سانحہ پشاور
دکھ کیلیے الفاظ نہیں۔ روح زخم زخم ھے۔۔
اس طرح کے سانحات پیش آنے کا سبب بھی معلوم ھے اور آئیندہ ایسے دھشت گردانہ اور ظالمانہ واقعات پیش ھی نہ آنے کا حل بھی موجود ھے۔۔
پندرہ سے بیس تاریخی واقعات ۔۔ ۔۔اور /چودہ /تیرہ سو سال سے سانحات کا تسلسل۔۔ کاش خدا ان واقعات کی حقیقت دونوں گروھوں پر منکشف کردیتا۔۔راویوں کے سر کی خیر۔۔اپنے راویوں کو کچھ نہیں کہنا،اپنی کتابوں پر تحقیق و نظرثانی نہیں کرنی البتہ ان کے حوالے دینے والوں سے تاقیامت کشت و خون کرنا ھے۔۔۔
وہ حوالوں پر نظر ثانی کرلیں ۔۔یہ الفاظ کے استعمال پر نظر ثانی کرلیں۔۔دکھ اور افسوس کا اصل مقام یہ ھے کہ دونوں طرف کے معتدل علماء کو دونوں طرف کے لوگوں نے مسترد کر دیا ھے ۔۔
ادھر سے اپنے ھی سید جواد نقوی کے امن پسند لہجہ کو کوئی پسند نہیں کرر ھا۔۔اور ذاکروں کی اشتعال انگیزی ھاٹ فیورٹ ھے اور ۔۔۔ادھر سے اپنے ھی جاوید غامدی اور پروفیسر حمیداللہ رح کی باتیں کسی کو پسند نہیں آتی۔
اگر صرف اتنا ھو جائے کہ
وہ اپنی کتابوں سے پندرہ سے بیس روایات کو جو کہ ھر گز دین نہ ہیں بلکہ تاریخ ہیں پر کھلے دل سے تحقیق و نظر ثانی کرلیں ۔۔اور یہ حوالوں تک محدود رہیں۔ایران سے واضح ھدایت ھے کہ گالی اور لعنت سے باز رھا جائے۔
یہ ھے مسئلہ کا حل۔۔آج سے دس ھزار سال بعد بھی یہی حل ھے اور ماضی کی کشت و خون کا بھی یہی حل تھا۔

0 Comments