جب پرتگالیوں نے حضورؐ کے جسم اطہر
کو یورپ لے جانے کی کوشش کی
عشقِ رسالت خلافتِ عثمانیہ کے حکمرانوں کے خمیر میں شامل تھا۔ جس کی کئی داستانیں مشہور ہیں۔ آج ہم ان کے ایک ایسے تاریخی کارنامے پر روشنی ڈالتے ہیں، جس سے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔ وہ ہے عثمانیوں کی جان پر کھیل کر روضہ رسولؐ کی حفاظت۔ خلافت عثمانیہ نے جن مغربی قوتوں کے حملوں سے عالم اسلام کی حفاظت کی، ان طاغوتی قوتوں میں ایک پرتگالی بھی تھے۔ عرب خطے پر حملے کے ان کے جہاں اور کئی مقاصد تھے۔ ان میں سے سب سے بڑا مقصد مدینہ منورہ پر قبضہ کرنا اور پھر (خدا کی پناہ) روضہ رسولؐ کو کھول کر نبی کریمؐ کے جسد اطہر کو اپنی تحویل میں لینا بھی شامل تھا تاکہ اس کے ذریعے وہ عالم اسلام کو بلیک میل کرکے بیت المقدس کا قبضہ دوبارہ حاصل کر سکیں۔
پرتگال کے بحری کمانڈر Afonso de Albuquerque نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ مدینہ پر قبضے کا سب سے اہم مقصد پیغمبر اسلام کے جسم کا حصول تھا۔ اسے ہم اپنے قبضے میں لے کر مغرب منتقل کرنے کا پلان بنا چکے تھے۔ عرب خطے پر پرتگالیوں کے حملوں کا آغاز 1514ء میں ہوا۔ یہ حملہ بحری فوج کے ذریعے سے کیا گیا، جس کا سربراہ مذکورہ بالا کمانڈر تھا۔ اس کمانڈر نے پلان بنایا تھا کہ کسی طریقے سے اگر مدینہ اور قبر رسول پر ہمارا قبضہ ہوگیا تو مسلمانوں سے منہ مانگی رقم لینا اور ان سے القدس خالی کرانے سمیت ہر شرط منوانا نہایت آسان ہو جائے گا۔ یہ سوچ کر بحیرئہ عرب کے راستے کئی اطراف سے عرب سرزمین پر حملے شروع کر دیئے گئے۔ اس وقت مسلمانوں کی تین بڑی حکومتیں تھیں۔ خلافت عثمانیہ، مملوک حکومت اور صفوی حکومت۔ ممالیک کی حالت نہایت ابتر تھی اور ان میں پرتگالیوں کے اس طوفان کو روکنے کی ہمت و قوت نہیں تھی۔ اس سے قبل وہ پرتگالیوں سے معرکہ دیو میں 1509ء کو شکست بھی کھا چکے تھے۔ ان کی سیاسی و معاشی حالت بھی بہت پتلی تھی۔ تاہم اس کے باوجود انہوں نے حملہ آروں کو روکنے کی کوشش کی۔ مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ خلافت عثمانیہ نے پرتگالیوں کا راستہ روکنے اور مملوکوں کی مدد کیلئے کئی کشتیاں بھیجی تھیں، لیکن انہیں راستے میں صیلیبیوں سے روک دیا۔ اس لئے پرتگالی بغیر کسی مزاحمت کے بحرین، مسقط اور عدن پر قابض ہو کر حجاز کی طرف بڑھنے لگے۔ عدن سمیت یمن مملوکوں کے زیرنگین تھا۔
دولت صفویہ کو اپنے مسلکی اختلاف کی وجہ سے پرتگالیوں کے حملوں کو روکنے اور حجاز مقدس کو بچانے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر حجاز پر کنٹرول بھی خلافت عثمانیہ کا تھا۔ خلافت عثمانیہ سے صفوی حکمرانوں کا مذہبی اختلاف بھی تھا۔ اس لئے بھی ان سے کوئی توقع نہیں تھی۔ اس وقت خلافت عثمانیہ ہی واحد مسلمان حکومت تھی، جو ان شریروں کا راستہ روک سکتی تھی۔ اس لئے خلافت عثمانیہ عالم اسلامی کی قیادت اور اس کی حفاظت کیلئے خود میدان میں آگئی۔ پہلے ان علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا، جن پر ممالیک کا کنٹرول تھا۔ بلکہ عثمانیوں کے ہاتھوں مملوک سلطنت 1517ء کو ختم ہوگئی۔ سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیم اول نے جنگ مرج، دابق، جنگ ردانیہ میں مملوک سلطان قانصوہ غوری کو شکست دے کر اسے ختم کر دیا۔
مملوکوں کو شکست دینے کے بعد عثمانی پرتگالیوں سے نبرد آزما ہوئے اور ان سے وہ وہ علاقے بھی چھین لئے، جو وہ مملوکوں سے قبضے کرچکے تھے۔ پرتگالیوں سے مقابلے کیلئے عثمانی خلیفہ سلیمان قانونی نے والی مصر سلیمان پاشا کو حکم دیا کہ وہ لشکر لے کر جدہ پہنچ جائے۔ 1538ء میں خلافت عثمانیہ نے 20 ہزار سپاہیوں پر مشتمل 74 کشتیاں لے کر یمن پر حملہ کیا، جہاں پرتگالی قابض ہو چکے تھے۔ خونریز جنگ کے بعد انہیں شکست فاش دی اور ان کے تمام ناپاک منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔
پوری امت مسلمہ کا ترکوں کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے جان پر کھیل کر مسلمانوں کی عقیدت کے مرکز مدینہ منورہ اور روضہ رسول کو بچایا۔ اگر خدا نخواستہ وہ یہ ذمہ داری نہ اٹھاتے اور عربوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے تو مسلمان کسی کے سامنے سر اٹھانے کے بھی قابل نہ رہتے کہ وہ اپنے نبی کے شہر اور روضہ اطہر کی بھی حفاظت نہ کرسکے۔
(حوالہ:1 آسیا الوسطیٰ الغربیة، ص 24، 25 2، الدولة العثمانیة دولة اسلامیة مفتری علیھا (698/2) 3: بدائع الزھور فی وقائع الدھور (142/4) 4: بدائع الزھور فی وقائع الدھور (142/4) 5: التیارات السیاسیة فی الخلیج العربی، صلاح العقاد، صفحة 98)


0 Comments