Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

سناتے تھے قصے جو مہر و وفا کے


جناب حاجی جمیل احمد 1940ء_2022ء

سناتے تھے قصے جو مہر و وفا کے

سناتے تھے قصے جو مہر و وفا کے

گئے آج وہ ہم سبھی کو رلاکے


تھے اقبال کے سچے شیدائیوں میں

وہ رکھتے انہیں اپنے دل میں بسا کے


 وہ پھولوں سے کرتے تھے بے شک محبت

وہ رکھتے تھے کانٹوں سے دامن بچا کے


وہ خلق حسن کے تھے پیکر یقیناً

وہ خادم جو ٹھہرے در مصطفے' کے


کتابوں کی دنیا کے باشندے وہ تھے

وہ رکھتے تھے آہوں سے شمع جلا کے


کبھی چہچاتے تھے وہ اس چمن میں

یہ کہتے ہیں بام اور در جامعہ کے


جو بیٹھا کبھی کوئی صحبت میں ان کی

اسے چھوڑتے تھے وہ اپنا بناکے


یہ ہے کامیابی کی ان کی ضمانت

ملے ان کے روشن نشاں نقش پا کے


رہیں ان کی یادیں فقط اب تو حیدر

ہوا بوجھ ہلکا غم دل سنا کے


حیدر میواتی ندوی


Post a Comment

0 Comments