امام الہند سے مسکان الہند تک
ہند میں مسکان نامی لڑکی کو ہجوم کی جانب سے ہراساں کیے جانے اور اس کی ثابت قدمی و بہادری کے بعد کچھ جماعتی اور تھانوی احباب سید حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالکلام آزاد (رح) کی پالیسیوں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اور دو قومی نظریے کا ڈھول پیٹتے ہوئے مسلم لیگ کی قیادت کو سرخرو قرار دے رہے ہیں.
حالانکہ معاملہ یہ تھا کہ سب مسلم لیگی قائدین بمعہ تھانویوں کے کروڑوں مسلمانوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر کر حکومت سنبھالنے جہاز میں بیٹھ کر کراچی آگئے تھے.
وہ جو کل تک ہند کے مسلمانوں کے واحد نمائندہ تھے جاتے ہوئے کہہ گئے کہ اب یہیں کے فرمابردار شہری بن کر رہو. جو ہلاکو و چنگیز بن جانے کی بات کیا کرتے تھے وہ اپنی کوٹھیاں ہندو سیٹھوں کو بیچ کر گوری بیگمات کے ساتھ یہاں بھاگ آئے..تحریک پاکستان کا ہر اول دستہ وہ علی گڑھ کے لونڈے لپاٹے جنہوں نے پورے ملک میں نفرت کی آگ لگائی تھی وہ کراچی آکر لاٹ صاحب بہادر بن گئے. تھانوی حضرات یہاں آکر شیخ السلام و مفتی اعظم بن بیٹھے.
جونا گڑھ نے الحاق کے بعد مدد کے لئے پکارا تو جنرل اکبر کے کہنے پر وہاں کسی قسم کی مدد نہیں بھیجی گئی. جونا گڑھ کا الحاق پاکستان سے کروانے والے سر شاہنواز بھٹو اور نواب اپنے کتوں سمیت بھاگ کر پاکستان آگئے. دکن کے مسئلے کا پرامن حل نہیں نکلنے دیا اور سودا بازی کرتے رہے جس کی قیمت وہاں کے مسلمانوں نے چکائی اور وہاں کے وزیراعظم میر لائق علی جو امام حسین (رض) کی سنت پر عمل کرتے ہوئے شہید ہونے کی بات کرتے تھے وقت شہادت بھاگ گئے اور نیویارک میں فوت ہوئے
جبکہ ان مسلمانوں کا کیا ہوا جنہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا.. ان مسلمانوں کے زخم پر مرحم سیدی حسین احمد مدنی اور امام الہند نے رکھی. آج جس بہادری کا مظاہرہ مسکان نامی لڑکی نے کیا اس بہادری کا جذبہ اس میں امام الہند کی سیاسی بصیرت سے ہی پیدا ہوا جن کی کاوشوں سے مملکت ہند کا آئین سیکولر ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر کوئی برتر و اعلیٰ نہیں.
تقسیم کے بعد دہلی کی جامع مسجد میں امام الہند کا خطاب پڑھیے اور دیکھیے اسلامیان ہند کی راہنمائی کس نے کی
مولانا ابوالکلام آزاد نے اسلامیام ہند کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا
۔ میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کو ہمارے سِوا کوئی زیر نہیں کر سکتا۔میں نے ہمیشہ کہا اور آج پھر کہتا ہوں کہ تذبذب کا راستہ چھوڑ دو۔ شک سے ہاتھ اُٹھا لو اور بے عملی کو ترک کر دو۔ یہ تین دھار کا انوکھا خنجر لوہے کی اِس دودھاری تلوار سے زیادہ کاری ہے جس کے گھاؤ کی کہانیاں میں نے تمہارے نوجوانوں کی زبانی سنی ہیں۔
یہ فرار کی زندگی جو تم نے ہجرت کے مقدّس نام پر اختیار کی ہے، اُس پر غور کرو۔ تمہیں محسوس ہو گا کہ یہ غلط ہے۔ اپنے دِلوں کو مضبوط بناؤ اور اپنے دماغوں کو سوچنے کی عادت ڈالو اور پھر دیکھو کہ تمہارے یہ فیصلے کتنے عاجلانہ ہیں۔ آخر کہاں جا رہے ہو اور کیوں جا رہے ہو؟
یہ دیکھو۔۔۔ مسجد کے مینار تم سے جھُک کر سوال کرتے ہیں تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہاں گُم کر دیا ہے؟ ابھی کل کی بات ہے کہ یہیں جمنا کے کنارے تمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا اور آج تم ہو کہ یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ دہلی تمہارے خون کی سینچی ہوئی ہے۔
عزیزو ! اپنے اندر ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرو۔ جس طرح آج سے کچھ عرصہ پہلے تمہارا جوش و خروش بیجا تھا۔ اُسی طرح آج تمہارا یہ خوف و ہراس بھی بیجا ہے۔ مسلمان اور بُزدِلی اور یا مسلمان اور اشتعال ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ سچے مسلمان کو نہ تو کوئی طمع ہِلا سکتی ہے اور نہ کوئی خوف ڈرا سکتا ہے۔ چند انسانی چہروں کے غائب از نظر ہو جانے سے ڈرو نہیں۔ اُنہوں نے تمہیں جانے کے لئے ہی اکٹھا کیا تھا۔ آج اُنہوں نے تمہارے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے تو یہ تعجب کی بات نہیں۔ یہ دیکھو کہ تمہارے دِل تو اُن کے ساتھ ہی رخصت نہیں ہو گئے۔ اگر دِل ابھی تک تمہارے پاس ہیں تو اُن کو اپنے اُس خدا کی جلوہ گاہ بناؤ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے عرب کے ایک اُمّی کی معرفت فرمایا تھا۔۔۔
’’جو خدا پر ایمان لائے اور اُس پر جم گئے تو اُن کے لئے نہ تو کسی طرح کا ڈر ہے اور نہ کوئی غم‘‘، ہوائیں گُزر جاتی ہیں۔ یہ صرصر صحیح لیکن اِس کی عمر کچھ زیادہ نہیں۔ ابھی دیکھتی آنکھوں ابتلا کا یہ موسم گزرنے والا ہے۔ یوں بدل جاؤ جیسے تم پہلے کبھی اِس حالت میں نہ تھے۔‘‘
میں کہتا ہوں جو اُجلے نقش و نگار تمہیں اِس ہندوستان میں ماضی کی یاد گار کے طور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہارا ہی قافلہ لایا تھا۔ اُنہیں بھُلاؤ نہیں۔ اُنہیں چھوڑ و نہیں۔ اُن کے وارِث بن کر رہو اور سمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لئے تیار نہیں تو پھر تمہیں کوئی طاقت نہیں بھگا سکتی۔
آؤ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اِسی کے لئے ہیں اور اِس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔
آج زلزلوں سے ڈرتے ہو۔کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔ آج اندھیرے سے کانپتے ہو۔ کیا یاد نہیں رہا کہ تمہارا وجود ایک اُجالا تھا۔ یہ بادلوں کے پانی کی سیل کیا ہے کہ تم نے بھیگ جانے کے خدشے سے اپنے پائینچے چڑھا لئے ہیں۔ وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اُتر گئے۔ پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں آئیں تو اُن پر مسکرائے۔ بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔ صرصر اُٹھی تو رُخ پھیر دیا۔ آندھیاں آئیں تو اُن سے کہا۔ تمہارا راستہ یہ نہیں ہے۔ یہ ایمان کی جانکنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آج خود اپنے ہی گریبان کے تار بیچ رہے ہیں اور خدا سے اِس درجہ غافل ہو گئے ہیں کہ جیسے اُس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔
’’عزیزو ! میرے پاس تمہارے لئے کوئی نیا نسخہ نہیں ہے۔ چودہ سو برس پہلے کا نسخہ ہے۔وہ نسخہ جس کو کائناتِ انسانی کا سب سے بڑا محسن لایا تھا۔ وہی نسخہ تمہاری حیات کا ضامن اور تمہارے وجود کا رکھوالا ہے۔ اُسی کا اتباع تمہاری کامرانی کی دلیل ہے.
سو مسکان نے جو نعرہ تکبیر بلند کیا یہ اسی نعرہ عزیمت کا تسلسل ہے جو امام الہند نے جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بلند کیا تھا

0 Comments