ہماری روایات
تابش سحر
- دوستوں کے ساتھ ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد بِل ادا کرنے کی طلب جتانا اور اندر ہی اندر کترانا ہماری تہذیبی روایت رہی ہے، اس سلسلے میں کھانا کھانے کے بعد دیر تلک ہاتھ دھوتے رہنا بہترین راہِ نجات رہی ہے۔
- خواتین کی زبان قینچی کی طرح چل رہی ہو اور اذان ہوجائے تو وہ بات حرفِ آخر اور سچّی ہوتی ہے پھر چاہے اس بات کا سر ہو نہ پیر۔
- ابّا جان کھانے پینے کی کوئی چیز لے کر گھر لوٹ آئے اور گھر میں مہمان ہو تو وہ چیز اسی صورت میں مہمانوں کو پیش کی جائے گی جبکہ وہ مہمان امّی جان کی نگاہ میں وقعت و اہمیت رکھتے ہوں بصورتِ دیگر باورچی خانے میں مہمانوں کے جانے تک چھپا دی جائے گی۔
- گھڑی کا سیل ڈاؤن ہوجائے تو ہم اسے نکال کر زبان سے چَکھتے ہیں پھر اسے دوبارہ لگا کر جانچتے ہیں اور روایات کی لاج رکھتے ہوے گھڑی بھی ٹِک ٹِک شروع کردیتی ہے۔
- "نازکی ان کے لبوں کی کیا کہیے" جیسے رومانویت کی انتہا کو پہنچے ہوے اشعار پڑھاتے وقت استاد محترم فرمان جاری کرتے ہیں "شاعر' عشقِ حقیقی میں ڈوب کر یہ شعر کہہ رہا ہے۔"
- پھوپھی جان اور امّی جان کے مابین مسئلہ یا مسائل ہوتے ہیں مگر صلاحیت مند امّی جان' اس مسئلے کو طول دیتی ہے اور بچوں کی نظر میں بھی پھوپھی جان کو دشمن بنا کر دم لیتی ہے۔
- پھیکی دال اور روٹی کے ساتھ آلو چِپس، چوڑا، چٹنی یا ٹھیسہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا سترپوشی کے لیے قمیص کے ساتھ پاجامہ۔
- ہم جیسی کرنی ویسی بھرنی پر اعتقاد رکھتے ہیں سو کسی نے شادی کے رقعے پر "مع اہل و عیال" کے بجائے "مع فرزندان" کی دعوت دی ہے تو ہمارے رقعے پر بھی "مع فرزندان" ہی لکھا ہوگا پھر چاہے ہماری حیثیت سارے عالم کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کی ہو۔
- چھوٹے بھائی یا بہن کو بادلِ ناخواستہ اپنے بڑے بھائی یا بہن کے استعمال شدہ کپڑے پہننے پڑتے ہیں، بڑے بھائی یا بہن کو نصیب سے بس یہی چیز مثبت ملی ہے۔
- ہم اسراف اور فضول خرچی کبھی پسند نہیں کرتے لہذا الائچی، لونگ، شاہ زیرا جیسی چیزوں کے لیے کبھی برتن یا ڈبّے نہیں خریدتے بلکہ آئس کریم وغیرہ کے خالی ڈبّوں کو قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔
- گھر کا داماد، ننیہالی رشتےدار یا کوئی معزز مہمان تشریف لائے تو شیشے کے گلاس میں پانی پیش کیا جاتا ہے جبکہ دیور دیورانی، جیٹھ جیٹھانی جیسے رشتےداروں کو اسٹیل کے گلاس میں پانی پلانے میں کوئی قباحت نہیں۔
- پاجامے میں ناڑا ڈالنے، فولادی اشیاء کی آئلنگ اور جوتے کی پالش کے لیے اس ٹوتھ برش کا استعمال کیا جاتا ہے جس نے اپنے فرائض اصلیہ سے سبکدوشی اختیار کرلی ہو۔
- وہ لوگ مغربی تہذیب سے متاثر ہیں جو فرش کی صفائی کے لیے باضابطہ "پوچھا" خریدتے ہیں جبکہ ہماری روایات کا تقاضہ تو یہی ہے کہ پھٹے پرانے کپڑوں کو بطور پوچھا استعمال کیا جائے اور الحمد للہ عوام کی اکثریت روایت کی پاسداری کررہی ہے۔
- اچانک زخم لگ جائے تو ہم ایسے حکیم و دانا' فوری علاج {فرسٹ ایڈ} کے طور پر بہتے خون کو چائے کی پتّی سے روکتے ہیں۔
- سڑک پر کوئی بندہ اپنے موٹر سائکل کی ہیڈ لائٹ چالو رکھ کر گزرنے لگے تو وضعدار انسان بھی مخصوص اشارے کرتے نظر آتے ہیں۔
- کسی شناسا سے پیسے لینے کے بعد شمار کیے بغیر جیب میں رکھ دیں گے وہ کہے گا "ارے بھائی گِن تو لو!" ہمارا جواب "ارے کیسی بات کررہے ہیں آپ؟" پھر اس شخص کے جاتے ہی جیب سے پیسے نکال کر دو بار شمار کریں گے۔
- پیسوں کے معاملے میں ہم بہت محتاط ہوتے ہیں اسی لیے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کے بعد شمار ضرور کریں گے مبادا کہ مشین بھی ہماری ذہنیت اور سوچ کے مطابق چل پڑی ہو۔
- عید کی خریداری رمضان سے قبل ہی کیوں نا مکمّل ہوجائے، چاند رات کو ضرور بازار جائیں گے پھر بیشک جیب میں پھوٹی کوڑی ہی کیوں نہ ہو۔
- اولاد چاہے چاند پر پہنچ جائے مگر بوقتِ غضب امّاں جان کے پاس کوئی نہ کوئی مثال ہوتی ہی ہے جیسے فلاں کے بیٹے کو دیکھو سورج پر پہنچ گیا ہے اور تو اتنا پڑھ لکھ کر چاند پر پیر پسارے بیٹھا ہے۔
- روزانہ خواتین گھر سے باہر نکلتی ہیں مگر جب کوئی دور کی خالہ انہیں یہ کہہ دے کہ تم تو ہمارے گھر آتی ہی نہیں تو ان کا جواب ہوتا ہے "باہر نکلنا ہوتا ہی کہاں ہے۔"
- جب ہم کسی کے یہاں جائیں اور وہ شخص کھانے پینے کی کوئی چیز پیش کردے تو ہمارا قومی جواب ہوتا ہے "ارے اس کی کیا ضرورت تھی؟" جبکہ نیّت' کھانے پینے کی چیزوں میں دھنسی ہوی ہوتی ہے۔
- برصغیر کی پاکیزہ روایتوں میں سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ بےتکلف افراد دعوتوں میں تناول طعام کے بعد شاپر لے کر دیگ تک پہنچ جاتے ہیں تاکہ بریانی گھر لے جانے کی کوئی سبیل ہی نکل جائے۔

0 Comments