کیا حجاب اُتروانا یا نئے تعلیمی ادارے، مسئلہء حجاب کا حل ہیں؟
آناً فاناً نئے اداروں کا قیام، اول تو ایسا ہونا ممکن نہیں، اگر کچھ اللہ کے بندوں نے شروع کیا بھی تو ۔
ان کے قیام اور منظوری تک برسوں بیت جائیں گے
تب تک اگر آپ نے سیکولر و مصلحتی مسلمانوں کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے بچیوں کو تعلیم گاہوں سے نکال لیا یا ان کے حجاب اتروا دیے تو اس منحوس عمل سے اگلے ظلم کا دروازہ کھول دیں گے، حجاب کےخلاف پالیسی ہر ادارے کا حصہ بن جائےگی، کسی بھی قوم کےخلاف خلاف ادارہ جاتی مظالم کے دروازے ایسے ہی کھلتے ہیں، غلامی کی طرف سفر ایسے ہی ہوتاہے ۔
*حل کیا ہے؟* مرکزی مذہبی اور پارلیمانی سیاسی لیڈرشپ کو میدان میں اتر کر اس کےخلاف سخت اور دوٹوک رخ اختیار کرنا چاہیے، جس سے حکومت کو محسوس ہو کہ مسلم لڑکیوں کے حجاب کےخلاف ہندوتوا کی دال گلنے والی نہیں ہے، لیڈرشپ اس معاملے کو حکومت کی سخت اینٹی مسلم پالیسی کےطور پر عالمی میڈیا اور اداروں میں لے جائے، برائے نام نہیں بلکہ نمائندگی کرتے ہوئے جس سے بےشرم حکمرانوں کو عالمی منظرنامے کی شرم آئے، اس طرح وہ کچھ دباؤ میں آسکتےہیں اس بابت بہت سارا کام عام مسلم صحافیوں، ایکٹوسٹوں، حقوق انسانی کے کارکنوں جماعت اسلامی، پاپولر فرنٹ، ایس آئی او اور سی ایف آئی کے کارکنان نے کردیا ہے، مرکزي قیادتوں کو تقریباﹰ پکا پکایا کھانا صرف نوش کرناہے، کیونکہ ہونا یہی چاہیے کہ جیسے ستر سالوں سے تعلیم گاہوں میں حجاب کےساتھ تعلیم کوئی مسئلہ نہیں تھی حالات اور پالیسیاں واپس ویسی ہی ہوں، جیسے ہندوﺅں کے تلک سکھوں کے تربن اور عیسائیوں کے صلیب سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتاہے ویسے ہی داڑھی، ٹوپی حجاب سے کوئی مسئلہ یونیفارم کو نہیں ہونا چاہیے، مسئلہ یہ ہیکہ ہر لڑائی صرف لیٹرپیڈ اور سمجھوتوں سے نہیں جیتی جاتی، کچھ لڑائیاں طاقت کے مظاہروں سے ہی جیتی جاتی ہیں، جب طاقت کا مظاہرہ اور شور ہوتاہے تو پھر ایوان نوٹس لیتا ہے، اس کےعلاوہ اگر وہی کرنا ہے کہ دعوتی مذاکرات اور غلط فہمی کی دوری تو پھر کرتے رہیے، کس سے کریں گے؟ سرکار سے؟ جس نے خود یہ اینٹی حجاب ٹرائل شروع کیا ہے… کس منہ سے؟ کسانوں نے سڑک پر ایک سال۔گزار کر مودی کے گھٹنے ٹیکے اور قانون واپس کرائے، اس میں سبق ہے ورنہ ابھی حجاب کےخلاف پالیسی پھر، داڑھی، ٹوپی اور دفتری اوقات میں نمازوں کی رخصت کےخلاف بھی ہندوتوا پالیسی بنے گی جس کے انٹلکچوئل حل کے طورپر سیکولر تکنیکی ذہن اس کو قبول کروانے کے پوائنٹس پیش کرتا رہےگا، اور ملا کو ہند میں سجدے کی اجازت ملتی رہےگی، آزادی اور خودمختاری بھیک کے کٹورے میں نہیں ملا کرتی_
سمیع اللہ خان

0 Comments