Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

صبح خالی پیٹ پانی پینا

 صبح خالی پیٹ پانی پینا

صبح خالی پیٹ پانی نہیں پینا چاہیے، چہ جائیکہ پیاس بہت زیادہ نہ لگی ہو۔ میرے مشاہدے میں ہے کہ کچھ لوگ علی الصبح کئی گلاس پانی پی جاتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ جب سے صبح خالی معدہ پانی پینے لگے ہیں قبض نہیں ہوا، کوئی کہتا ہے کہ جوڑوں کے درد کو فائدہ ہوا ہے، کوئی کہتا ہے بلڈ پریشر نہیں ہوا۔

یہ سب اپنی جگہ سچے ہوں گے لیکن میں بھی بطور طبیب جھوٹا نہیں کیونکہ اس عادت کے ما بعد اثرات سے ہر کوئی واقف نہیں ہوتا۔، ہر چیز کے استعمال کی ایک حد مقرر ہے اور یہ سیدھے سادھے لوگ یہ سب نہیں جانتے۔

تو سنیے! کہ اس مستقل عادت سے معدہ دن بہ دن ضعیف ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر یہی لوگ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جوڑوں کا درد تو صبح خالی پیٹ چار گلاس پانی پینے سے ٹھیک ہو گیا ہے لیکن اب ذرا سی بھی کوئی غذا زیادہ کھا لوں تو پیٹ بھاری بھاری رہنے لگا ہے، پیٹ میں ہوا کے گولے گھومتے رہتے ہیں۔

لیکن ان کو اس بات کا قطعاً علم نہیں ہے کہ یہ اپنی بیوقوفی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس نوبت تک پہنچنے میں وہ اپنے ساتھ ساتھ کئی اور لوگوں کو بھی اسی راہ پر لگا چکے ہوتے ہیں۔ کسی کو اس عادت سے ضعف مثانہ ہو کر کثرت بول کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے اور کسی کو گردے ضعیف ہونے سے کمر درد شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ بڑے خوش ہوتے ہیں کہ صرف خالی معدہ چار گلاس پانی پینے سے ان کا برسوں کا قبض ٹوٹ گیا ہے۔ لیکن بھوک کم لگنے لگی ہے اور یہ پتہ تک نہیں کہ دراصل ہوا کیا ہے۔

دوستو! کسی کے کہنے پر اپنی صحت کو داؤ پر نہ لگائیں۔ ہاں صبح کے وقت چار یا اس سے زیادہ پانی کے گلاس پینے کا ایک پیمانہ مقرر کیے دیتے ہیں کہ جب تک پیشاب زرد رنگ اور مقدار میں کم اور بار بار آتا رہے تب تک آپ کے جسم کو خالی معدہ پانی کے چار گلاس کے بجائے دس گلاس کی ضرورت ہے۔ جب پیشاب زردی مائل سفید ہو جائے تو اس وقت ضرورت ختم ہو چکی ہے۔ ہاتھ فوراً روک دینا چاہیے

حکیم فاروق سومرو


Post a Comment

0 Comments