Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

میری سرگزشت مطالعہ اور ذاتی کتب خانہ

 میری سرگزشت مطالعہ اور ذاتی کتب خانہ

میاں جی محمد فاروق خان میواتی (نوح.میوات)ح
حیدر میواتی ندوی

مجھےکہا گیا ہےکہ میں اپنے ذوقِ مطالعہ اور شوقِ کتب اندوزی کے بارے میں کچھ بتاؤں اورنئی نسل کےلیےان کتابوں کے بارے میں بھی نشاندہی کروں جن کا مطالعہ ان کےلیے مفید ہوسکتاہے؛ سو عرض ہےکہ ہمارا خاندان میوات کےتعلیم یافتہ خاندانوں میں شمار ہوتا تھا ، ہمارے پر دادا دھونتالی خان بڑے ملن سار ، تقویٰ شعار اور دین دار آدمی تھے ، اہل اللہ اور علماء سے بڑی محبت و عقیدت رکھتے تھے اور جب کوئی دینی مسئلہ در پیش ہوتا تو ان سے رجوع فرمایا کرتے تھے ، حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی علیہ الرحمہ سے انہیں تعلق بیعت و ارادت تھا ، چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ معلوم کرنے کے لیے دہلی کی لمبی مسافت سائیکل سے یا پا پیادہ طے کرتے تھے اور شاہ صاحب سے وہ مسئلہ معلوم کر کے اطمینان کے ساتھ گھر لوٹتے۔مسائل معلوم کرنے کے لیے دہلی جانا ان کا معمول سا بن گیا تھا۔ ہمارے دادا جناب جہانگیر خان بھی سرکاری ملازم تھے؛ جو متھرا میں اپنی خدمات انجام دیتے تھے ، اسی طرح ہمارے والد گرامی بابو محمد یوسف خان دہلی ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر تھے ، دو چچا تھے؛ جن میں سے ایک ایس ڈی او اور دوسرے فوج میں ملازم تھے۔ ہمارے والد صاحب ملازمت کی وجہ سے اپنے اہل و عیال کے ساتھ دہلی میں اقامت پذیر تھے ؛ اس لیے میری ولادت 1942ء میں دہلی میں ہوئی۔میں نے شعور کی آنکھیں ایک ایسے تعلیم یافتہ اور دین دار گھرانے میں کھولیں , جس میں کتابیں بڑے پیمانے پر موجود تھیں۔ کتابیں خریدنے کا شوق مجھے بھی اپنے والد سے ورثے میں ملا تھا ، وہ مطالعہ کے بڑے شوقین تھے،اردو رسائل و اخبارات پڑھنے کا معمول تھا ، روزنامہ الجمعیۃ دہلی پڑھتے، معروف ماہنامہ ٫الفرقان، جسے مولانا محمد منظور نعمانی علیہ الرحمہ نے بریلی سے نکالنا شروع کیا تھا اسی وقت سے اسے اپنے نام جاری کرا لیا تھا اور اسے پابندی سے پڑھتے تھے مولانا نعمانی کی کتابیں بھی وہ بہت شوق پڑھتے تھے،چوں کہ مولانا بہت عام فہم لکھتے تھے اس لیے بچے خواتین بھی بآسانی پڑھ سمجھ لیتےتھے، مولانا نعمانی سے کسی نے پوچھا کہ آپ اس قدر عمدہ اوربہت عام فہم کیسے لکھ لیتے ہیں؟ تو فرمایا کہ میری اہلیہ معمولی پڑھی لکھی خاتون ہیں، میں جو کچھ لکھتا ہوں پہلے انہیں پڑھواتا ہوں، وہ کہتی ہیں کہ سمجھ میں نہیں آیا تو پھر مزید عام فہم کرکے انہیں پڑھنے کے لیے دیتا ہوں، پھر پوچھتا ہوں،جب وہ کہ دیتی ہیں کہ ہاں اب سمجھ میں آیا ہے تو اشاعت کےلیے دیتاہوں۔ہمارے والد صاحب سرکاری چھٹیاں قصبہ دہانہ (نوح ضلع میوات) میں گزارتے تھے ، جس سے میری تعلیم بڑی متاثر ہوتی تھی، اس لیے والد صاحب نے پھر قصبہ میں ہی سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ، اس طرح باضابطگی سے میں نے گاؤں کے ہی ایک مکتب میں قاری محمد داؤد مرحوم سے قاعدہ بغدادی کے ساتھ قرآن کریم پڑھا۔ان کی صحبت میں رہ کر میرا دینی شعور پروان چڑھا ، دیندار لوگوں کو دیکھتا تو دل بڑا خوش ہوتا ، ان کی مجلسوں میں بار بار حاضر ہوتا ، وہ ذکر و اذکار کرتے یا تسبیحات پڑھتے تو میں بھی ان کو دیکھ کر ان کی نقل کرتا ، چھوٹی چھوٹی دعائیں مجھے اسی طرح یاد ہوگئی تھیں ، تسبیح نہیں پاتا تھا تو ایک ہلکا سا کپڑا لے کر اسی میں 99 گرہیں لگا کر اس پر تسبیحات پڑھنا شروع کردیتا اس طرح مجھے تسبیح پڑھتے ہوئے اور ذکر و اذکار کرتے ہوئے بڑا لطف آتا تھا، مطالعۂ کتب کے بعد یہ بچپن میں میرا سب سے محبوب مشغلہ تھا۔

    مکتب کی تعلیم کے بعد میرا داخلہ میوات کے قدیم 'مدرسہ شیخ موسی' پلہ ضلع میوات میں کرادیا گیا ، جہاں مجھے پیر طریقت مولانا محمد الیاس میواتی ( قصبہ کوٹ ، پلول) اور مولانا عبد الوحید خاں میواتی ( قصبہ مالب ) ایسے صاحبانِ فضل و کمال اور خدا ترس بزرگوں کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا موقع ملا۔ میں نے یہاں فارسی پڑھی اور عربی کے ابتدائی درجات تک تعلیم حاصل کی ، کچھ دنوں کے لیے قصبہ نگینہ کے ایک دینی مدرسے میں بھی زیر تعلیم رہا۔حافظہ اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا دیا ، یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کا فضل ہے. فارسی زبان کی درسی کتابیں تقریباً تمام ہی حفظ ہوگئی تھیں ، اُردو زبان تو میرے لیے مادری زبان کی حیثیت رکھتی تھی ، اس لیے مجھے اردو زبان کی کوئی بھی کتاب ہاتھ لگ جاتی، میں اسے ختم کر کے ہی چھوڑتا تھا ،بچپن میں مولانامفتی کفایت اللّہ دہلوی کی بچوں کے لیے لکھی گئی کتابیں'تعلیم السلام' اور 'جواہرالایمان'، جمعیت علمائےہند کےشعبۂ نشرواشاعت کی شایع کردہ مولانا مقبول احمد سیوہاروی کی پچیس تیس کتابیں جو بہت عام فہم ،دل چسپ تھیں،ان میں خاص طور سے اکابرِ اہلِ سُنّت حضرت امام شاہ ولی اللّہ دہلوی, حضرت سید احمد شہید,حضرت نانوتوی, حضرت گنگوہی, حضرت شیخ الہند, حضرت مدنی وغیرہ کے بارے میں لکھی گئی کتابوں کو پڑھا, نیز اس زمانہ میں مولانا محمد اسحاق واعظ دہلوی کی اسلامی قصص و حکایات پرمبنی منظوم ومنثور بیس بچیس کتابیں معراج رسول، ملت ابراہیم،جلوۂ طور،فسانۂ آدم، بستان اولیا، روز محشر، طوفان نوح،صبر ایوب، اصحاب کہف،قصۂ یونس، قصۂ جرجیس، داستان یوسف وغیرہ بہت زیادہ مقبول تھیں،اکثر گھرانوں میں ان کتابوں کا اجتماعی مطالعہ و تعلیم ہوتی تھی، اسلامی ذہن سازی میں ان کتابوں کا بہت کردار ہے،ان کتابوں کو ہمیں پڑھنا نصیب ہوا, بعد میں جماعت تبلیغ کےاکابر کی کتابیں خاص طور سے حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی کی 'حیات الصحابہ' ، شیخ الحدیث مولانامحمدزکریا کاندھلوی کی کتابیں 'فضائل صدقات' اور فضائل اعمال کے سلسلےکی کتابیں فضایل قرآن، فضایل نماز،فضایل درودشریف فضایل تبلیغ وغیرہ بھی گھروں پر پڑھی جانے لگی تھیں، یہ سب مطالعہ سےگزریں. جیساکہ پہلے عرض کیا کہ کتاب خریدنے کا شوق مجھے بچپن سے تھا۔مجھے ایک مرتبہ والدہ محترمہ نے پھوپھی کے یہاں پاٹن جانے کا حکم دیا اور دو یا تین روپے مجھے کرائے اور دیگر سفری ضروریات کے لیے عنایت فرمائے، دہانہ سے پاٹن خاصی لمبی مسافت پر واقع ہے، میں نے کتابوں کی خریداری کےلیے پیسے بچانےکی نیت سے یہ سفر پا پیادہ کیا ، فیروز پور جھرکہ میں ایک کتابوں کی دکان سے میں نے دس پیسے کی ایک آلہا کی کتاب "ڈھولا کا بیاہ" خریدی اور واپس لوٹتے ہوئے بھی آلہا کی کتاب "عندل ہرن "دس پیسے میں خریدی ، یہ کتابیں میں نے بچپن میں بڑے شوق سے اور مزے لے لے کر پڑھی تھیں۔

جوں جوں میرا دینی اور علمی شعور پختہ ہوتا گیا میرے مطالعے میں وسعت آتی گئی ، میواتی ادبی و تاریخی لٹریچر کےعلاوہ مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا ابوالکلام آزاد ، علامہ سید مناظر احسن گیلانی، چودہری افضل حق اور مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی کتابیں ڈھونڈ ڈھونڈ کرحاصل کیں اورپڑھیں، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کی آپ بیتی 'نقش حیات' ' اسیرانِ مالٹا' اور 'مکتوباتِ شیخ الاسلام' کو بہت شوق سےپڑھا,حضرت مدنی کےمکتوبات کو بہت علم افروز،معلومات افزا اور روح پرور پایا۔مسلک اہل سنت کے دفاع میں امام اہل سنت علامہ محمد عبد الشکور فاروقی لکھنوی، مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوری اور مولانا محمد منظور نعمانی کی کتابیں اور رسالہ 'النجم' لکھنؤ اور الفرقان بریلی زیرِمطایعہ رہے,میں نے خاص طور سے تاریخ وتذکرہ کی کتابوں کو بہت پڑھا,تاریخ کے موضوع پر جوکتاب ہاتھ لگ جاتی میں اسے پڑھ کر ہی دم لیتا تھا۔میں نے تاریخ کامطالعہ بہت گہرائی سے کیا ہے،مولانا سید محمد میاں کی سبھی کتابیں میرے زیر مطالعہ رہیں، مولانامیرے پسندیدہ مصنفین میں سے ایک ہیں, میں طلبہ اور نوجوانوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ مولانا میاں صاحب کی کتاب "علمائےہند کاشاندار ماضی" کا مطالعہ لازمی کریں,مولانا طفیل احمد منگلوری کی کتاب "مسلمانوں کاروشن مستقبل "مجھے بہت پسند ہے۔ میں مشورہ دوں گا کہ اس کتاب کو لازمی پڑھیں, مجھے جوانی میں مجاہد میوات مولانامحمدابراہیم خاں الوری کی خدمت میں بطور خادم رہنے کاشرف حاصل رہا۔ یہ مولاناکا وہ زمانہ تھا جب وہ مرضِ فالج کی وجہ سے چلنے پھرنے سےمعذور ہوگئے تھے۔مولانا چونکہ ذوق مطالعہ رکھتے تھے,اِدھر ہم بھی اس'مرض' میں مبتلا تھے,ایسے میں یہ میرا محبوب مشغلہ تھا کہ میں مولانا کو کتابیں پڑھ کرسناؤں,چناں چہ مجھے اس عرصہ میں بہت کتابیں پڑھنے, سنانے کاموقع ملا۔ اس صحبت کا مجھے بہت فائدہ ہوا۔

  تاریخ کی کتابوں کےکثرتِ مطالعہ کانتیجہ ہےکہ دور نبوی ص سے آزادیِ برعظیم تک کے تقریباّ تمام تاریخی واقعات مجھے نوک زبان ہیں ۔ ایک مرتبہ شوق ہوا کہ دیگر مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے اور ان کے رہنماؤں سے ملاقات کی جائے۔ میں نے مندروں اور گردواروں کا دورہ کیا وہاں میں ان کے سادھوؤں ، سنتوں ، مہنتوں اور پیشواؤں سے ملتا ، ان کے رسوم و رواج اور مذہبی پروگراموں میں شرکت کرتا ، تقریباً میں نے ان کی تمام بڑی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے,وہ بہت تعجب کرتے تھےکہ ایک مسلمان ہماری کتابوں کااس قدر زیادہ مطالعہ رکھتاہے۔ ہندو مذہب کی تقریباً تمام مقدس کتابیں شری وشنو مہا پران ، شری شو مہا پران ، مہا بھارت ، راماین ، سکھ ساغر ، سام وید ، یجر وید اتھروید ، رگ وید میرے ذخیرۂ کتب میں موجود ہیں ,اس شوقِ کتب اندوزی اور ذوق کتب بینی کو میں اپنے اللّہ عزوجل کی سب سےبڑی نعمت سمجھتاہوں, میں نے سکول میں صرف آٹھ جماعت تک تعلیم پائی، میری مدرسہ کی تعلیم بھی تکمیل کو نہیں پہنچ پائی تھی؛ مگر میرے مطالعہ نےمجھےتعلیم کی کمی کا احسان نہیں ہونےدیا۔ میں طلبہ اور نوجوانوں سے عرض کرتا ہوں کہ آپ خود کو مطالعہ کا عادی بنائیں، ابھی سے کتابیں خریدنا اور جمع کرنا شروع کر دیں، یقین کریں مطالعۂ کتب کے بغیر زندگی کوئی زندگی نہیں ہے۔ کتابوں سےدوستی کے ساتھ ساتھ اہل اللہ اور علماء سے بھی تعلق ضرور رکھیں ، ان کی مجلسوں میں حاضر ہوا کریں, اس کے بہت شاندار نتائج وثمرات آپ اپنی زندگیوں میں دیکھیں گے ، مگر میری یہ بات بھی یاد رکھیں کہ تصوف و سلوک کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ آپ کسی بند کمرے میں گوشہ نشین ہوکر بیٹھ جائیں اور اپنے گرد و پیش کے حالات کی کچھ خبر نہ ہو ، آپ اپنے لیے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار کو نمونہ بنائیں ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں کو دیکھیں ، ان کے بعد تابعین تبع تابعین کی حیات طیبہ پر نگاہ ڈالیں ، حضرت سیداحمد شہید وحضرت شاہ اسماعیل شہید کی تحریک کے مجاہدوں کی جانبازی و سر فروشی کی داستانیں پڑھیں ،یہ وہ روشن نقوش ہیں جو آپ کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔آپ ان کی پیروی کریں ، ایسے علماء اور پیر و مرشد حقیقی رہنما اور پیر و مرشد ہو ہی نہیں سکتے جو کسی مسجد ومدرسہ اور خانقاہ میں دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوکر بیٹھ گیا ہو، آپ شیخ الہند مولانا محمود حسن ، مولاناسید حسین احمد مدنی,مولاناعبیداللّہ سندھی اورمولاناابوالکلام آزاد کی زندگیوں پر نظر ڈالیں، ایسے لوگوں کی سیرت وکردار اور جہد و مساعی کا مطالعہ اپنے لیے لازم کریں ، شیخ الہند کی سوانح حیات ٫تحریک ریشمی رومال کی تاریخ پر کتابیں پڑھیں۔ مولانامدنی کی کتاب 'سفرنامہ اسیرمالٹا پڑھیں, مولانا مدنی کی آپ بیتی 'نقش حیات' کا مطالعہ لازمی کریں,ان کے مکتوبات جوچار جلدوں میں دستیاب ہیں,بہت قابل مطالعہ ہیں۔ مولاناابوالکلام آزاد کی کتابیں انڈیاونس فریڈیم (ہماری آزادی) غبار خاطر۔ مسئلہ خلافت, انسانیت موت کے دروازے پر اور افسانۂ ہجر و وصال وغیرہ لازمی مطالعہ کریں.علامہ سید مناظر احسن گیلانی کی سبھی کتابیں خاص طور سے النبی الخاتم, سوانح قاسمی, مسلمانوں کانظام تعلیم وتربیت, دارالعلوم دیوبند میں بیتے دنوں کی یادیں کےمطالعہ سے محرومی گویا قیمتی متاع ہائےبےبہا سے محرومی ہے, ان کےعلاوہ آپ اپنے ذوق کے مطابق بھی کتابوں کا انتخاب کر سکتے ہیں ۔بس یہ چند باتیں ہیں جو اس وقت مجھے یاد آگئی ہیں اور آپ کے سامنے رکھ دیں۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو دین اسلام کی تبلیغ اور اس کی نشر و اشاعت کے لیے قبول فرمائیں آمین یارب العالمین۔

  میرے ذاتی کتاب خانے میں پہلے مختلف موضوعات کی بڑی اہم کتابیں موجود تھیں جنہیں میں نے بڑی محنت اور جاں فشانی کے ساتھ یکجا کیا تھا مگر آج اس میں صرف چند سو کتابیں ہی رہ گئی ہیں ، لوگ آتے ہیں ، منت سماجت کرتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ ہم یہ کتابیں پڑھنے کے بعد لوٹا دیں گے مگر ایسا بہت کم ہوا کہ کسی نے کتابیں لوٹائی ہوں ، میں نے سبھی کو معاف کردیاہے, اللہ تعالیٰ بھی ان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ فرمائے۔آج بھی اس میں ، تاریخ، سیرت وسوانح, تراجم وتفاسیر,حدیث ، تصوف, اور ہندو مذہب کی اہم کتابیں موجود ہیں ، فقہ و فتاویٰ کی بہت سی اہم کتابیں بھی اس کی زینت ہیں۔ رسائل و اخبارات میں الفرقان کے تمام شمارے مجلد صورت میں محفوظ ہیں۔میواتی تاریخ وادب کا بھی بڑا ذخیرہ میرے پاس موجود ہے۔اس وقت بھی الحمدللّہ کتب خانے میں مختلف موضوعات پر تقریباً 500سے زیادہ کتابیں ہیں۔

میری خواہش تو مرنے کے بعد بھی یہی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی زیارت کے بعد جنت میں ایک کتب خانہ عنایت فرمائیں جہاں میں ہوؤں اور کتابیں بس,

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو 

ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں

Post a Comment

0 Comments