غزل
ہم نہ پڑ جائیں عاشقی میں کہیں
اک خلا سا ہے زندگی میں کہیں
ایک چہرہ پہ اتنے چہرے ہیں
آدمی گم ہے آدمی میں کہیں
خامشی کو کرید کر دیکھیں
درد پنہاں ہے اَن کہی میں کہیں
"دل" کی حد تک تو یہ حقیقت ہے
"آنکھ" روتی ہے بے بسی میں کہیں؟
رفتہ رفتہ یہ ہو گیا عنقا
عشق ہوتا ہے اس صدی میں کہیں؟
رو پڑا تھا میں آ کے ساحل پر
بہہ گئے اشک سب ندی میں کہیں
کیسے لیتے ہیں جان پھر "حالات"
"خود" تو رہتا ہے "خود کشی" میں کہیں؟
ہم سے سادہ کو دیکھ کر کہنا
عیب ہوتا ہے سادگی میں کہیں؟
وحشتیں اس لیے ڈراتی ہیں
شور رہتا ہے خامشی میں کہیں
کب محبت پہ زور چلتا ہے
ہوش رہتا ہے بے خودی میں کہیں؟؟
یار اب چھوڑ دے انا کہ یہی
زہر بو دے نہ دوستی میں کہیں
قہقہوں کو سنبھالنا سیکھو
رو نہ دو تم ہنسی ہنسی میں کہیں
یوں جو روتے ہو زار زار نسیمٓ
آ نہ جاے کمی غمی میں کہیں
کیوں ہو جاتے نسیمٓ سے ملنے
چین اڑ جاے نہ سہی میں کہیں
"نسیم خان"

0 Comments