صاحب سفر و صاحب تبصرہ پر بات کرنے سے قبل
مختصراً میو قوم و علاقہ میوات پر نظر ڈالتے ہیں, ہم میوات کی تاریخ کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں اول 1947سے پہلے کی
دوسری اس کے بعد کی تاریخ
سر زمین میوات بڑی پرکشش اور جاذب نظر رہی ہے, اور اسے گو شاہی شکوہ و طمطراق میسر نہیں ہوا, نہ نوابی طنطنہ اور نہ حاکمانِ وقت کا عشرت کدہ بن سکی. مگر یہاں بڑوں بڑوں کے سرنگوں ہوئے ہیں, بادیہ نشیں قلندروں کی گزرگاہ یہی سرزمین میوات بنی؛ اس سرزمین نے اولیاء اکرام کو بھی اپنی گود میں پالا اور پھر انہیں سوارا اور سنبھالا؛ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری جب ایمان و یقین کے ابر گوہر بار کو لیکر وارد ہندوستان ہوئے, تو ان سے فیضیابی اولً اور اصالتاً اسی سرزمین کا حصہ اور اسی کا مقدر بنی؛ یہاں کی عوام کی تشنگی کو محسوس کرکے آپ نے اجمیر کو اپنی قیام گاہ بنایا,
اسی طرح مسعود غازی! بومحمد چشتی! ابوالحسن کرخانی! عثمان ہیرونی,ناصرالدین محمود, غیاث الدین بلبن, فیروزشاہ تغلق, خاندان سادات, بہلول لودھی, سلیم شاہ سوری, اور مغل شاہ.
شاہ ولی اللہ کی دادی کےدادا,نجم الحقؒ، اور شیخ موسیٰؒ بہت سے علماء صلحاء کا یہ سرزمین مسکن بنی,
مختصر یہ کہ علم و اہل علم حضرات کا اس سرزمین سے گہرا تعلق رہا, زیادہ تاریخ بیان نہ کرتے ہوئے,
ایک بات عرض کرتا چلو کہ تاریخ لکھنے والوں نے اس قوم کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیا!
یہی وجہ ہیکہ قرون وسطیٰ کے Medieval period کے تمام فارسی و ھندی تاریخی کتابوں اور برطانوی دور حکومت میں لکھی جانے والی Colonial Record کتابوں میں, لفظ میو کو ڈاکو غنڈہ اور بدمعاش کے مترادف استعمال کیا گیا اور کسی نے چور لٹیرا جنگلی لکھا ہے, (طبقات ناصری) اور (تاریخ فیروز شاہی) میں, دونوں مورخین نے میوات کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے, میوات جن کی اکثریت زیادہ تر دارالحکومت "دہلی" کے آس پاس آباد تھے جس کی وجہ سے انہوں نے رہزنی و غارت گری سے, دہلی اور اس کے نواحی علاقوں کا امن و چین و غارت کر رکھا تھا, ان کو خوف سے شاہ راہیں غیر محفوظ اور نواح دہلی کی بستیاں بھی بے چراغ ہوگئیں تھی,خود دارالحکومت بھی ان کی غارت گری سے محفوظ نہیں تھا, کیونکہ میواتی لوگ شہر کے اندر گھس جاتے اور قتل و غارت کر کے جنگلات میں جا کر چھپ جاتے اور انہیں کے خوف سے دلی کے دروازے شام سے پہلے ہی بند کردئے جاتے تھے, (فرشتہ کے مطابق) "اور عصر کی نماز کے بعد کوئی آدمی قبرستان تک بھی جانے کی ہمت نہیں کر سکتا"
دراصل سرکار سے وظیفہ لینے والے درباری تاریخ نویس اپنے آقاؤں سے ٹکرانے والے میواتیوں کے لیے ان سے انہی الفاظوں کی امید کی جاسکتی تھی, اس لیے درباری مورخین میواتیوں کے تاریخی کارناموں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور ان کے اصل کارناموں کو تاریخ سے مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی, چور ڈاکو غنڈہ سورماوں کی شکل میں اس قوم کے حالات پیش کیے گئے,
کیوں کہ درباری تاریخ نویسوں نے غیرملکی راجہ مہاراجاؤں پرچھاپہ مار جنگی مہارت کو لوٹ مار اور ڈاکوں کا نام دیا ہے حالانکہ جن راجہ مہاراجاؤں نے ہماری جدی و پشتی ملکیتی زمین اور جاگیروں کو ضبط کیا, جنہوں نے لاکھوں میواتی ہلاک کئے, جنہوں نے میواتیوں کے گاؤں کے گاؤں جلا کر راکھ کر دیے, جنہوں نے میواتیوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا, بعض کی کھال کھنچوادی ہوں ایسے ظالم و جابرو سرکش حکمرانوں کو عادل و انصاف پسند اور ایسی مظلوم قوم کو سرکاری مورخین چور ڈاکو جیسے الفاظ سے تعبیر کیا ہے, مگر حقیقت میں یہ قوم جفاکش و بہادر اور دیش بھگت تھی جنہوں نے کبھی بھی غیر ملکی حکومت کو برداشت نہیں کیا, اس لئے یہ غاصب حکمرانوں کا بسا اوقات مال و متاع لوٹ لیا کرتے تھے مگر نچلی سطح کے لوگوں سے انہوں نے کچھ نہیں کہا کسی غریب آدمی کو کبھی نہیں لوٹا کسی غریب آدمی کے ساتھ چھیڑ تک نہیں کی اس لیے تاریخ کے اوراق ایسی مثال بیان کرنے سے قاصر ہے,
مگر افسوس صد افسوس جس قوم نے مادر وطن کو غیروں کی غلامی سے بچانے کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہوں, سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھایا ہو اس کے باوجود اس قوم کے ہیروز کا ذکر کرتے ہوئے تاریخ دانوں نے نہایت ہی بخل سے کام لیا ہے حالانکہ ایسے قوم کا ذکر تاریخ کے سنہری الفاظ سے لکھنے کے قابل تھے, مگر ان کے واقعات کو بالکل فراموش کر دیا گیا,
اب آتے ہیں سن 47 حالات پر, جب ملک تقسیم ہورہا تھا سب سے زیادہ میوات مظلومیت کا شکار ہوئی, اس قوم کو برباد کردیا گیا, غیر تو غیر اپنو نے بھی اس قوم پر وہ مظالم کئے جو بیان کرنے سے قاصر ہیں ایک بات بتاتا چلوں کہ اس قوم کو تعلیم سے دور رکھنے میں بادشاہوں اور انگریزوں کا ہاتھ زیادہ تھا اس قوم کو تعلیم کی طرف آنے ہی نا دیا ، لیکن اس کے باوجود اس قوم میں بڑے اہل علم حضرات نے جنم لیا,مولانا وحید الدین خاں صاحب کا یہ سفر 1970 کئ دہای کا ہے خاں صحاب کو سفر کرانے والے مولانا عبد الرحیم بڈیڈوی تھے اکثر اسفار خاں صاحب نے بڈیڈوی کے ہمرا کئے کیونکہ مولانا عبد الرحیم صاحب جمعیت کے صوبائ صدر تھے تو مولانا خاں صاحب کو ان ہی علاقوں کا سفر اکثر کرایا گیا جو مظلومیت کی وجہ سے ابھی تک پسماندہ تھے خاں صاحب ان گاؤں کے بڑے لوگوں سے بات کرتے اور عوم کے درمیان خطاب فرماتے تاکہ یہ ترقی کرسکیں,
رہی بات آپ کے تبصرہ کی,
کتاب پر آپکا جامع تبصرہ تھا صاحب کتاب اور صاحب تحریر دونوں میوات کے مستقبل کے لئے پریشاں ہیں,
لیکن آپ کا تبصرہ خاں صاحب کے سفر نامہ سے زیادہ یہ تأثر نظر آتا ہے کہ میو قوم ہمیشہ سے جہالت کی شکار رہی آپ نے اتنے الفاظ استعمال کئے کہ خاں صاحب نے بھی نہیں کئے باقی اللہ آپ دونوں کو جزائے خیر عطاء فرمائے,
میو قوم اور میوات پر نادر و نایاب کتب کلک

0 Comments