Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

تریپن(53)سال تکبیر اولی کا پابند داعی

تریپن(53)سال تکبیر اولی کا پابند داعی

 مولانا جلال الدین رح میواتی ، ایک مخلص، مسافر داعی

پیدائش و ابتدائی تعلیم

 مولانا جلال ملک ہند کی تقسیم سے قبل فریدآباد ضلع کے گاؤں کلیاکی میں پیدا ہوئے، دعوت و تبلیغ کی ابتداء ہو چکی تھی اور دینی تعلیم کا بھی رجحان ہو چلا تھا، لہٰذا اس ولد سعید کو بھی دینی تعلیم کے حصول کا موقع میسر آیا، آپ اپنے ماما منشی بشیر ننگلی (نوح) کے پاس زیر تعلیم و تربیت رہے، انہوں نے بغدادی قاعدہ کے ساتھ اس معصوم بچے کی تربیت پر خاصہ دھیان دیا.

رسمی تعلیم اور فراغت

قرآن کی حفظ کے لیے اس وقت کے واحد تعلیمی و تبلیغی مرکز مدرسہ معین الاسلام نوح میں مدرسہ ہذا کے نامور استادِ حفظ حافظ عبدالسبحان کے حوالہ کر دیا،آپ نے حفظ کے معاً بعد عربی درجات کی مختصر تک تعلیم مدرسہ ہٰذا میں ہی مکمل کی، پھر آپ علیاء تعلیم کے حصول کی خاطر مرکز نظام الدین اولیاء کی مسجد بنگلہ والی میں واقع مدرسہ کاشف العلوم کے طالب علم ہوئے، آپ نے حضرت جی ثانی مولانا یوسف کاندھلوی رح کی شاگردی اختیار کی، سن 1957ء میں آپ رسمی علوم سے فارغ ہوئے.

میدانِ عمل میں

فراغت کے بعد حسبِ دستور آپ نے اپنا رسی حضرت جی کے سپرد کی دی تھی، حالانکہ آپ رشتہء ازدواج سے 1952ء میں منسلک ہو چکے تھے، لیکن جذبہء تبلیغ و اطاعت شعاری کا غلبہ پر نفسانی چاہت و خواہش پر بھاری ہو چکا تھا، اس نو خیز عالم نے اپنی زندگی کو سنت و شریعت کے سانچے میں ڈھال دیا تھا، ہر کام سے پہلے رب کا کام، ہر نام سے قبل الہ کا نام پیشِ نظر رہا.

اسی بابت ایک سال کی ترتیب میں انہیں سن 1960ء میں ملکِ شام دعوت و تبلیغ کی مہم جوئی میں بھیجا گیا، پھر حضرت جی کے مشورہ سے ہی آپ نے 1963ء میں حجازِ مقدس سفرِ تبلیغ پر روانہ ہوئے، کچھ مدت بعد آپ کو مدرسہ صولتیہ میں استاد مقرر ہوئے اور مدرسہ کے مہتمم مولانا سعید خاں مکی کے دست و  بازو بنے رہے کہ بالآخر چھ ماہ بعد آپ واپس دہلی لوٹ آئے، اس وقت حضرت جی کے پاس میوات کے چھائنسہ اور ملک مصر سے دو وفد ایک معتمد و مخلص داعی و عالم کے خواہاں ہوئے، حضرت جی نے سوجھ بوجھ اور غور و فکر کے بعد میوات والوں کو یہ کہتے ہوئے مولانا کو سپرد کیا کہ" جلال تم میرے بیٹے ہو، جی لگا کر دعوتی ذمہ داریاں سنبھالنا اور ہمیں جب بھی ضرورت ہوگی تم کو بلا لیں گے".

خصوصیات و امتیازات

مولانا نے دعوت و تبلیغ کی خاطر دنیا بھر سفر کئے اور مہاجر بن کر زندگی بسر کی، مولانا ایک مخلص داعی، شب زندہ دار، عبادت گزار، عاشقِ رسول عالمِ دین تھے، آپ کی تکبیرِ اولی پر اس درجہ مواظبت تھی کہ تریپن سال تک تکبیر اولی فوت نہیں ہوئی، آپ نہایت جفاکش، ایثار و قربانی والے جوانمرد داعی تھے.

دعوتی اسفار

حضرت مولانا نے تبلیغی جماعت کے ہمراہ حجاز، شام، بنگلہ دیش، پاکستان، افریقہ، تھائی لینڈ جیسے مختلف ممالک کے اسفار کئے.

عشقِ رسول

پیارے حبیب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ہر ایک مؤمن محبت کرتا ہے اور یہ تکمیلِ ایمان کی علامت ہے، لیکن بعض ایسے عاشق زار، نبی کے دلدادہ و فریفتہ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی اس عارضی حیات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو خواب میں دیدار سے مشرف ہوتے ہیں،مولانا مرحوم نے اٹھارہ بار پیارے حبیب کی زیارت کی، حتیٰ کے ایامِ علالت میں وفات سے سات روز قبل آپ نے خواب حضور پر نور کی زیارت کی، یہ ہر ایک سنت پر عمل آوری کا نتیجہ تھا.

دستک کی تو ہر اک کو اجازت ہے لیکن

کھلتا نہیں ہر اک پہ در یار ، خبردار۔۔۔

ہے عشق کے روزے میں فقط لذت سحری

تا عمر نہیں صورت افطار ، خبردار۔۔۔

مدرسہ شمس العلوم چھائنسہ

آپ نے اپنی جائے ولادت کلیالی (دھوج، فریدآباد) کو ترک کر، چھائنسہ (ہتھین،پلول) میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی، یہیں آپ نے ایک تعلیمی ادارہ کا ارادہ کیا، لیکن جب مذکورہ ادارہ کی سنگ بنیاد رکھی جا رہی تھی، اس وقت مولانا تھائی لینڈ کے تبلیغی دورہ پر تھے، اب بھی سو کے آس پاس طلبہ زیر تعلیم ہیں.

اولاد و ورثاء

   حضرت مولانا کے تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں، لڑکوں میں دو عالم اور ایک حافظ ہیں.

بڑے فرزند اپنے والد کے مقام پر امامت کا فریضہ نبھا رہے ہیں، ان سے چھوٹے مولانا عمار صاحب مدرسہ کی ریکھ دیکھ میں مشغول ہیں.

آپ کے رفقائے کار

مرحوم مولانا افضل ڈھینکلی، مولانا رحیم الدین مٹھے پور مد ظلہ، مولانا ظہور الدین بایزید پور رح، مولانا عبدالکریم سیلکوھ وغیرہ، آخری عمر میں مفتی رشید احمد مالپوری رح کے ساتھ کافی اسفار کئے.

وفات

آپ کم و بیش ایک سال صاحبِ فراش رہے، لیٹ کر ہی نماز ادا کرتے تھے، حسبِ معمول صبح تہجد کی نماز شروع کی اور 04:05 بجے روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی، اور یہ داعی 89 سال کی عمر میں اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے،

آپ کی نمازِ جنازہ میں بڑی خلقت نے شرکت کی،میوات کے بڑے جنازوں میں سے یہ ایک جنازہ تھا. نمازِ جنازہ آپ کے منجھلے صاحبزادہ مولانا عمار کاشفی نے اقتداء میں ادا کر، عام قبرستان میں نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا

محمد تعریف سلیم ندوی

Post a Comment

0 Comments