غزل
ذرا پڑھئے کبھی اخبار بھائی
نہیں لگتے بھلے آثار بھائی
جلا آے ہیں ہم گھر بار بھائی
نہیں ممکن ہے اب ادبار بھائی
ہے یہ کیا بات کہ باتوں کو میری
اڑا دیتے ہو تم ہر بار بھائی
جو چاہے لوٹنا مرضی تری ہے
ہے آگے وادیء پر خار بھائی
کئے جاتے ہو تم کیوں جاتے جاتے
تعلق کا مکاں مسمار بھائی
مراسم کی زمیں ہموار رکھئے
نہ رکھئے درمیاں دیوار بھائی
ضروری ہے نمائش قہقہوں کی
ہو دل گرچہ بہت مردار بھائی
نہیں جاتی ہے اس کی بے قراری
ہے کچھ دن سے یہ دل بیمار بھائی
نہیں ہوتا کبھی بھی عشق،،اِس کا
ہوا کرتا بھی ہے پرچار بھائی
تری تب تو سمجھ پاؤں گا باتیں
خموشی توڑ،، کر گفتار بھائی
کسی تالاب سا میں تھم گیا ہوں
ہے تیرے بن عجب رفتار بھائی
یہاں ہر گام پر حیرت ملے گی
ہیں دنیا میں بہت اسرار،،بھائی
بہت مانی ہے تیری بات میں نے
نہ کر پھر سے کوئی اصرار،،بھائی
نہیں بکتی یہاں گاؤں کی چیزیں
ہے کیسا شہر کا بازار بھائی
تو اپنی بات کو مت تھوپ مجھ پر
مرے اپنے ہیں کچھ افکار بھائی
مری باتوں کو مت دل پر لیا کر
تو ہی تو ہے مرا دلدار،،بھائی
نہ چاہے جو اسی کی چاہ رکھنا
ہے یہ کرنا بہت دشوار بھائی
کہاں سے ساز چھیڑوں،،،زندگی کے
بہت الجھے ہوے ہیں تار بھائی
وہاں عزت ہے ملتی آدمی کو
جہاں مرتا نہیں کردار بھائی
مرے احباب ہوں گے،،،گر ہوے تو
ترے جیسے کوئی دو چار بھائی
کئی سارے دلوں کے ترجماں ہیں
کہے میں نے ہیں جو اشعار بھائی

0 Comments