غزل
نظر ملا کے جو مجھ سے گزر رہے ہو تم
تمہیں پتہ ہے؟؟یوں دل میں اتر رہے ہو تم
زمانہ بعد اے یارم ملے ہو تم ہم سے
بتاؤ اتنے دنوں سے کدھر رہے ہو تم؟؟
غزال چشم،سیہ زلف،چاندنی چہرہ
اور اس پہ ہاے قیامت سنور رہے ہو تم
تمہارے بن بھی ہر اک سے تمہی کو سنتے تھے
ہمارے واسطے "تازہ خبر" رہے ہو تم
مریضِ عشق سے کرتے ہو بے رخی اچھا؟؟
مرے حبیب!!! مرے چارہ گر رہے ہو تم
یہی تو کام ضروری ہے یار کرنے کا
دلوں میں پیار جو لوگوں کے بھر رہے ہو تم
تمہاری موت کا جو منتظر ہے برسوں سے
عجیب بات ہے اس پر ہی مر رہے ہو تم
تمہارے دام میں اے دل نہ آؤں گا اب میں
میں خوب جان گیا ہوں جو کر رہے ہو تم
تمہی تو شاعرِ الفت نسیمٓ خاں ہو ناں؟؟
خوشی ہے مثلِ ستارہ ابھر رہے ہو تم
"نسیم خان"

0 Comments