خوجگانِ مہرولی (دہلی) کی انجمن میں
دبستانِ زندگی
صاحبِ تعلیم الإسلام مفتی کفایت اللہ کے مرقدپر
ظفر محل
ظفر محل کے بہترین منقش لکڑی کے ہیکل دروازہ پر جاکر ہماری بائیک رکی، کوویڈ 2019 کے باعث محل کا دروازہ مقفل اور باہر سرکاری نگاہ بان مستعد کھڑا تھا، ظفر محل مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر (1857-1837ء) نے بختیار کاکی رح سے عقیدت و محبت میں یہ جھروکہ محل تعمیر کرایا، جہاں وہ روحانی سکون کے حصول کے لئے یہاں نزیل ہوتے تھے، (دلی کے بتیس خواجہ کی چوکھٹ ص216)
یہ محل لال بلوا پتھر سے بنا محفوظ و مضبوط محل ہے، اس محل میں ایک سفید سنگ مرمر سے "موتی" مسجد ہے، جو موتی کی طرح چمکدار و آب دار ہے، دروازہ پر قبل پڑا ہوا ہے، بس باہر سے تانک جھانک کر سکتے ہیں
آرام گاہ مفتیء اعظم
ظفر محل کے صدر دروازہ پر ہی چند قبریں ہیں اور اسے بھی جالیوں سے محصور کیا ہوا، ہم نے باہر سے ایصالِ ثواب کیا، اس شہرِ خموشاں میں اول آرام گاہ غلام و متحدہ ہندوستان کے اول مفتیء اعظم، مفتی کفایت اللہ رح کی ہے
مفتی کفایت اللہ کون ہیں؟
بھلا بر صغیر میں کون ہے جو ان کے فیض سے بے نیاز ہو؟ بنیادی عقائد و مسائل پر بے نظیر و بے مثال کتاب "تعلیم الاسلام " کے مصنف مفتی مرحوم ہی ہیں
مفتی کفایت اللہ کے آباء و اجداد ملک یمن سے تعلق رکھتے تھے، ایک بار ان کے دادا کی بادبانی کی کشتی تند طوفانی موجوں کی طغیانی کے نذر ہو گئی، جس میں آپ کے دادا چھوٹے سے معصوم کی جان بچی اور بھوپال کا ایک شخص اس بچے کو لے آیا، کچھ مدت بعد اس خاندان نے بھوپال سے نقل مکانی کر شاہجہاں پور میں بود باش اختیار کی،اسی شہر میں حضرت مفتی صاحب کی ١٢٩٢ھ میں ولادت ہوئی، حضرت مفتی صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی اور پندرہ سال کی عمر میں آپ نے مدرسہ شاہی میں تعلیمی سلسلہ مولانا عبدالعلی میرٹھی کی سرپرستی میں جاری رکھا، دو سال بعد آپ دارالعلوم دیوبند تعلیمی تکمیل کے لئے آئے، آپ کے اساتذہ میں شیخ الہند مولانا محمود حسن، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، مولانا منفعت وغیرہ کا اسماء شامل ہیں، ان دنوں آپ کے رفقائے درس مولانا حسین احمد مدنی، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا شفیع دیوبندی (شیخ الحدیث مدرسہ عبدالرب دہلی) اور مولانا امین الدین حاص طور پر نمایاں ہیں.ف
فراغت و تدریس
تعلیمی مراحل کی اختتام پر آپ اپنے وطن مالوف لوٹ آئے، جہاں مدرسہ اعزازیہ میں مدرس طے ہوئے، آپ کے درسی رفیق مولانا امین الدین نے دہلی میں مدرسہ امینیہ کی بنیاد رکھی اور علامہ انور شاہ کشمیری صدر مدرس ہوئے، بعض بر وجوہات علامہ صاحب وطن لوٹ گئے اور مولانا امین الدین صاحب نے اپنے دوسرے رفیق مفتی کفایت اللہ شاہجہاں پوری رح کو بلا بھیجا، حضرت مفتی صاحب مسندِ تدریس پر متمکن رہے، 1920ء میں مولانا امین الدین صاحب کا انتقال ہوا اور اسیرِ مالٹا حضرت شیخ الہند انہیں دنوں رہا ہوئے اور دہلی آمد پر حضرت مفتی صاحب کو مدرسہ امینیہ کا مہتمم مقرر کیا، حضرت مفتی صاحب نے پھر تادمِ حیات مدرسہ امینیہ کی خدمت کی اور اس ادارہ کو اوجِ کمال تک پہنچایا، میوات کے کبار علماء میں اکثر انتساب اسی ادارہ سے ہے، اور اکثریت حضرت مفتی صاحب مرحوم کی فیض یافتہ ہے.
دینی خدمات
حضرت مفتی صاحب نے اپنی حیات مستعار کو دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے وقف کر دیا تھا، آپ کو فقہ میں عبور و درک حاصل تھا، آپ نے مدرسہ عین العلم اعزازیہ شاہجہاں پور میں ہی فتویٰ نویسی شروع کر دی تھی، دہلی منتقل ہونے پر آپ کے فتاویٰ کو سرکاری عدالتوں تک میں دلیل و ثبوت کے طور پر پیش کیا جانے لگا، آپ جمعیت کی راہ سجھائی اور آپ کو صدر منتخب کیا گیا،دفتر مدرسہ امینیہ میں آپ کا دفتر قرار پایا، آپ نے فلسطینی قضیہ کو عالمی سطح پر بلند کیا، اس کے دفاع میں جمعیت کے بینر تلے عوامی تعاون لیا،اس کے لیے مصر مؤتمر فلسطین میں ہند کی نمائندگی کی نیز صاف و واضح موقف اختیار کیا،آپ نے شدھی تحریک، قادیانی شیطنت، اور عیسائی مشنری کا بھرپور تعاقب کیا.
تصنیفات
حضرت مفتی صاحب نے گوناگوں مشغولیات و مصروفیات کے باوجود خامہ فرسائی کی خصوصاً آپ نے فتویٰ نویسی جاری رکھی، آپ کے جمع شدہ فتاویٰ "کفایت المفتی" کے نام سے مرتب کر دئے گیے ہیں.
نیز آپ کی شہرہ آفاق "کتاب تعلیم الاسلام" ہے جو نہایت مختصر لیکن اکثر مدارس و مکاتب میں شاملِ نصاب ہے، نیز دسیوں زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے.
وفات
١٣/ربیع الثانی ١٣٧٣ مطابق 31 دسمبر 1952 رات کو داعیء اجل پر لبیک کہہ کر ابدی نیند سو رہے
آپ کی نماز جنازہ مولانا صعید احمد دہلوی نے ادا کرائی اور تدفین مہرولی میں ہوئی اس طرح خوجگانِ مہرولی کی انجمن کا ایک تابندہ ستارہ ہو گیے
اب ہم بختیار کاکی رح کی درگاہ کے احاطہ میں قدم رنجہ ہوئے
جاری
محمد تعریف سلیم ندوی
Dabistanدبستان

2 Comments
Masha Allah tala
ReplyDeleteBlog post adsens ke liye monatize l
ReplyDeletekab hota he janab