Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

حجاب کے متعلق کرناٹکا ہائی کورٹ کا فیصلہ اور سیکولرزم کی حقیقت (3)

 حجاب کے متعلق کرناٹکا ہائی کورٹ کا فیصلہ اور  سیکولرزم کی حقیقت  (3)

اب ذرا اس نوٹی فیکیشن پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے جس سے اس تنازعے نے جنم لیا۔ 5 فروری 2022ء کو حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں قرار دیا گیا کہ صوبے میں تمام سکولوں میں یونیفارم کی پابندی ضروری ہے۔ یونیفارم کے تعین کےلیے چار طریقے بیان کیے گئے: 

 ۔1 سرکاری سکولوں کےلیے یونیفارم مقرر کرنے کا اختیار سرکار کے پاس ہے؛ 

 ۔2 پرائیویٹ سکولوں میں سکول انتظامیہ یہ اختیار رکھتی ہے؛ 

 ۔3 "ماقبل یونیورسٹی کالجز" میں متعلقہ کالج کی بہتری یا نگرانی کےلیے قائم کی گئی کمیٹی کے پاس یہ اختیار ہوگا؛ اور 

۔4 جہاں یونیفارم مقرر نہیں ہے، وہاں ایسا ڈریس کوڈ مقرر کیا جائے گا جو "مساوات اور یگانگت" (equality and integrity) کو یقینی بنائے اور جس سے "امن عامہ" (public order) کو نقصان نہ ہو۔ 

درخواست گزار مسلمان لڑکیوں کی جانب سے بنیادی اعتراض یہ تھا کہ حکومت یا سکول انتظامیہ کوئی ایسا یونیفارم ان پر جبری طور پر نافذ نہیں کرسکتی جس میں حجاب کی گنجائش نہ ہو۔ انھیں خصوصاً اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ ماقبل یونیورسٹی کالجز میں یونیفارم مقرر کرنے کا اختیار جس کمیٹی کو دیا گیا ہے اس میں مقامی سیاست دان بھی شامل ہیں جو اس معاملے کو سیاسی رنگ دے کر اپنےلیے ووٹ کھرے کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح انھیں یہ بھی اعتراض تھا کہ یونیفارم کے مسئلے کو امن عامہ کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے سے حکومت کے سیاسی عزائم آشکارا ہوتے ہیں کیونکہ وہ بجاے اس کے کہ لڑکیوں کو تنگ کرنے والے عناصر کو لگام ڈالے، الٹا لڑکیوں کو مجبور کررہی ہے کہ وہ اپنا لباس تبدیل کرلیں۔ 

پھر کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ عدالت نے اپنا سارا زور اس پہلو پر لگایا کہ حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے اور  ہو بھی تو اس کا تحفظ ثانوی حیثیت رکھتا ہے، لیکن حکومت کے سیاسی عزائم اور اسے امن عامہ کا مسئلہ بنانے کے سوالات کو یکسر غیر ضروری اور غیر اہم قرار دے کر ان کو نہایت مختصر انداز میں نمٹایا؟ اگر پہلے سوال کے بجاے بحث ان دو سوالات پر ہوتی، تو پہلے سوال پر آنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی اور اس حکم نامے کو بہ آسانی کالعدم قرار دیا جاسکتا تھا لیکن بہت ہی مہارت سے مقدمے کو الٹنے کی کوشش کی گئی اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہندوتوا کے خطرناک عزائم کو سیکولرزم کا لبادہ اوڑھا کر چھپالیا گیا اور مظلوموں کو ہی مسائل کا سبب قرار دے کر انھی پر ذمہ داری عائد کی گئی! 

ذرا اس پیرا پر ایک نظر ڈال لیجیے: 

The words used in Government Orders have to be construed in the generality of their text and with common sense and with a measure of grace to their linguistic pitfalls. The text & context of the Act under which such orders are issued also figure in the mind. The impugned order could have been well drafted, is true. 

اس کے باوجود آسکر وائلڈ اور اولیور وینڈل ہومز کے غیر متعلق اقتباسات دے کر اس کمزوری کو ہلکا بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی اور پھر فرمایا گیا: 

the Government Order gives a loose impression that there is some nexus between wearing of hijab and the ‘law & order’ situation.

تنہا یہی بات اس حکم نامے کو کالعدم کرنے کےلیے کافی تھی، لیکن عدالت نے اس کو ایک غیر ضروری اور غیر اہم اعتراض بنا کر اس کو نظر انداز کردیا۔ 

جاری

Post a Comment

0 Comments