یوکرینی مسلمان
یوکرین میں مسلمانوں کی تعداد اگرچہ زیادہ نہیں ہے۔ لیکن وہ عیسائیوں کے بعد ملک کی دوسری سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں۔ 2016ء کی مردم شماری کے مطابق یوکرین میں مسلمانوں کی تعداد 6 لاکھ کے قریب تھی، جو کل آبادی کا 9 فیصد بنتا ہے۔ یوکرین میں اسلام کی جڑیں بہت قدیم ہیں۔ اس خطے میں اسلام پانچویں صدی ہجری میں ہی پہنچا تھا۔ مسلمانوں کا تعلق تاتار، وولگار تاتار، قوقاز اور ازبک نسل کے ہیں۔ جو فقہ حنفی کے پیروکار ہیں۔ یہاں ترک نسل کے کچھ قبائل بھی آباد ہیں۔ تاہم وہ مسلمان نہیں ہیں۔ 2012ء کی مردم شماری کے مطابق یوکرین میں تاتار مسلمانوں کی تعداد 3 لاکھ تھی۔ یوکرینی مفتی اعظم سعید اسماعیلوف صاحب کا کہنا ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی آبادی 10 لاکھ سے زائد ہے۔ مسلمان چونکہ حکومت میں نہیں ہیں۔ اس لئے ان کے دینی معاملات کو مختلف تنظیمیں سر انجام دیتی ہیں۔ یہاں کے مسلمان ویل سیٹل نہیں ہیں، اس کے باوجود کئی رفاہی ادارے چلا رہے ہیں۔ 1918ء کے روسی انقلاب سے قبل مسلمانوں کی تعداد اس ملک میں بہت زیادہ تھی۔ 1944ء تک یہاں کے مسلمانوں کو اجتماعی طور پر ملک بدر کیا جاتا رہا۔ جزیرہ قرم کی مسلم آبادی کو مکمل انخلا کا سامنا کرنا پڑا۔ اسٹالین نے انہیں نازی جاسوس قرار دیا تھا۔ تقریباً 2 لاکھ تاتاری مسلمان یہاں سے ہجرت کرکے وسط ایشیا چلے گئے۔ ان بے خانماں لوگوں میں سے زیادہ تر نے ازبکستان اور قازقستان کا رخ کیا۔ بے دخلی کے حوالے سے 18 مئی 1944ء کا بدترین دن یوکرینی مسلمان کبھی نہیں بھول سکتے، جب انہیں اپنے آبائی گھر چھوڑ کر نامعلوم منزل کی طرف نکلنا پڑا تھا۔ حال ہی میں روس نے جن دو علاقوں کو خود مختار ریاست تسلیم کیا ہے، وہاں سے بھی مسلمانوں کو بے دخل کرکے روس نواز باغیوں کو بسایا گیا۔ جب 2014ء میں روس نے جزیرہ نمائے کریمیا پر قبضہ کرکے لاکھوں تاتار اور قازق مسلمانوں کو بے دخل کیا تھا، اسی دوران موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرقی یوکرین کے دو صوبوں پر جزوی قبضہ جما لیا گیا۔ لوہنسک (Luhansk) اور دونیٹزک (Donetsk) صوبے یوکرین کے زرخیز ترین علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں آباد تاتاروں کو مغربی جانب دھکیلنے کے بعد اسے روس نواز باغیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ جلد ہی ریفرنڈم کے بعد یہ دونوں صوبے خود مختار ممالک بنا دیئے گئے۔ کچھ عرصہ بعد ان دونوں "ملکوں" نے خود کو Noverussia یا نیو رشیا کے نام سے مسیحی فیڈریشن میں ضم کرلیا، جس کا سرکاری مذہب Orthodox روسی مسیحیت قرار پایا۔ گزشتہ دنوں روس نے دونوں کو خود مختار ریاست تسلیم کر لیا۔ اب یوکرین کے بچے کھچے مسلمان خاص کر تاتاری سب سے زیادہ روسیوں کے نشانے پر ہیں۔ عام یوکرینی باشندوں کے بجائے یہ شہری روسیوں کا خاص ہدف ہیں۔ پھر بڑی مصیبت یہ ہے کہ ان کے مقابلے کے لئے چیچنیا کے مسلم دستوں کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ چیچنیا روس کا بغل بچہ ہے۔ اس کا لیڈر رمضان قدیروف اس تنازعہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ چیچن دستے کریمیا پر قبضے کے وقت سے روسی فوجوں کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ جبکہ یوکرین کے مسلمان اپنے آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر وطن کے دفاع کیلئے میدان میں اتر چکے ہیں۔ الجزیرہ کے نمائندے نے یہاں کی مسلم کمیونٹی سے مل کر ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جس میں مقامی مسلمان چیچن مسلمانوں سے سخت شکوہ کناں ہیں۔ انہوں نے یوکرین کے دیگر لوگوں کے مقابلے میں سب سے پہلے ان کی مذمت کی ہے۔ عجیب بات کہ لمبی ڈاڑھیوں والے چیچن سپاہی ایک طرف نماز پڑھنے کی تصویریں جاری کر رہے ہیں تو دوسری طرف یوکرینی باشندوں خاص اپنے ہم مذہب لوگوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں، جو کہ زیادہ تر نہتے ہیں۔ گزشتہ دن جب کیئف کے قریب پیراشوٹ سے روسی فوجی اتارے گئے تو ان میں یہی لمبی ڈاڑھیوں والے چیچن بھی دیکھے گئے۔ اس پر مقامی مسلمانوں نے اعلان کیا کہ ان پر مساجد اور اسلامی مراکز کے دروازے بند کردیئے جائیں کہ یہ قاتل سپاہی حلال غذا کے حصول یا کسی اور بہانے مساجد واسلامی مراکز میں داخل نہ ہو سکیں۔ اپنے وطن کے دفاع میں اسلحہ اٹھانے والے یوکرینی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہم چیچن سپاہ اور روسی فوجیوں میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ یہ سب غاصب ہیں، جو بھی سامنے آتا ہے، اسے نشانہ بناتے ہیں۔ جنگ شروع سے پہلے ہی یوکرینی مسلم تنظیموں نے چیچن رہنما رمضان قديروف اور اس کے اقدامات سے برات کا اعلان کیا تھا۔ یوکرین بحران نے مختلف نسل کے مقامی مسلمانوں کو یکجان کر دیا ہے۔ وہ سب مادر وطن کے تحفظ کیلئے متحد و متفق ہیں اور اپنی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ ش ب ایک مسلم نوجوان ہے۔ اس نے یوکرینی فوج کی مدد کیلئے "الارشاد الروحي" (Spiritual Guidance) کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا ہے۔ یہ لڑنے والے مسلم سپاہیوں کے لئے حلال غذا سمیت مختلف ضروریات کا انتظام کرتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ رمضان قدیروف کا طرز عمل اسلام سے میل نہیں کھاتا۔ یوکرین کے مسلمان اس ملک اور سوسائٹی کا حصہ ہیں۔ اپنی فوج اور وطن کا دفاع ہمارا دینی فریضہ ہے۔ ہمیں یوکرین میں ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اس لئے کسی جارح قوت کا قبضہ ہمیں کسی صورت تسلیم نہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہم پر بھی ایسی ہی مذہبی پابندیاں عائد ہوں جو روس میں ہیں۔ درایں اثناء کیئف کے مضافات میں جھڑپوں کے دوران کئی چیچن سپاہی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ جنہیں مقامی عینی شاہدین نے ان کی مخصوص وضع قطع اور لمبی داڑھیوں سے پہچانا ہے۔ ل ک ایک مسلم خاتون ہے، جو بوتشا میں رہتی ہے۔ الجزیرہ سے بات چیت کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ چیچن جنگجو روسیوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔ ہوستومیل ایئر پورٹ پر پیراشوٹ سے اترنے کے بعد انہوں نے مقامی تجارتی مراکز پر دھاوا بول دیا اور کھانے پینے کی اشیاء لوٹ لیں۔ یوکرین کے مفتی اعظم الشیخ سعید اسماعیلوف کا کہنا ہے کہ یوکرینی مسلمانوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ چیچن عوام ہمارے ملک پر حملے کے خلاف ہیں۔ چیچنیا کی عسکری تنظیمیں 2014ء سے ملک کے مشرقی علاقوں میں روس نواز باغیوں سے لڑتی رہی ہیں۔ یوکرین کی حفاظت کیلئے سب سے پہلے جان دینے والی بھی ایک مسلمان خاتون امینہ اکویفا تھی۔ اسی طرح بہت سے چیچن باشندے یوکرینی فوج کے ساتھ مل کر روسیوں سے لڑتے رہے ہیں اور لڑ رہے ہیں۔ مفتی سعید نے مسلم ممالک سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ یوکرین کی مدد کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے دوران مسلمان بھی متاثر ہو رہے ہیں اور ایک مسلمانوں کی شہادت بھی واقع ہوچکی ہے۔ بقول برادرم علی ہلال اس وقت روس کی فورسز میں موجود ہزاروں مسلمان یوکرین پر حملے میں محاذ پر موجود ہیں۔ روس کے اہم ترین اتحادی چیچنیا کے کٹھ پتلی صدر رمضان قادیروف نے بھی 70 ہزار چیچن فورسز کی تیاری کا اعلان کردیا ہے۔ دوسری جانب یوکرین کے مسلمانوں نے لیت ولعل سے کام لئے بغیر ملک کے دفاع کے لئے محاذ کا رخ کرلیا ہے اور ہراول دستے کے طورپر مادر وطن کے لئے جان کی قربانی دینے کا عزم کر چکے ہیں۔ یوکرینی مفتی اعظم اسماعیلوف نے بھی مسلمانوں سے اپیل کر دی ہے کہ اہل جفا کی تیغ سے گردن کٹنا جھکنے سے بہتر ہے۔ افسوس صرف اس پر ہے کہ یوکرین کے صدر اور وزیراعظم سمیت سرکار کے 80 فیصد مناصب پر یہودی کمیونٹی کے افراد فائز ہیں۔ جبکہ مسلمان روایتی اسلام فوبیا کا شکار ایک کمزور کمیونٹی ہیں۔ اس وقت اسرائیل نے تین لاکھ یہودیوں کو یوکرین سے نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ جبکہ ستاون ممالک کے مسلمانوں کو یوکرینی مسلمانوں کی تعداد کا بھی درست انداز نہیں۔ جان بچا کر بھاگنے کے بجائے ان مسلمانوں نے بقائمی ہوش وحواس کٹ مرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وہ کٹی پتنگ کی طرح ہیں۔ مگر ان کٹی پتنگوں میں وفا کی ایسی ڈوری ابھی تک ہے جس کے بل پر یہ مسلمان اپنے وطن کے دفاع کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ کیا تعصب زدہ یورپ کبھی ان مسلمانوں کو بھی اپنی تعفن زدہ تاریخ کے اوراق میں جگہ دے گا؟ کیا یہ ہیرو قرار پائیں گے؟ کیا ان کی بھی داستان ہوگی داستانوں میں؟
(ضیاء چترالی)

0 Comments