Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

روس کے خلاف جنگی جرائم کی تفتیش

 روس کے خلاف جنگی جرائم کی تفتیش

لیجیے جناب، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پروسیکیوٹر نے روس کے خلاف ممکنہ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے جرم پر تفتیش شروع کرلی ہے۔

دہرے معیارات پر تو بات ہوتی رہے گی، لیکن پہلے ذرا سمجھ لیجیے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت ہے کیا اور یہ کیسے کام کرتی ہے۔ اس مقصد کےلیے راقم کی زیرِ طبع کتاب "آداب القتال: اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون کے اہم مباحث" سے چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے۔

آداب القتال اور بین الاقوامی فوجداری قانون  کا تعلق

بین الاقوامی قانون کا ابتدا سے ہی خطاب ریاست سے تھا جسے اس قانون کی رو سے فرضی شخص مانا جاتا تھا۔ افراد، یعنی حقیقی اشخاص (natural persons)، سے اس قانون کا خطاب اسی فرضی شخص کے واسطے سے ہوتا تھا، یعنی بین الاقوامی قانون کی رو سے فرائض ریاست پر عائد ہوتے تھے اور ریاست سے مطالبہ ہوتا تھا کہ وہ افراد (یا دیگر فرضی اشخاص، جیسے ”اداروں‘‘ اور ”کارپوریشزنز‘‘) کے ذریعے یہ فرائض ادا کرے۔ آداب القتال کے معاملے میں بھی صورتِ حال ایسی ہی تھی۔ 1863ء کا جنیوا معاہدہ ہو یا 1899ء اور 1907ء کے ہیگ معاہدات، یہ مطالبہ ریاستوں ہی سے تھا کہ وہ ان افعال کی روک تھام کرے جن کی ممانعت ان معاہدات کے ذریعے کی گئی تھی۔ اگر جنگ کے دوران میں بعض لوگوں کی جانب سے ان افعال کا ارتکاب ہوتا، تو انھیں سزا دینے کےلیے بین الاقوامی سطح پر کوئی نظام موجود نہیں تھا۔اسی لیے ان افعال کا ارتکاب کرنے والے ریاست کی فرضی شخصیت کے پردے کے پیچھے چھپ جاتے اور یہ پردہ چاک کیے بغیر ان کی قانونی گرفت ممکن نہیں تھی۔

پہلی جنگِ عظیم (1914ء-1918ء) کے دوران میں ترکوں کے خلاف بڑے زور و شور سے یہ مہم چلائی گئی کہ انھوں نے آرمینیا میں مسیحیوں کا قتلِ عام کیا ہے اور یورپی طاقتوں کی جانب سے جنگ کے بعد ترک فوج کے بعض افسروں کو سزائیں دینے کے عزم کا اعلان بھی کیا گیا۔ تاہم جنگ کے بعد برطانیہ اور فرانس کی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی بندربانٹ کی طرف ہوگئی اور انھوں نے آرمینیا کے مسئلے کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اسی طرح 1937ء میں ایک معاہدے کے ذریعے ”دہشت گردوں‘‘ سے نمٹنے کا بھی اعلان کیا گیا لیکن جلد ہی دوسری جنگِ عظیم شروع ہوئی تو یہ معاہدہ بھی عملا بے اثر رہا۔

دوسری جنگِ عظیم (1939ء-1945ء) میں جب امریکا اور اس کے اتحادیوں کو فتح ہوئی تو انھوں نے شکست خوردہ طاقتوں، جرمنی اور جاپان، کے بعض افراد کو سزائیں دینے کےلیے جرمنی کے شہر نورمبرگ اور جاپان کے شہر ٹوکیو میں خصوصی عدالتیں قائم کیں۔ ان عدالتوں کے منشور کی رو سے انھیں درج ذیل ”جرائم‘‘ پر سزاؤں کا اختیار دیا گیا:امن کے خلاف جرم، یعنی ناجائز جنگ شروع کرنے کا فعل؛ جنگی جرائم؛ اورانسانیت کے خلاف جرائم۔ مزید یہ بھی قرار دیا گیا کہ کسی ملزم کو اس کے سرکاری عہدے کی وجہ سے کوئی استثنا حاصل نہیں ہوگا؛ نیز یہ کہ ماتحت یہ عذر پیش نہیں کرسکیں گے کہ انھوں نے اپنے افسرانِ بالا کے حکم کی اطاعت کی تھی۔

یہاں فوجداری قانون کے اس بنیادی اصول کی طرف توجہ رہے کہ اس قانون کا مؤثر بہ ماضی اطلاق (retrospective application) نہیں کیا جاتا، یعنی جس وقت کسی فعل کا ارتکاب کیا جارہا تھا، اس وقت تو قانون کی رو سے وہ قابلِ سزا جرم نہیں تھا لیکن بعد میں جرم قرار دیا گیا، تو جرم قرار دیے جانے سے قبل اس کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا نہیں جائے گی۔ اب جہاں تک جنگی جرائم کا تعلق ہے، تو ان کےلیے تو ہیگ معاہدات سے استدلال کیا جاسکتا تھا کہ ان کی رو سے یہ افعال پہلے ہی سے ناجائز قرار پائے تھے۔ بین الاقوامی عرف کو بنیاد بنا کر کسی حد تک یہ استدلال ان افعال کےلیے بھی کیا جاسکتا تھا جنھیں انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا گیا۔ تاہم ”امن کے خلاف جرم‘‘ کی بنیاد کیا تھی؟ اگر معاہدۂ پیرس 1928ء کا حوالہ دیا جائے کہ اس کی رو سے جنگ ناجائز تھی، تو وہ عدم جواز تو ریاستوں کےلیے تھا، نہ کہ افراد کےلیے، یعنی اس معاہدے میں تو یہ ریاستوں کےلیے اس فعل کو ناجائز قرار دیا گیا تھا لیکن ریاست کے فعل اور فرد کے فعل میں تو فرق ہوتا ہے۔ کیا کوئی ایسا معاہدہ تھا، یا عرف سے کوئی استدلال ممکن تھا جس کی رو سے اس فعل کو فرد کےلیے قابلِ سزا جرم کہا جاسکے؟

نورمبرگ اور ٹوکیو عدالتوں پر اس لحاظ سے بھی سخت تنقید کی جاتی رہی ہے کہ یہ ”فاتحین کا انصاف‘‘ (Victors’ Justice) تھا اور اس وجہ سے ملزمان کا تعلق صرف مفتوحہ اقوام سے ہی تھا، ورنہ جن جرائم کا الزام ان پر لگایا گیا، وہی جرائم، اور بعض ان سے سنگین جرائم فاتحین نے بھی کیے تھے۔البتہ ان عدالتوں کی وجہ سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اس نہج پر کام آگے بڑھانے کا امکان پیدا ہوا۔

چنانچہ 1948ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے ”نسل کشی کے خلاف معاہدہ‘‘ سامنے آیا۔ اس کے بعد 1949ء میں چار ضخیم جنیوا معاہدات کی صورت میں آداب القتال کا تفصیلی قانون مدوَّن کیا گیا جس میں ”سنگین خلاف ورزیوں‘‘ (grave breaches) کی ایک طویل فہرست بھی دی گئی۔ پھر مزید معاہدات کا سلسلہ چل پڑا۔ اس پہلو سے ایک اہم پیش رفت یہ تھی کہ 1977ء کے پہلے اضافی پروٹوکول میں کمانڈر اور ماتحتوں کی الگ الگ انفرادی ذمہ داری کے اصول کو صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا۔

1990ء کی دہائی میں یہ کام مزید آگے بڑھا جب یوگوسلاویہ میں پہلے خانہ جنگی چھڑ گئی اور پھر اس کی مختلف اکائیوں نے آزادی کا اعلان کیا لیکن جنگ جاری رہی جس میں ہر فریق کی جانب سے دوسرے فریق پر آداب القتال کے قانون کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے گئے۔ 1993ء میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بین الاقوامی عدالت کی تشکیل کی اور اس کےلیے منشور بھی وضع کرکے دے دیا اور اسے اختیار دے دیا کہ وہ درج ذیل افعال کے مرتکبین کو سزائیں دے سکے: جنیوا معاہدات کی سنگین خلاف ورزیاں، آداب القتال کے قانون اور عرف کی خلاف ورزیاں، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم۔ اس کے بعد 1994ء میں سلامتی کونسل نے اسی طرح کی ایک بین الاقوامی عدالت افریقی ملک روانڈا کےلیے بھی بنائی جہاں دو قبیلوں، ہوٹو اور ٹٹسی، کے درمیان خانہ جنگی میں بڑے پیمانے پر ان جرائم کا ارتکاب کیا گیا تھا۔

بین الاقوامی فوجداری قانون کا یہ سلسلہ مزید آگے بڑھ جب 1998ء میں اٹلی کے شہر روم میں ایک الگ معاہدے کے ذریعے مستقل ’’بین الاقوامی فوجداری عدالت‘‘ (International Criminal Court) قائم کی گئی۔ جولائی 2002ء سے یہ معاہدہ نافذ العمل ہوا اور اس عدالت نے کام شروع کیا۔ ابتدا میں اس کے منشور میں جرائم کی تین قسمیں ذکر کی گئی تھیں: نسل کشی،انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ معاہدے میں شامل ہونے والی ریاستوں کے درمیان ”جارحیت کے جرم‘‘ (Crime of Aggression) کی تعریف پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔ تاہم 2010ء میں کمپالا، تنزانیہ، میں ہونے والی  کانفرنس میں بالآخر اس جرم کی تعریف متعین کی گئی جو جولائی 2018ء میں نافذ العمل ہوگئی ہے اور اب یہ عدالت اس جرم پر بھی سزا سناسکتی ہے۔

اس عدالت کے منشور میں بھی انفرادی ذمہ داری کے اصول کو بنیادی حیثیت حاصل ہے  اور اسی طرح کمانڈر اور ماتحت کی ذمہ داریوں کا الگ سے تعین کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ روایتی طور پر سفیر اور سربراہ ریاست کو عام طور پر فوجداری قانون کے اطلاق سے مستثنی مانا گیا تھا لیکن اس عدالت کی حد تک بین الاقوامی فوجداری قانون کے اطلاق سے سفیر اور سربراہ ریاست بھی مستثنیٰ نہیں ہیں ۔

اس عدالت میں تین طریقوں سے مقدمہ شروع کیا جاسکتا ہے

• معاہدے میں شامل کسی ریاست کی جانب سے مقدمہ بھیج دیا جائے؛ 

• اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل جب بین الاقوامی امن کے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے کسی فرد کے خلاف کارروائی کےلیے عدالت کی طرف معاملہ بھیج دے؛اور

• جب عدالت کا وکیلِ عام/ مستغیث (prosecutor) اپنے سامنے موجود شواہد کی بنا پر یہ سمجھے کہ کسی شخص کے خلاف اتنا مواد ہے کہ اس کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکتا ہے، تو وہ عدالت میں مقدمہ شروع کرنے کےلیے کہہ سکتا ہے۔

اس وجہ سے یہ امکان ہوتا ہے کہ کسی ایسی ریاست کے شہری کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکے جو اس معاہدے میں شامل ہی نہ ہو۔

Post a Comment

0 Comments