ہمارا ادیب (2)
زرک میر
ایسا لگتا ہے کہ قلات ہمارے وطن کا روم ہے اور شال (کوئٹہ) برطانیہ ، قلات جہاں سے سیاست ادب اور اختیار وحکمرانی سب شال کو منتقل ہوچکا ، حکمرانی سیاست اور پہلی ادبی کتابوں کے حوالے سے قلات ہی مرکز رہا بعد میں سب کچھ شال کا ہوکر رہ گیا عین برطانیہ کی مانند جہاں نشاط ثانیہ کا ظہور ہوا گویا ہمارے قلات کے پروفیسر ہمارے سقراط افلاطون اور ارسطو قرار پائے لیکن جان لاک ، مارکس تو شال میں ہی پیدا ہوتے گئے چنانچہ ہم بھی اعلیٰ تعلیم کیلئے اپنے گائوں سے قلات اور پھر قلات سے شال آئے تاکہ کچھ علم حاصل کرسکیں ۔ گو کہ کچھ خوش قسمت اعلیٰ تعلیم کیلئے واقعتا قلات نوشکی اور شال سے لینن گارڈ تک چلے گئے ۔ سچ پوچھیئے ہمیں تو علم سے زیادہ دنیا دیکھنے کی چاہت تھی ۔ سو شال آگئے تو ہمارے بڑے بڑے ادیب بھی ہمیں شال میں ہی ملے ، سیاست کے نپولین جیسے کردار اور شیکسپیئر کے موافق ڈرامہ نگار ، مارکس ، لینن سارتر اور فینن جیسے عظیم انقلابی فلسفی ادیب اور دانشور بھی شال میں ہی ملے ۔ جو تھے بس وہی تھے ، جیسی قوم ویسے ادیب اور دانشور اور ویسی ہی سیاست و انقلاب کی بات تو میں نہیں کرسکتا کہ یہ سوچنے ، رہنمائی کرنے اور فکر دینے کا کام کرنے والے قوم سے بحیثیت مجموعی کچھ الگ ہی ہوتے ہیں اور ہونے ہونا بھی چاہئے لیکن ہمارے ہاں "کچھ ہی" الگ پائے گئے لیکن وہ بھی فکری کم طبقاتی زیادہ ۔ حالانکہ یہاں فضاء ہمیشہ سے بے چین رہی ، سیاست اور ادب کیلئے زرخیز رہی ، قوم نے حصہ بقدر جثہ ضرور سمیٹا لیکن بہت کم سمیٹا ۔ یہاں منٹو کے " کھول دو " سارتر کے "دیوار " میکسم گورکی کے "ماں " چیخوف کے "کوچوان" جیسے شاہکار تخلیق ہونے چاہئے تھے ۔
ایک طرف ہمارا پورا وطن بلوچستان تو دوسری طرف شال اور پھر شال میں یونیورسٹی کا قیام اور پھر یونیورسٹی اور ادب لازم وملزوم نظر آتے ہیں یہاں ایک بات حیران کن انداز میں سامنے آتی ہے کہ ہمارے سرکاری ادبی آسامیوں پر اکثر ادیب ہی تعینات ہوتے رہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یونیورسٹی میں ہمارے نامی گرامی ادیبوں نے کام کیا اور کررہے ہیں ، باقی ادیب بھی اکیڈمیوں اور تنظیموں میں رہے یا پھر اپنے ذوق سے ہٹ کر دیگر محکموں میں ملازم رہے افسر رہے اور ہیں ، اب بعض ادیبوں نے "ہمارا ادیب " کی پہلی والی قسط پر کچھ خفگی کا اظہار کیا کہ سرکاری ملازمت ادیبوں کیلئے شجر ممنوعہ کیوں؟ اور پھر ازدواجی زندگی پر سوال کیوں ؟ میں نے عرض کیا کہ نہ تو سرکاری ملازمت شجر ممنوعہ ہے نہ ہی ازدواجی زندگی ، بلکہ میں نے تو اتنی سی عرض کی ہے کہ ہمارا ادیب ایسا کیوں نہیں سوچتا ۔ اس کے لئے میں نے ان کے سامنے انیسویں صدی کے جرمن فلسفی شوپنہار کی ایک عجیب عادت کی بات رکھی کہ وہ عام طور پر انگریزی طعام خانوں میں کھانا کھاتا تھا۔ اس دوران وہ جیب سے سونے کا ایک "سکہ" نکال کر میز پر رکھ لیتا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد یہ سکہ اٹھا کر واپس اپنی جیب میں رکھ لیتا۔ ایک روز کسی دوست نے پوچھ لیا کہ ہر روز یہ سکہ میز پر رکھنے اور پھر اسے واپس اٹھانے کی وجہ کیا ہے؟ شوپنہار نے اپنے مخصوص جلے کٹے لہجے میں جواب دیا کہ میں نے خود سے عہد کر رکھا ہے کہ جس روز کھانے کی میز پر کسی انگریز کو گھوڑوں، کتوں اور عورتوں کے سوا کسی اور موضوع پر بات کرتے سنوں گا، یہ سکہ کسی بھکاری کو خیرات کر دوں گا۔ میری یہ شرط کبھی پوری نہیں ہوئی۔ انگریزوں کو ان تین موضوعات کے سوا کسی اور معاملے میں دلچسپی ہی نہیں "
میں نے کہیں پڑھا کہ میکسم گورکی کہتے ہیں کہ یہ گلی کوچے تھڑے اور ان پر پڑے لوگ ان کی سوچ اور طرز زندگی میری یونیورسٹیاں ہیں میں یہاں سے سبق لیتا ہوں ۔ یقین کریں ہمارے قلات کے پروفیسر ہمیں کہتے رہتے کہ ہوٹل میں جاکر آپ کچھ عجیب وغریب اور دلچسپ سیکھ سکھتے ہیں جو آپ یونیورسٹی میں سیکھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ہوٹل میں آشکار اور بکھرتے احساسات تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل ہی نہیں ۔
اب ایسا بھی نہیں کہ ہمارے ادیب ایسا تحقیقی کام نہیں کرتے ، بالکل اچھا تخلیق ہورہا ہے ، اچھے ادیبوں کی کمی بھی نہیں ، ایک براہوئی ڈرامے میں میں نے ایک کریکٹر دیکھا جس کو " پوتی پٹ" کا نام دیا گیا تھا (رائٹر کا نام یاد نہیں) جو ہوٹل میں بیٹھ کر لوگوں کی راز جوئی کرتا رہتا ہے ، اداکاری پرویز نے کی ہے اور بہت خوب اداکاری نبھائی ہے ، گوکہ یہاں شوپنہار کی طرح کسی ادیب کو بٹھا کر دکھایاجاتا لیکن رائٹر نے معاشرے کی عین عکاسی کرتے ہوئے کسی " راز جوئی " کرنے والے کو دکھایا اگر ہمارا ادیب شوپنہار جیسے ہوتا تو شاہد رائٹر کسی ادیب کو بھی ایسا ہی دکھاتا کہ ادیب معاشرے کی عکاسی کیلئے اپنے موٹے شیشے والی عینک کا زوایہ کہاں کہاں نصب کرکے لوگوں کو دیکھتا ہے پرکھتا ہے اور معاشرے کی تصویر بناتا ہے ۔
(سردست ہمارا ادیب تو ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی عینکوں کا زوایہ کسی ملک گیر بے نام بلوچ پارٹی کے سربراہ کیلئے بچشم راہ مرکوز کردیتا ہے ( بھیڑ چال کی مانند حالیہ ادیبوں ودانشوروں کی سیاسی شمولیتیں آگے چل کر زیر بحث آئیں گی)
میں کبھی کبھی براہوئی ادب اور ہمارے وطن سے متعلق اردو میں لکھی گئی کتابیں پڑھتا ہوں تو ان میں روایتی قصوں کہانیوں اور عمومی زوایئے سے چیزوں کو دیکھنے کے علائوہ کچھ بھی نہیں اور پھر تحریروں میں رومانویت کا رنگ زیادہ اور گہرا ہے اور پھر ہمارے ادیبوں کے پاس کینوس بھی ایک ہی ہے وہ خوش قسمت کینوس بولان یا پھر چلتن ہے کہ شاعر بھی بولان کو تختہ مشق بنا لیتا ہے تو نثر نگار کی نظریں بھی بولان یا پھر چلتن پر جمی ہوئی ہوتی ہیں ۔ باقی وطن محو ہے ۔
ہمارے قلات کے پروفیسر صاحب ایک دن عالمی ادب کی ایک کتاب لائے جس میں کافکا سے متعلق کچھ تھا ، کتاب کے بارے میں زیادہ تو انہوں نے کچھ نہ کہا لیکن فقط اتنا کہا کہ کافکا نے لکھا ہے کہ " ملازمت ایسی ہی ہے کہ بندہ اپنے قبر کے کتبے کیلئے پیسے جمع کرتا رہے " اس پر ایک دوست نے برجستہ کہا " تو پروفیسر صاحب آپ کے کتبے کے باقی کتنے پیسے بچتے ہیں ؟ پروفیسر سمیت ہم سب نے ساتھ قہقہ لگایا ، اس کے بعد پروفیسر صاحب نے اپنی جیب سے ایک "سکہ" اچھال کر ہوٹل کے چادر سے بنے ٹیبل پر پھینکا جو ایک پھٹے ہوئے ڈھول کی مانند آواز کرتا ٹیبل پر گھول گھول "رقص بسمل " کرتے ہوئے گر گیا جو ریاست قلات کے کرنسی کا زنگ آلود سکہ تھا جس پر وقت کے بے رحم تھپیڑوں کے نشانات واضح طورپر دیکھے جاسکتے تھے ، ہم نے حیرانگی سے سکہ کو دیکھا اور پھر پروفیسر صاحب کو دیکھنے لگے ، انہوں نے ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ انتہائی دانشورانہ انداز میں پیشانی میں شکنیں لاتے ہوئے کہنے لگے "آج اگر یہاں لوگ سیاست ادب اور عشق کے بارے میں گفتگو کریں تو میں یہ سکہ دان (خیرات) کردوں ، ایک دوست نے میرے منہ کی بات چھینتے ہوئے کہنے لگا " پروفیسر صاحب اول تو یہ سکہ اب رائج الوقت نہیں رہا دوئم اگر یہاں کے لوگ سیاست اور ادب کی بابت سوچتے تو یہ سکہ آج بھی رائج الوقت ہوتا ، روپیہ بنتا اور آج کل ڈالر سے اپنا موازنہ کررہا ہوتا ، ایک دفعہ پھر سے ہمارے ٹیبل سے قہقہ بلند ہوا ، لیکن میں نے فورا کہا " پروفیسر صاحب اس سکے کو فورا دان کردیجیئے کیونکہ کم ازکم ہمارے ٹیبل پر تو سیاست ادب اور عشق کی باتیں ہورہی ہیں نا ، تیسرا قہقہ پڑا لیکن نسبتا ایک خاموش طبیعت دوست بول اٹھا " دان تو کیجیئے پروفیسر صاحب لیکن اس سکے کیساتھ رائج الوقت دس روپے کا نوٹ ساتھ میں دیتے ہوئے دان کیجیئے گا ورنہ دوبارہ سے ہماری طرف اچھال دیاجائے گا ،چوتھا قہقہ پڑتے ہی سارا ہوٹل ہماری طرف متوجہ ہوگیا ۔
پروفیسر صاحب چلنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے اور گویا ہوئے " مایوسی کی بات نہیں ، میکسم گورکی کی یونیورسٹی یہی کہیں قلات میں ہی ہے ۔
یہ کہہ کر انہوں نے "سکہ " اپنی جیب میں ڈالا اور ہم ہوٹل سے نکل گئے ، باہر بازار کے تھڑوں پر جمع غفیر جمع تھی جواپنے دکھ درد اور زخموں کے علاج کیلئے ہربوئی کی پہاڑی جڑی بوٹیاں خرید رہی تھی ۔
(جاری ہے)

0 Comments