" ہمارا ادیب "قسط (3)
زرک میر
دنیا میں انقلابی اور قومی سیاست کرنے والے سیاست کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی منسلک رہے ہیں کہ یہ سیاست میں گہرے احساسات لے کر شامل ہوتے رہے چاہے وہ سیاست انقلابی ہو یا پھر قومی آزادی و حقیقی جمہوری وانسانی حقوق کی تحریکیں ہوں ، ان کے ہاں سیاست محض میونسپلٹی اور اسٹیبلشمنٹ کی باگ دوڑ سنبھالنے والی سیاست نہیں ہوتی بلکہ یہ پورے نظام کو لپیٹنے اور انقلابی طورپر نیا نظام لانے کا تہیہ کرتے ہیں تب یہ طویل جدوجہد کرتے ہیں ان کی جدوجہد عوامی مزاج کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرتی ہے تب یہ ادب سے الگ رہ ہی نہیں سکتے بلکہ ان کا آغاز ہی ادب سے ہوتا ہے ، جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ لینن ،اسٹالن ، ٹراٹسکی سمیت سوویت یونین کے تمام رہنما بلکہ چے گویرا سمیت تمام سوشلسٹ رہنماء لکھتے بھی رہے ۔ وہ اپنے نظریات کو خود اپنے الفاظ میں واضح کرتے رہے ، اس سے قبل مارکس جو مارکسی نظریہ واضح کرتے رہے اور سیاسی عمل میں بھی شریک رہے ۔ مارکس داس کیپٹل جیسی کتابی صورت میں دیتے رہے ،لینن اسٹالن اور ٹراٹسکی کا بے شمار مواد موجود ہے ( یہ ادب کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں یہ الگ بحث ہے بہر صورت لکھنے کے تمام اصناف عوامی مزاج کا آئینہ ضرور ہوتے ہیں ) جواہر لعل نہرو بھی اپنا اظہار تحریر کے ذریعے کئے بغیر نہ رہ سکے خطوط اور کتاب لکھتے رہے ، ہمیں یہاں یوسف عزیز مگسی ، عبدالعزیز کرد اور عنقاء کے کچھ شاہد نسخے ملتے ہیں جو نامکمل اور ناکافی ہیں ۔
اب اگر آپ لینن پڑھیں تو لگتا ہے کہ یہ بندہ کسی بند کمرے میں تحریریں ہی لکھتا رہا ہے وہ بھی انتہائی باریک فکر ونطریہ پر ۔ جبکہ دوسری جانب اگر ان کی میدان میں عملی جدوجہد پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ انہیں کسی ایک صفحے کی تحریر لکھنے کی بھی فرصت نہ رہی ہو ۔
یوں تو ہمارے پاس بطور حوالہ سیاست اور سیاسی رہنماء ہیں ، سیاسی ومزاحمتی سیاست اور تنظیمیں ، جنرل کا خطاب پانے والے گوریلا رہنماء ، طلباء تنظیم بی ایس او ، سب سے بڑا کر ہمارے پاس بڑے نعرے موجود رہے ۔
ایشیاء کا ایک ہی چی ، کے بی مری کے بی مری ، اوپر اللہ نیچے عطاء اللہ ، شیربلوچستان نواب بگٹی ، بابائے بلوچستان میر بزنجو ، جنرل شیروف ، جنرل اسلم (کچھ آرٹیکلز) لیکن ہمارے پاس ان کی کوئی بڑی تصنیف یا کوئی قابل ذکر مواد یا نسخے موجود نہیں ۔ بی ایس او کے کتنے چیئرمینز رہے جو بے شک اپنا نظریہ تیاگ چکے ہوں لیکن سردار میر اور ٹکری کی طرح اپنے ٹائٹل "چیئرمین " سے کبھی دستبردار نہیں ہوتے ان کی طرف سے بھی کوئی قابل ذکر تنصیف سیاسی یا ادبی نظر نہیں آتی ۔ (دلچسپ تو یہ ہے کہ یہ چیئرمین صاحبان سرداروں میروں اور ٹکریوں کو خوب لتاڑتے ہیں لیکن اگر انہیں کوئی چیئرمین کی بجائے ان کے نام سے پکارے تو وہ سردار سے زیادہ لال پیلے ہوجاتے ہیں )
مارچ 2005 سے قبل نواب بگٹی اور بالاچ مری ڈیرہ بگٹی میں اکثر یکجا ہوتے اور رات دیر تک محفل جماتے ۔ ایک رات محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ، بات چلی سوانح عمری لکھنے کی تو نواب بگٹی نے کہا کہ سوانح عمری لکھنی چاہئے ،بالاچ مری نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے ۔ اسی طرح حبیب جالب بھی مارکسسٹ تعلیمات سے لیس تھے لیکن وہ نہیں لکھتے تھے ، ایک سیمنیار میں ایک مقالہ لکھ کر لائے تھے ،ان کے پڑھنے کے بعد میں نے وہ مقالہ ان سے لے لیا کہ پڑھ کر واپس کردونگا لیکن خیانت کرتے ہوئے وہ واپس نہیں کرسکا ، وہ میں نے پڑھا تو لگا کہ یہ اگر کچھ لکھتے تو بہت سود مند ہوتا لیکن وہ کچھ لکھنے کی بجائے بی این پی کی یونٹ سازی کو ہی زیادہ اہم سمجھتے رہے شاہد مارکسی تعلیمات کا نچوڑ ہی یہی تھا دوسری طرف نواب مری کی بابت بھی یہ خیال کیاجاسکتا تھا کہ وہ کچھ لکھیں لیکن وہ شاہد ہم جیسوں سے بہت ہی آگے کا سوچتے تھے لیکن یہ گمان اس لئے بھی کیاجاسکتا تھا کہ وہ حق توار کے اسٹڈی سرکلز میں کتاب ہی پڑھتے اور دوسرے ساتھیوں سے کتابوں کی بابت کچھ نیا سنانے کا کہتے لہذا وہ کتاب بیزار شخص تو نہیں تھے البتہ خود کچھ نہ لکھنے کی وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ شیرو مری بھی لکھنے کا ہنر رکھتے تھے کہ وہ خود بلوچی ادب سے شغف رکھتے تھے اور شاعری بھی کرتے تھے ۔ اگر افغانستان واپسی پرانہیں اس پرراضی کیاجاتا کیونکہ انہیں سیاست مارکسزم گوریلا جدوجہد عوامی نفسیات سمیت تمام سماجی پہلوئوں پر عبور حاصل تھا وہ لکھتے تو بہت بہتر لکھ سکتے تھے ۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی لکھنے کے حق میں نہیں رہا یا پھر اس کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ اس حوالے سے خان احمد یار خان کی ایک کتاب " میں اور میری قوم ، بلوچ قوم " کے نام سے ہے جو میں نے نہیں پڑھی البتہ اس کے بارے میں بھی یہ کہاجاتا ہے کہ اس کتاب میں خان صاحب سے زیادہ "آغا نصیر احمد زئی کی کاوشیں زیادہ ہیں ۔
سیاسی رہنماء اس لئے بھی بہتر لکھ سکتے تھے یااس کی ہمیں ضرورت تھی کہ وہ عوامی نفسیات کو زیادہ بہتر سمجھ سکتے تھے ،الیکشن عوامی رابطہ جلسہ جلوس اور تقریروں سے لے کر ان کی پوری زندگی سیاست سے عبارت رہی ہے ، کاش کہ ہمارے پاس مری ، بزنجو ، بگٹی ، مینگل اور شیرو جیسے رہنمائوں کا تھوڑا بہت بھی مواد ہوتا تو ہم نیلسن منڈیا کے آزادی کے شاہراہ کی مانند سیراب ہوسکتے تھے ۔
ہمارے پروفیسر صاحب ہمیشہ اس بات پر مضطرب نظر آتے ہیں کہ صدیوں پہلے اللہ داد قلاتی اور ملا حسن براہوئی کو تو کتاب لکھنے کا خیال آیا لیکن درمیان میں ایک بڑاخلیج نظر آتا ہے تاوقتیکہ کہ مکتبہ درخانی کا آغاز ہوتا ہے لیکن ان کا بھی زیادہ کام مذہبی بنیادوں پر ہے ، ہماری تاریخ تک انگریز لکھ کر گئے ، ان کے خیال میں سارا کیا دھرا سیاسی جماعتوں کا باہر کے لٹریچر کا سہارا لینا ہے ۔ مجموعی طورپر اپنا لٹریچر اور اخذ شدہ مواد کچھ بھی نہیں تھا جو قومی فکر کی بنیاد بنتی ۔
دلچسپ صورتحال اس وقت پیش آئی جب نواب مری کے اسٹڈی سرکل میں ایک پارٹی کے قیام کی بابت بحث چل نکلی تو نواب مری نے پارٹی کے منشور کی بابت پوچھا تو اس دن کچھ زیادہ ہی رش تھا اس رش میں سے ایک بزرگ شخص نے کہا" منشور کا کیا ہے پنجاب کے پروفیسروں سے لکھوا لیں گے ،یقینا اس پر ایک زور دار قہقہ پڑا ہوگا اگر نہیں پڑا تو ضرور پڑنا چاہئے تھا ۔گویا ہماری سیاست نے نہ تو یہاں کے دانشور اور ادیب کو کبھی گھاس ڈالی نہ ہی دانشور و ادیب صاحب نے اس بابت اپنی ذمہ داری محسوس کی کہ وہ نہ تو قومی فکر واضح کرسکا نہ ہی کوئی ایسی تخلیق سامنے لائی کہ جس کو سیاسی جماعتیں رہنماء بنالیتی یا پھر وہ عوامی سطح پر اس قدر مقبول ہوتی کہ وہ قومی ادب کا ایک حصہ سمجھا جاتا ۔ یہاں کا دانشور وا دیب اخترمینگل اور ڈاکٹر مالک سے ملاقات کا وقت ملنے کے انتظار میں ہاتھ ملتا رہتا ہے ۔
پروفیسر صاحب ایک دن بڑے تفکرانہ انداز میں گویا ہوئے اور ہمیں ایک کتاب میں چھپی تصویر دکھائی ، تصویر پہلے پہل تو سمجھ نہیں آئی لیکن ہمارے مضطرب ہونے پر کہنے لگے کہ یہ قدیم تہذیبوں کی ایک تصویر ہے جہاں کے مکینوں نے اپنا اظہار دیواروں پر نقش نگارکے ذریعے کیا ہے ۔ ان میں ہندسے الفاظ اور علامتیں بھی شامل ہیں گویا یہ مہر گڑھ اور موہنجوداڑو جیسی تہذیبیں بھی اپنا اظہار کرنا ضروری سمجھتی تھیں اور دیواروں غاروں چٹانوں اور بڑے بڑے پتھروں پر ہی پیغام رسانی کا کام کرتے رہے ۔ یہ دیواریں غار چٹان اور پتھر ان کی کتابیں رہی ہونگی ۔ آرٹ اور فن کے اعلیٰ نمونے بھی وہاں سے ملتے ہیں ، "ڈانسنگ گرل " کی شاہکار موہنجو داڑو سے ملی جو ان کے جمالیاتی حس کی بھرپور ترجمانی کرتی ہے ۔ انسان اپنے اظہارکئے بغیر کبھی نہیں رہ سکتا ۔ ضروری ہے کہ وہ بغیر کسی ملاوٹ کے اپنے احساسات بیان کرے ۔ یہ کہہ کر پروفیسر صاحب خود بھی مضطرب ہوکر کہنے لگے ہمارے ادیب کی بہت ساری اچھائیوں (اچھائیوں کا ذکر بھی اپنے تئیں آگے چل کر کرینگے ) کیساتھ ساتھ یہ مسئلہ بھی ہے کہ وہ بھی ہماری سیاست کی طرح خود باہر کے حوالوں پر زندہ ہے ، وہ کھینچ تھان کر مارکسی لٹریچر کا ترجمہ کرتا رہا جو ضروری تو تھا ، منٹو اور دیگر پاکستانی ادیبوں نے بھی مارکسی لٹریچر کو ترجمہ کیا لیکن خود گنگ نہیں رہے خود اس پر ہی اکتفاء نہ کیا ، منٹو نے چیخوف کے کوچوان پر انحصار نہیں کیا بلکہ " نیا قانون " (افسانہ ) کو اپنے مزاج اپنے رنگ اور اپنے حالات کے مطابق لکھا ، ہمارے ادیب کے ہیروز " ہومر اور چے گویرا تو رہے لیکن وہ " وقت کے ریکی ، ملا مزار کے ہومر ، پابلو نرودا اور بنی بنگلزئی کے چے گویرا بننے کی صلاحیتوں کو پرکھنے پر کبھی آمادہ نہ ہوا اور نہ ہی خود ٹالسٹائی گورکی اور سارتر بننے کیلئے کبھی ڈوب کر درد لکھا ۔
(بڑے نامور ادیبوں کی سیاسی پارٹی میں شمولیت آج پھر سے رہ گئی ،اگلی قسط میں اس پر پروفیسر صاحب کے زریں خیالات کی روشنی میں کچھ لکھیں گے )
جاری ہے

0 Comments