یوکرین جنگ اور مغربی منافقت
یوکرین میں روسی حملے کو گیارہ دن ہو گئے ہیں۔ تاہم ابھی تک روسی فوجی دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق روسی میزائل بدستور کیئف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ ملک کا دفاع جاری رکھیں گے۔ مگر اب تک کی کارروائیوں میں اتنا جانی مالی نقصان نہیں ہوا، جتنا مغربی میڈیا دنیا کو دکھا رہا ہے۔ روس کے یوکرین پر حملے کو جارحیت ہی کہا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل روس نے جارجیا پر حملہ کرکے ملک کے شمالی حصے پر قبضہ کر لیا۔ پھر 2014ء میں روس نے کریمیا پر قبضہ کر لیا اور یوکرین کے مشرقی حصے میں حکومت نصب کر دی۔ پھر دو شہروں لوہاہنسک اور دونیٹرک میں آباد تاتار مسلمانوں کو بے دخل کرکے وہاں روس نواز باغیوں کو بسایا اور انہیں آزاد ریاست قرار دیدیا۔ پھر چند روز قبل انہیں تسلیم بھی کرلیا۔ کوئی بھی مہذب شخص سامراجی توسیع کی ایسی سوچ کی حمایت نہیں کر سکتا۔ صرف شام کے بشار الاسد، وینزویلا کے نکولس مادورو اور کیوبا کی سوشلسٹ حکومت جیسے ظالم آمر ہی پیوٹن کی حمایت کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ واقعی ان تمام روس نواز آمرانہ حکومتوں کےلئے روسی حمایت کا بدلہ اور ان کی مجبوری ہے۔ لیکن روسی جارحیت کے عالمی ردعمل نے مغربی سوچ، ان کے طرز عمل، نسل پرستی اور مغربی ذرائع ابلاغ کی منافقت کو بری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی ملک اور اس کے شہریوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ یوکرین کی موجودہ صورتحال افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے جرائم کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔ یوکرین میں ابھی چند ہی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ شہری ہلاکتیں بھی چند درجن سے زیادہ نہیں۔ کسی بڑے قتل عام کا کوئی واقعہ اب تک رونما نہیں ہوا۔ کسی ممنوعہ کیمیائی ہتھیار کے استعمال کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ روسی طیارے بھی احتیاط سے صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ شہری آسانی سے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ جن شہروں پر قبضہ ہوا ہے، وہاں بھی شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوئی تصویر یا ویڈیو منظرعام پر نہیں آئی۔ بلکہ یوکرینی شہریوں کو روسی فوجیوں سے بات چیت کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر صرف شام کی حالت کو لیا جائے تو وہاں جو قتل عام ہوا، اس کی مثال رواں صدی میں نہیں مل سکتی۔ پورا ملک کھنڈر بن گیا۔ پانچ لاکھ سے زائد شہری قتل ہوئے، جن میں دو لاکھ بچے اور
خواتین بھی شامل ہیں۔ یوکرین کے ایک بچے کی چیخ پوری دنیا نے سن لی، لیکن شامی بچوں کی فریاد پر کسی نے کان نہیں دھرا اور یہ سلسلہ گیارہ برس سے جاری ہے۔ اب بھی روزانہ درجنوں شامی لقمہ اجل بنتے ہیں، مگر مغربی میڈیا پر وہ ”خبر“ تک نہیں بن سکتے۔ اسی طرح اگر افغانستان کو دیکھا جائے تو طویل امریکی وحشیانہ قبضے کے دوران وہاں بیس لاکھ سے زائد افراد ہلاک یا معذور ہوئے۔ مگر مغربی اقوام کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ کیونکہ یہ مظالم ان کے آقا امریکی کر رہے تھے۔ عراق میں بھی عوام پر انسانیت سوز مظالم دھائے گئے اور کئی تاریخی شہر تاراج کرکے لوگوں کو دربدر کر دیا گیا۔ ادھر فلسطین میں طاغوتی قوتوں کا بغل بچہ اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے، اس پر بھی مغربی میڈیا ہمیشہ لب سیئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ اب بمباری کا شکار یوکرین نے بھی کبھی ان مظالم پر لب کشائی نہیں کی۔ بلکہ وہ ہمیشہ اسرائیلی مظالم کی حمایت کرتا رہا۔یوکرین پر حملے کے بعد مغرب یک زباں ہو کر روس کی مذمت، اس پر پابندیاں عائد کرنے اور اس کے حملوں کے خلاف احتجاج میں مصروف ہے۔ مگر افغانوں، عراقیوں، شامیوں، فلسطینیوں اور دیگر مظلوم مسلمانوں کے حق میں یہ سب گونگے شیطان بن جاتے ہیں۔ تاہم عوامی سطح پر کچھ انسانیت کے لئے درد دل رکھنے والے لوگ صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں، لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ یوکرین بحران نے انسانیت کا دم بھرنے والے مغربی ممالک کی نسل پرستانہ سوچ اور تنگ نظری کو بھی طشت ازبام کر دیا۔ پولینڈ، رومانیہ، ہنگری اور بلغاریہ جیسے ممالک نے یوکرین سے آنے والے پناہ گزینوں کےلئے تو سرحدیں کھول دی ہیں۔ لیکن انہی ممالک نے سرحدوں کے ارد گرد خاردار تاروں کی باڑیں یا اونچی دیواریں اٹھائیں اور ایشیائی اور افریقی ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں کا داخلہ روکنے کےلئے پولیس تعینات کی۔ سخت سردی میں کئی پناہ گزین ٹھٹھر کر لقمہ اجل بن گئے۔ مگر مغرب کا دل نہیں پسیجا۔ اب بھی یوکرین سے آنے والوں کی رنگت دیکھ کر انہیں پناہ دی جارہی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو یوکرین میں جنگی جرائم کی تحقیقات کی بڑی فکر ہے۔ لیکن اس نے کبھی افغانستان، عراق اور شام یا فلسطین میں ایسی تحقیقات کا نہیں سوچا۔جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبردار مغربی ممالک مصرمیں عوام کا قتل عام کرنے والے آمر کو آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ مغرب کا یہ دہرا معیار اب کھل کر سامنے آگیا ہے۔ حالانکہ دعویٰ ان کا یہ ہے کہ وہ آفاقی انسانی اقدار کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اس کا اطلاق صرف من پسند لوگوں پر کیا جاتا ہے۔ یوکرینی نہ صرف یورپی بلکہ عیسائی اور سفید فام بھی ہیں، اس لیے مغربی ممالک کے رہنماٶں کے لیے ان کی زندگی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ لیکن مسلمانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔اسی روس نے سن 2000ء میں چیچنیا پر حملہ کر کے اسلام پسندوں کو کچل دیا تھا۔ دارالحکومت گروزنی مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور تقریبا پچاس ہزار مسلمان مارے گئے۔ لیکن تقریباً تمام مغربی رہنما خاموش رہے۔ اب خدا کے فضل سے یوکرین کےلئے مغرب کی فکر مندی نے پوری دنیا کے سامنے اس کے مکروہ چہرے سے نفاق کا پردہ ہٹا دیا ہے۔ (ضیاء چترالی)

0 Comments