Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

حجاب کے متعلق کرناٹکا ہائی کورٹ کا فیصلہ اور سیکولرزم کی حقیقت (1)

 حجاب کے متعلق کرناٹکا ہائی کورٹ کا فیصلہ اور  سیکولرزم کی حقیقت (1)

حجاب کے متعلق کرناٹکا ہائی کورٹ کا فیصلہ اور  سیکولرزم کی حقیقت (1)

بھارت کی ریاست کرناٹکا میں حجاب کے تنازعے میں بالآخر بات ہائی کورٹ تک جا پہنچی کیونکہ کئی درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ میں رٹ درخواستیں دائر کردی تھیں۔ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ معاملہ عدالت میں لے جانے کے بجاے سیاسی طور پر دباؤ بڑھا کر حل کرنا ہی مناسب تھا لیکن میری راے یہ ہے کہ عدالت میں جانے سے بھارت کے آئین کے تحت دیے گئے سیکولر بندوبست کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی جسے بھارت کے بہت سارے مسلمان اپنے دینی شعائر اور تصورات کی حفاظت کےلیے کافی سمجھتے تھے۔ اس فیصلے نے واضح کردیا کہ سیکولرزم کا مطلب مذہبی رواداری نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب مذہب کو غیر مذہبی تصورات اور اقدار کے ماتحت رکھ کر مذہب کو محدود کردینا ہے۔ اس فیصلے نے یہ حقیقت بھی آشکارا کردی ہے کہ سیکولرزم کسی مذہب کو صرف اسی حد تک برداشت کرسکتا ہے جس حد تک وہ غیر مذہبی اقدار کی بالادستی کےلیے خطرہ نہ بنے۔ بہ الفاظِ دیگر، سیکولرزم اپنے فلٹر میں سے گزار کر ہی مذہب کو قابلِ برداشت مان سکتا ہے اور مذہب کا جو حصہ اس فلٹر میں سے نہ گزر سکے، اسے ریاستی جبر کے ذریعے کچل دینا سیکولر بندوبست میں ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی طرح مذہب کی وہی تعبیر سیکولر بندوبست کے تحت قابلِ قبول ہوسکتی ہے جو سیکولر بندوبست کے ساتھ متصادم نہ ہو۔ چنانچہ اس لحاظ سے یہ فیصلہ نہایت خوش آئند ہے کہ اس نے سیکولرزم اور مذہب کے تعلق کی حقیقت واضح کردی ہے۔ 

اس مضمون میں اس فیصلے کے اہم نکات پر مختصر تبصرہ کیا جائے گا، لیکن اس سے قبل اس مقدمے کے متعلق چند بنیادی حقائق پر نظر دوڑانا ضروری ہے۔ 

اس مقدمے میں سات مختلف رٹ درخواستیں دائر کی گئی تھیں: 

ایک درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت سکول اور دیگر حکام کو حکم جاری کردے کہ وہ درخواست گزار خواتین کو کلاس میں حجاب پہننے سے نہ روکے کیونکہ حجاب ان کے مذہب کا لازمی حصہ ہے جس کی حفاظت کی ضمانت بھارت کے آئین میں دی گئی ہے؛ 

دوسری درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ سکول انتظامیہ کے ان افراد کے خلاف انکوائری کروائے جن کی وجہ سے حجاب کا تنازعہ پیدا ہوا ؛ 

تین درخواستوں میں محکمۂ تعلیم کے اس نوٹی فیکیشن کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی جس کی بنا پر حجاب کا تنازعہ اٹھا؛ 

جبکہ دو درخواستیں "عوامی مفاد کا مقدمہ" (public interest litigation) کی نوعیت کی تھیں جن میں ایک میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت قرار دے کہ مسلمان خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت ہے بہ شرطے کہ وہ یونیفارم بھی پہنیں؛ جبکہ دوسری درخواست میں بعض "بنیاد پرست" مسلمان تنظیموں اور جماعتِ اسلامی کے خلاف تحقیقات کی استدعا کی گئی تھی۔ 

(جاری)

Post a Comment

0 Comments