Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

میواتی صوفیاء ماضی و حال میں

 میواتی صوفیاء ماضی و حال میں

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں

فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں

یہ تو نے کہا کیا اے ناداں فیاضی قدرت عام نہیں 

تو فکر و نظر تو پیدا کر کیا چیز ہے جو انعام نہیں

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (الجمعة) 

      وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انہیں میں سے مبعوث فرمایا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، اور بے شک وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے۔

وقال النبي صلى الله عليه وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين

عن النعمان بن بشير رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ». متفق عليه[1]

     تصوف و سلوک باریک و لطیف موضوع ہے. 

میں نے جو آیت ذکر کی ہے اس میں منصبِ نبوت کی تین ذمہ داریاں ہیں. جن میں ایک ہیکہ نبی اپنے صحابہ کا تزکیۂ فرماتے ہیں.

تزکیۂ کیا ہے؟

تزکیہ سے مراد انسانی نفوس کو اعلیٰ اخلاق سے آراستہ و پیراستہ اور رذائل سے پاک و صاف کرنا ہے، مختصر الفاظ میں وہ شکل جس کے شاندار نمونے ہمیں صحابہ کرام کی زندگی میں ملتے ہیں جن کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ عاجز ہے.

ہم دیکھتے ہیں کہ زبانِ نبوت ایمان و اسلام کے بعد ایک خاص مرتبہ کا ذکر کرتی ہے اور اس کو احسان سے تعبیر کرتی ہے، جس سے مراد نفس و استحضار کی وہ کیفیت ہے جس کے لئے ہر مردِ مومن کو کوشاں و سرگرم ہونا چاہیے.

تصوف کی اصلاح کا آغاز

تصوف و سلوک اور بیعت و ارشاد کی تاریخ اور اس خاص اصطلاح کے استعمال پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت اس جوہرِ بار گوہرِ لعل کا سرچشمہ کتاب و سنت ہے، لیکن اس اصطلاح کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا اور سب سے پہلے صوفی لقب ابو ہاشم متوفی180 ھجری کو دیا گیا.

شیخ و پیر کی ضرورت

جس طرح ظاہری علوم کو انسان حاصل کرتا ہے اور بامِ عروج کو بالترتيب کشاں کشاں پہنچتا ہے.

ایسے ہی یہ باطنی علوم کے مراتب و منازل رفتہ رفتہ بالتدریج طے کئے جاتے ہیں.

اسی لئے تصوف کو فقہ باطن بھی کہا جاتا ہے.

ظاہری علم کے استاد کی مثل اس علم میں بھی مہارت و مرتبت کے لیے ایک ولئ کامل،شیخ و مربی کی حاجت در پیش ہوتی ہے اور اس کا اصطلاحی نام پیر و شیخ ہوتا ہے. 

style="text-align: center;">تصوف کے ارکان

اسلامی تعلیمات میں محبت الٰہی، مکارم اخلاق اور خدمت خلق کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے، تصوف کی تعلیمات بھی انھیں ارکانِ ثلثہ پر مبنی ہیں.

پیری مریدی

بیعت و ارادت، ارشاد و ہدایت کے سلسلہ کی سنہری کڑی بھی دامنِ نبوت سے وابستہ ہے.

اب یہ صوفیاء کرام اس سلسلہ کو باقی رکھے ہوئے ہیں اور دل کی پاکی، نیت کا صفائی، روح میں تازگی، قلب میں زندگی پہچانے کا نیک وطیرہ اپنائے ہوئے ہیں.

یقیناً اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور نیتوں کی طہارت اس عمل کی قبولیت کی ضامن ہے.

اور خانقاہوں میں اسی مشن کو پورا کیا جاتا ہے.

سالک سلوک کے مدارج اپنے شیخ کی نگرانی میں طے کرتا ہوا اس مرتبہ احسان کو پہنچتا ہے، جہاں دنیا کی حقارت و ذلالت، ہیچ و نیچ، آخرت کی فکر، ملاقات کا شوق پیدا ہوتا ہے.

حقیقت آنکہ عبادات و ریاضات، مراقبات و مجاہدات سے جو عشق الٰہی اور حبِ نبی نصیب کا حصہ بنتی ہے اس میں تو یہی کہا جا سکتا ہے!

نہیں معلوم حد، منزلِ عرفاں کہاں تک ہے

پتہ ہر شخص دیتا ہے، پہنچ جسکی جہاں تک ہے۔

مشیخیت کے سلسلے

مشیخیت و صوفیت کے چار سلسلہ (چشتیہ، قادریہ، سہروردیہ،نقشبندیہ) ہندوستان کے باہر پیدا ہوئے، اور ہندوستان بھر میں خوب ترقی کی اور برگ  و  بار لائے لیکن ہندوستان میں بھی ان کے علاوہ ایسے طرق و سلاسل ہیں جو خود یہیں کی پیداوار ہیں اور جن کی جانب ان کا انتساب ہے وہ مشائخِ عظام یہیں آسادہ خاک ہیں، مثلاً طریقہء مداریہ، طریقہء قلندریہ، طریقہء شطاریہ اور طریقہء مجددیہ، ان طرق و سلاسل  کا فیض بھی اس راہ کے مسافرین و سالکین تک دنیا بھر میں پہنچ رہا ہے.

میوات اور تصوف

میوات کی سرزمین ان اہلِ اصفیاء و اتقیاء کو خوب راس آئی ہے.ہمارا ایمان و اسلام ان درویش مجاہدوں اور بے لوث و بے غرض قلندروں کی رہین منت ہے.

اس موضوع پر جب میوات کے مقبول قلم کار مولانا حبیب الرحمٰن گھاسیڑھ رحمہ اللہ نے خامہ فرسائی کی تو "تذکرہ صوفیاء میوات" کے نام سے 666 صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب عالمِ وجود میں منظر عام پر آئی.

جس میں اکثر صوفیاء میوات کا احاطہ کر لیا گیا ہے. یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد کتاب ہے جو مطالعہ سے تعلق رکھتی ہے.

تصوف کی ضرورت کیوں؟

جتنے بھی اخلاقی امراض اور روحانی بیماریاں ہیں ان کا علاج اس راہ میں وافر مقدار میں موجود ہے

حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ اپنی کتاب تزکیۂ نفس اور تصوف و سلوک میں رقم طراز ہیں " اعلیٰ طبقہ کے لوگ اور عوام تیز ہمہ گیر مادیت، دولت کی اندھی محبت اور دوسرے اجتماعی و اخلاقی امراض کے شکار ہیں، تعلیم یافتہ اور ذہین لوگ (مذہبی تعلیم و ثفافت ہو یا مادی) عہدہ و منصب، حسد و بخل، تکبر و انانیت ،شہرت کی خواہش، نفاق اور مداہنت، مادہ و طاقت سے مرعوبیت جیسے باطنی امراض میں گرفتار ہیں.

اور مزید لکھتے ہیں کہ علماء کا جہاں تک تعلق ہے ان کے وقار و عزت کی مظاہر پرستی اور ظاہر داری، فقر سے ضرورت سے زائد بیجا خوف، آرام طلبی اور عیش پسندی نے بگاڑ دیا اور ان سب کا علاج اس نبوی تزکیۂ میں جس کا قرآن میں ذکر ہے کے سوا کہیں نہیں.

میوات میں موجودہ خانقاہی نظام اور شیوخ

آج بھی شیوخِ طریقت اور راہبرانِ شریعت دلوں کی مسیحائی کا فریضہ بخوبی نبھا رہے ہیں. اور ہر خطہ میں خانقاہیں موجود ہیں. 

اس میں سرِ فہرست حاجی میانجی رمضان صاحب مالب خلیفہ و مجاز شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ ، مولانا سحاق صاحب اٹاوڑی، مولانا اسجد صاحب میل کھیڑلا خلیفہ و مجاز مولانا افتخار الحسن کاندھلوی ، مولانا زبیر احمد باؤلہ، مفتی عبد الشکور گلپاڑہ، مولانا خالد نیاز صاحب نوح،مولانا عبدالسبحان صاحب آلی میؤ ، ڈاکٹر بشیر صاحب ناہر خول مسجد جھر فیروز پور، مولانا سراج الدین صاحب جے سنگھ پور خلیفہ و مجاز داعئ اسلام حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب دامت برکاتہ، ڈاکٹر جمیل صاحب کالاکھیڑہ.  مولانا اسلام الدین صاحب گوالدہ ، مولانا الیاس کوٹ کی مسند کے مکین  فیروز پور نمک. مفتی ابراہیم صاحب سوڑاکا خلیفہ و مجاز مفتی عبدالشكور گلپاڑہ و شیخ الحدیث مولانا اسحاق اٹاوڑی دامت برکاتہم،مولانا اسلام الدین میرپور خانقاہ فیروز پور نمک،مولانا بشیر گھاسیڑھ،میانجی اختر

بھادس،ماسٹر خالد نگینہ،مولانا طاہر نگینہ،حاجی یونس نانگل اونمرہ وغیرہم

مذکورہ حضرات آج بھی طالبین و سالکین کے لئے گوشہء عافیت اور رشد و ہدایت کے روشن چراغ ہیں. جو اپنی ذات سے فیوض و برکات کے دریا بہا رہے ہیں

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی حقیقت و اہمیت سے شناسائی فرمائے اور ان بزرگوں سے کما حقہ فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے. 

 محمد تعریف سلیم ندوی

دبستانِ میوات

میو قوم اور میوات پر نادر و نایاب کتب کلک کریں


Post a Comment

0 Comments