون کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ حجاب کی بنیاد پر خواتین کے خلاف امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے، اسی مضمون سے وہاں اقتباس لیا جارہا ہے جہاں یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ حجاب نہ تو اسلام کا کوئی لازمی حکم ہے، نہ ہی اس کا ضمیر کی آزادی یا اظہار کی آزادی کے حقوق سے کوئی تعلق ہے! بہرحال اقتباس اہم ہے، اس لیے اسے ہم بھی نقل کیے دیتے ہیں: 

The hijab’s history, then, is a complex one, influenced by the intersection of religion and culture over time. While some women no doubt veil themselves because pressure put on them by society, others do so by choice for many reasons. The veil appears on the surface to be a simple thing. That simplicity is deceiving, as the hijab represents the beliefs and practices of those who wear it or choose not to, and the understandings and misunderstandings of those who observe it being worn. Its complexity lies behind the veil. (Sara Slininger, “Veiled Woman: Hijab, Religion and Cultural Practice,” Historia, Vol. 23 (2014), 68-78, at 78)

اس اقتباس میں جو موقف دیا گیا ہے، فیصلے میں اس کے بالکل برعکس موقف اختیار کیا گیا ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ چیف جسٹس صاحب نے یہ اقتباس تنقید کےلیے نقل کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ اس مضمون کی تحسین فرماتے ہیں (well-researched article)۔ آگے بھی انھوں نے اس مضمون کا ایک اور اقتباس نقل کیا ہے اور وہاں بھی اس کے برعکس نتیجہ اخذ کرنے کےلیے کیا ہے۔ پہلے وہ اقتباس دیکھ لیجیے: 

Islam was not the first culture to practice veiling their women. Veiling practices started long before the Islamic prophet Muhammad was born. Societies like the Byzantines, Sassanids, and other cultures in Near and Middle East practiced veiling. There is even some evidence that indicates that two clans in southwestern Arabia practiced veiling in pre-Islamic times, the Banū Ismāʿīl and Banū Qaḥṭān. Veiling was a sign of a women’s social status within those societies. In Mesopotamia, the veil was a sign of a woman’s high status and respectability. Women wore the veil to distinguish themselves from slaves and unchaste women. In some ancient legal traditions, such as in Assyrian law, unchaste or unclean women, such as harlots and slaves, were prohibited from veiling themselves. If they were caught illegally veiling, they were liable to severe penalties. The practice of veiling spread throughout the ancient world the same way that many other ideas traveled from place to place during this time: invasion.

یہاں مصنفہ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ حجاب اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب اور ثقافتوں کا بھی حصہ رہا ہے لیکن فاضل چیف جسٹس صاحب اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ حجاب اسلام کا کوئی لازمی جزو نہیں ہے! یہ منطقی مغالطہ اتنا واضح ہے کہ اس پر گفتگو کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ 

عدالت نے اس مقدمے میں حجاب کے حق میں درخواستیں مسترد کرنے کےلیے جو استدلال اختیار کیا ہے، اس کے بنیادی نکات یہ ہیں:

بھارت کے آئین کے تحت مذہبی آزادی کا حق صرف ان امور تک محدود ہے جنھیں "مذہب کا لازمی حصہ" (essential part of religion) سمجھا جاتا ہے، جبکہ حجاب کو اسلام میں یہ حیثیت حاصل نہیں ہے؛ 

جن امور میں بھارت کا آئین مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے، وہاں بھی یہ حق مطلق نہیں ہے بلکہ دیگر حقوق کے ماتحت اور ثانوی حیثیت رکھتا ہے؛ 

حجاب اختیار کرنے کو ضمیر کی آزادی کے حق یا اظہار کی آزادی کے حق کے تحت بھی نہیں مانا جاسکتا اور مانا جائے تب بھی یہ حقوق مطلق حیثیت نہیں رکھتے بلکہ ان پر ریاست مناسب قیود عائد کرسکتی ہے؛ 

حقوق پر عائد کی گئی قیود مناسب ہیں یا نہیں، اس کےلیے بنیادی طور پر معیار یہ ہے کہ وہ سیکولرزم کے ساتھ ہم آہنگ ہیں یا متصادم، اور اس کے تعین کےلیے یہ اصول مد نظر رکھا جانا چاہیے کہ بھارت کا آئین معاشرے میں صرف تکثیریت (diversity) کی حفاظت ہی نہیں چاہتا بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس تکثیریت میں وحدت (unity in diversity) بھی یقینی طور پر پیدا ہو۔ 

دلائل اور بھی ہیں، لیکن بنیاد یہی امور ہیں اور میرے نزدیک ان میں آخر الذکر امر سب سے زیادہ اہم ہے۔ ان تمام امور پر عدالت کے استدلال کا میں تجزیہ کروں گا لیکن یہاں اس طرف اشارہ ضروری ہے کہ فیصلے کے آخر میں عدالت نے بھارتی آئین کا مسودہ لکھنے والوں میں اہم ترین شخصیت ڈاکٹر امبیڈکر کا جو اقتباس نقل کیا ہے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق عموماً اور حجاب کے متعلق خصوصاً عدالت بھی ڈاکٹر امبیڈ کر کی طرح کتنی متعصب تھی! اقتباس ڈاکٹر امبیڈ کر کے اس مضمون سے ہے جو 1945ء میں (یعنی تقسیمِ ہند سے قبل، جب تقسیم کے آثار نمودار ہوچلے تھے) شائع ہوا اور اس کا عنوان ہے: Pakistan or the Partition of India۔ اس مضمون کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ حجاب کا مسئلہ کیسے تقسیمِ ہند کے ساتھ جڑا ہوا ہے! 

A woman (Muslim) is allowed to see only her

son, brothers, father, uncles, and husband, or any other

near relation who may be admitted to a position of trust.

She cannot even go to the Mosque to pray, and must wear burka (veil) whenever she has to go out. These burka woman walking in the streets is one of the most hideous sights one can witness in India…The Muslims have all the social evils of the Hindus and something more. That something more is the compulsory system of purdah for Muslim women… Such seclusion cannot have its deteriorating effect upon the physical constitution of Muslim women… Being completely secluded from the outer world, they engage their minds in petty family quarrels with the result that they become narrow and restrictive in their outlook… They cannot take part in any outdoor activity and are weighed down by a slavish mentality and an inferiority complex…Purdah women in particular become helpless, timid…Considering the large number of purdah women amongst Muslims in India, one can easily understand the vastness and seriousness of the problem of purdah…As a consequence of the purdah system, a segregation of Muslim women is brought about.

عدالت یہ اقتباس نقل نہ بھی کرتی تو فیصلہ مکمل تھا۔ س اقتباس کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ اقتباس نقل نہ کیا جاتا تو تعصب کا اظہار ادھورا رہ جاتا۔ 

قَدۡ بَدَتِ ٱلۡبَغۡضَآءُ مِنۡ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَمَا تُخۡفِي صُدُورُهُمۡ أَكۡبَرُ

جاری

Post a Comment

0 Comments