مادر جات (12)
زرک میر🖋️
دلچسپ بات ہے کہ لاکھوں روپے خرچ کرکے لوگ بیت اللہ میں شیطان کو کنکریاں مارنے جاتے ہیں ۔ یعنی وہاں بھی محض کنکریاں اور انتہائی سلیقے سے ۔ چھوٹی چھوٹی کنکریاں ، اگر کوئی بے احتیاطی کرے تو اس کو منع کیاجاتا ہے ۔ شیطان کیساتھ ایسی رعایت کیوں؟ جبکہ یہاں مندروں گرجا گروں اور گردواروں کو مسمار کیاجاتا ہے آگ لگائی جاتی ہے جبکہ شیطان کے مرکزی خانہ کا ہر طرح سے خیال رکھاجاتا ہے میں تو کہتا ہوں کہ شیطان کے اس ستون کو ہر حاجی آگ لگادے ، مسمار کردے ، ہر طرح سے اس کی بے حرمتی کرے تب بات بنے تاکہ دنیا میں قائم شیطان کے چھوٹے چھوٹے مندروں گرجا گروں اور گردواروں کی بجائے ان کے عظیم مینار کو ہی مسمار کیاجائے لیکن ایسا نہیں کیاجاتا بلکہ اس کا بھرپورخیال رکھاجاتا ہے ۔سیکورٹی کھڑی کی گئی ہے ، اس شیطان کے مینار کے مینٹیننس پر کروڑوں اربوں خرچ ہوتے ہونگے ۔ ہمارے اور عربوں کے شیطانوں میں کس قدر امتیاز ہے ۔ عربی اور عجمی میں تفریق تو تھی ہی اب شیطانوں میں بھی تفریق بھی نظر آگئی ۔
باعث حیرانگی یہ بھی ہے کہ شیطان عظیم کا فرنچائز بھی سعودی میں مقدس جگہ پر ہے ۔ یہاں سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اچھائی اور برائی ساتھ ساتھ ہیں ۔ حالانکہ ہم شیطان کو مشرق اور مغرب میں ڈھونڈتے ہیں جبکہ یہ بیت اللہ کے پہلو میں انتہائی پوش علاقے میں قائم ہے اور ہر طرح کے حفاظتی حصار میں ہے گویا اللہ کے گھر کے محافظ شیطان کے گھر کے محافظ ہیں ۔
شیطان کے اس مرکز کو کسی مغربی ملک میں ہونا چاہیئے تھا تاکہ ایک تو اس کو کنکریاں مارنے کیلئے کسی مغربی ملک کا دورہ کرنا ہوتا اور اس بہانے کافروں کو خوب اشتعال بھی دلایاجاسکتا۔اس کے لئے اسپین بہترین ملک تھا جہاں مسلمانوں نے حکومت بھی کی اور اس دوران انہوں نے عجر اسود کو ترکی منتقل کیا تھا توشیطان کے مینار کو بھی منتقل کیاجاسکتا تھا ۔ اگر شیطان کا یہ مینار اسپین میں ہوتا تب میں ایک حج ضرور کرتے
۔ جس طرح سے آج کل شدید بارشوں سے دریا ندی اور نالے بپھرے ہوئے ہیں اور ان میں طغیانی آرہی ہے اورسیلاب لوگوں کو بہا کرلے جارہا ہے عین اسی طرح قربانی کیلئے باندھے گئے "گائو ماتا " بھی بپھرے ہوئے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ایسی ہر دو ویڈیوزکی بھرمار ہے ۔ گائو ماتا لوگوں کو روند رہا ہے اور قربانی سے یکسر انکار کررہا ہے اور ویسے بھی گائے بیل کی قربانی سے مسلمان بھی انکار کردیتے کہ یہ ہندو مذہب میں بھگوان کا روپ ہیں اور سئور جسے کافر بہت پسند کرتے ہیں لیکن مسلمان اسے نجس قرار دیتے ہیں عین اسی طرح مسلمانوں کو گائو ماتا کی قربانی سے بھی یکسر انکار کردینا چاہیئے تھا کہ ہم ہندوئوں کے بھگوان کا گوشت کیسے کھائیں اور جب ہم گائو ماتا کا گوشت کھاتے ہیں تو ہم میں لامحالہ ہندئوئوں والی خصلتیں پیدا ہونا فطری امر ہے ۔
۔ مولوی اکثر کہتے ہیں کہ یہ زندگی چار دن کی ہے ، کسی نے مجھ سے اس کی توجہی پوچھی تو میں نے کہا کہ ہمارے لئے تو فی الحال زندگی ایک دن کیلئے بھی نہیں ، جبکہ مولوی اسے چار دن کی زندگی کہنے پر اس لئے قادر ہے کہ اس کی چار چار بیویاں ہیں ، وہ چار دن تک الگ الگ اہلیہ کیساتھ رہ کر ہر دن کا لطف الگ محسوس کرتا ہے تب ہی وہ اسے چار دن کی زندگی کہہ سکتا ہے جبکہ لونڈے اورلونڈیوں کی بات ہی الگ ہے اگر وہ میسر ہوں تو زندگی کے یہ دن مولوی کیلئے بڑھ سکتے ہیں ۔
۔ پتہ نہیں کیوں جب بھی مادر جات لکھنے لگتا ہوں تو مجھے ہماری ہمسائی کی فیضی تالی بانی ، سنی ، دیو بندی ، ضیاعی ، قلت غذائی ، عمرانی اور غلمانی حکومت کی یاد آتی ہے کہ جس کے آنے کے بعد یہاں کی موجی ، شریفی زرداری ، فضلی موچی اور کھوجی فوجی حکومت بھی کنگال ہوگئی ہے ۔ یہاں کے " فیض " کے بھی کیا کہنے کہ " ہیض "کی حالت میں بھی یہ دل ، شِل ، چِل کرکے گلے ملنے کے عادی ہیں ۔ ان کی فیاضی کے بھی کیا کہنے کہ کابل جا کر چائے کا کپ یوں اسٹائل سے پینے لگا کہ سرحد کے آر پار سب کا " ماہوار " نکل گیا۔ چائے پانی ، منتلی اور مینٹلی سب کچھ ختم ہوکررہ گئی ہے ۔ اب دونوں کشکول لے کر بھی کہیں جاتے ہیں تو انہیں کوئی کوٹا ( طوائف کا کوٹھا) سکہ تک دینے کو تیارنہیں ۔
۔ غلمانی حکومت نے معاشی ابتری کی وجہ خواتین کی بے پردی کو قرار دیا ہے اور جگہ جگہ اعلانات کررہے ہیں کہ خواتین بغیر پردہ کے گھروں سے باہر نہ نکلیں جبکہ ساتھ ہی غلمانی تالی بانی حکومت کے وزیر خارجہ نے یورپی ممالک ، تھائی لینڈ اور سنگارپور کے دورے کی بھی خواہش کا اظہار کیا ہے تاکہ ان ہر دو ممالک سے معاشی پروگرامز پر بات کی جاسکے جبکہ چینی حکومت سے بہتر معاشی تعلقات استوار ہوچکے ہیں جہاں چینی تھائی اور سنگار پوع کی معیشتوں میں میں ان کی پورونو گرافی کا اچھا خاصا حصہ ہے ۔
۔ پچھلے دنوں ایک رپورٹ نطر سے گزری کہ چینی اور جاپانی پورنو گرافی کا ڈیمانڈ عروج پر ہے ۔ میں جب جاپانی چینی اور یورپی پورنو گرافی دیکھتا ہوں تو مجھے ان میں ایک واضح فرق نظر آتا ہے جہاں ہم دیسی مرغی اور برائلر مرغی کو بطور مثال لے سکتے ہیں جہاں یورپی پورنو گرافی میں مرغی دیسی انداز سے پھڑپھڑاتی ہے جبکہ چینی وجاپانی پورنو گرافی میں بیچاری برائلر مرغی کی طرح محض نیچے پڑی " کائے کائے " کرتی نظر آتی ہے ۔ مزے کی بات کہ مجھے تالی بانی اسلامو پورنو گرافی گلی میں دیسی مرغا اور مرغی کا اچانک سامنا ہونے جیسا لگتا ہے جہاں عجلت میں " آف شٹر اوپن اور آف شٹر ڈائون " میں ہی کام چل جاتا ہے ۔ ویسے بھی قندھار میں دکاندار آف شٹر کرکے نماز پڑھنے جاتے ہیں ۔ یعنی دکان کھلی بھی ہے اور نہیں بھی ۔ کرونا لاک ڈائون میں پاکستانی دکانداروں نے بھی " آف شٹر ڈائون آف اوپن" سے خوب کام چلایا ۔ آف شٹر اوپن اور آف شٹر ڈائون والا طریقہ "غلمانی آداب مباشرت" کا بھی حصہ مانا جاتا ہے ۔
۔ مجھے گڈانی میں گنگا نے کہا کہ ہمارے پاس گوروں کی تمام چیزیں آجاتی ہیں ، جنسی سامان بھی لیکن گوریاں کب آئیں گی ؟ میں نے جواب دیا " ہمیں گوریوں کی ضرورت نہیں ہمارے پاس بھی گوریاں ہی ہیں ۔ بس ان پر ڈالا گیا پردہ ہٹانے کی دیر ہے ۔ جس طرح سے منٹو نے کہا تھا کہ "گلیوں میں حسن غربت کی کیچڑ میں سڑ رہا ہے" ۔ قلات اور لیاری کے حسن کو غربت کی کیچڑ سے نکال کر دیکھو تو وہ گوریوں سے زیادہ چمک دمک نہ دکھائے تو پھر کہنا ۔ ہم عضو تناسل کو تراش خراش کرکے اس کا شرم و حیاء خود ختم کردیتے ہیں تب ہمیں عورتوں کو پردہ میں رکھ کر ان کی فطری چینچل پن کو ختم کرنا پڑتا ہے ، گنگو سمجھو یار "عضو تناسل اور سنگم یکساں توجہ کے مستحق ہیں" تب دیکھنا کہ تم گوریوں کو بھول جائوگے ۔
جب میں یہ کہہ رہا تھا تو گنگا ایک انجان خیال میں کھو کر اپنے آپ کیساتھ کسی پرمسرت چئز کا خیال لاکر مسکرا رہا تھا ۔
۔ اس بار حج سب سے بھاری یعنی مہنگا تھا تب میں نے ایک دوست کو کہا کہ تم حج پر گئے ہو تم سب سے مہنگے حاجی ہو ، پہلے والے حاجیوں پر بھاری ۔ اب سستا اور مہنگا حاجی کا امتئاز بھی برتا جائیگا ، قربانی کے ٹھرو بکرے کی مانند سستے حاجی اب کسی کام کے نہیں ۔ اب مہنگے حاجی جب واپس آئیں گے تو دیکھنا کیا وبال کھڑا کرینگے ان کا ٹھرو حاجیوں سے سامنا بڑا دلچسپ ہوگا ۔
۔ ہمارے علاقے گزگ قلات کے سفید ریش ماما عبدل نے پچھلے سال " مارخور " کی قربانی کرکے علاقے کے لوگوں کی مشکل اسان کردی ۔اب سب خلق والوں نے " مارخور" کی قربانی کا فیصلہ کیا ہے ۔ اور واقفان حال کو اچھی طرح پتہ ہے کہ ہمارے علاقے میں " مارخوروں " کی کس قدر بہتات ہے ۔ مادر جات ۔
۔ یہ سطریں میں گڈانی کے ساحل پر اس وقت لکھ رہا ہوں جب میں اور گنگا عید منانے کیلئے گڈانی چھوڑ رہے ہیں ۔ جب میں نے مین سڑک پر گنگا کو الوداع کرتے ہوئے کراچی کی جانب رخ کرکے شیتل کی عبادت کی نیت کرکے ایک " فلائنگ کِس " کیا تو گنگا نے زور سے ایک نعرہ لگایا
" محبت زندہ باد " ❤


0 Comments