Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

وصل تیرا نہ جھیل پاؤں گا

غزل

تیری آنکھیں ہیں لال،،کافی ہے

تیرا اتنا ملال کافی ہے


وصل تیرا نہ جھیل پاؤں گا

ہجر کی دیکھ بھال کافی ہے


وہ جو داد و دہش کا طالب ہے

اس کے آگے سوال کافی ہے


تیری آنکھیں ہیں لال،،کافی ہے

تیرا اتنا ملال کافی ہے


دل کے پنچھی کو قید کرنا ہے؟؟

ڈال نظروں کا جال،،کافی ہے 


آئینہ کی تباہ کاری کو 

تیرا حسن و جمال کافی ہے


دل پہ کچھ رحم کھا خدا کے لیے

غم نہ اتنا سنبھال،،کافی ہے


وصل تیرا نہ جھیل پاؤں گا

ہجر کی دیکھ بھال کافی ہے


زیست کا منتہاء سمجھنے کو

زندگی کا زوال کافی ہے


کیا سروکار ہم کو اوروں سے

دشتِ دل میں غزال کافی ہے


کیا ضروری ہے سب میں ماہر ہوں

 ایک فن میں کمال کافی ہے


حال مت پوچھ بس خدا لیے

جو کیا تو نےحال،،کافی ہے


سخت سردی کی شام میں مجھ کو

تیری یادوں کی شال کافی ہے


تیرا چہرہ بیان کرنے کو

چاند کی کیا مثال کافی ہے؟؟


"نسیم خان"

Post a Comment

0 Comments