فروری کی 23 تاریخ مولانا احمد علی لاہوری ؒ کا یوم وفات
از قلم:مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ
میری زندگی میں وہ بڑا مبارک دن اور بڑی سعید گھڑی تھی جب حضرت مولانا احمد علی لاہوری صاحبؒ امیر انجمن خدام الدین شیرانوالہ دروازہ، لاہور سے نیاز حاصل ہوا۔ میری زندگی کے دو بڑے موڑ ہیں جہاں سے زندگی کا نیا راستہ (جہاں تک خیال ہے بہتر اور مبارک راستہ) اختیارر کیا۔ پہلا موڑ جب مولانا احمد علی صاحب سے تعلق پیدا ہوا۔ دوسرا موڑ اس وقت پیش آیا جب خدا نے مجھے مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کے پاس پہنچایا اگر مولانا احمد علی صاحب سے ملاقات نہ ہوتی تو میری زندگی اچھی یا بُری بہرحال موجودہ زندگی سے بہت مختلف ہوتی اور شاید اس میں ادب و تاریخ اور تصنیف و تالیف کے سوا کوئی ذوق اور رجحان نہ پایا جاتا۔ خدا شناسی اور خدا رسی، راہ یابی اور راس روی تو بڑی چیزیں ہیں۔ مولانا کی صحبت میں کم سے کم خدا طلبی کا ذوق خدا کے نام کی حلاوت اور مردانِ خداکی محبت ، اپنی کمی اور اصلاح و تکمیل کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا اور ہم عامیوں کے لئے یہی بڑی دولت اور نعمت ہے بلکہ بعض حقیقت شناسوں کے نزدیک یہی اصل دولت ہے۔ کہتے ہیں کہ جس کا رزق جہاں مقدر ہوتا ہے وہیں ملتا ہے اس کے لئے وطن، پردیس اور یگانہ و بیگانہ کی قید نہیں، میرے نزدیک یہ کلیہ مادی و غذائی اور معنوی و روحانی دونوں قسم کے رزق کے لئے عام ہے ۔ مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ کا نام سب سے پہلے خواجہ عبدالحئی صاحب فاروقی سے سنا خواجہ صاحب میرے بھائی صاحب مرحوم کے دیوبند کے ہم سبق تھے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ صاحب اور مولانا انور شاہ کشمیری صاحبؒ کے حدیث کے درس کے دونوں ساتھی تھے اور دونوں میں غالبًا زمانہ حال کے تقاضوں سے واقفیت اور جدید مطالعہ کی بنا پر بہت کچھ ہم مذاقی اور اتحاد تھا۔ خواجہ صاحب مولانا عبیداللہ صاحب سندھی سے پڑھ کر آئے تھے۔ انگریزی داں تھے۔ سیاست کا ذوق تھا اور بھائی صاحب ندوہ سے پڑھ گئے تھے۔ غرض دونوں میں میں بڑی دوستی اور محبت تھی، خواجہ صاحب بھائی صاحب کی دعوت پر غالبًا1927ء میں ایک مرتبہ گرمی کی تعطیلات گزارنے کے لئے لکھنؤ آئے اور ہمارے مکان پر ٹھہرے۔بھائی صاحب نے ان سے فرمائش کی کہ وہ اس زمانہ قیام میں مجھے قرآن مجید کا کچھ حصہ پڑھا دیں۔ میری عمر اس وقت14,13سال کی تھی۔ خواجہ صاحب نے اخیر پارے کی اخیر سورتیں پڑھائیں۔۔۔۔مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے ہندوستان میں دومایہ ناز شاگرد تھے اور ان کے طرز تعلیم اور مسلک تفسیر کے حامل و امین اور اس میں ان کے صحیح جانشین مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ اور خواجہ عبدالحئی فاروقیؒ تھے مولانا احمد علی لاہوریؒ لاہور میں بیٹھ کر تقریبًا نصف صدی اس کی اشاعت کی مدارس عربیہ کے فضلاء کی بدولت جن کے لئے انہوں نے صرف ڈھائی تین ماہ کا نصاب بنایاتھا اور جوان مدارس کی تعطیل کے زمانہ میں ان سے استفادہ کے لئے آتے تھے .... یہ درس قرآن ہندوستان کے دور دراز گوشوں تک پہنچ گیا۔ یہ درحقیقت مولانا احمد علی صاحبؒ کے تقویٰ اور روحانیت اور اخلاق و ایثار کی برکت تھی بلکہ واقعہ یہ ہیکہ ہندوستان میں درس قرآن کے عمومی رواج اور لوگوں میں اس کی مقبولیت کا سہرا انہی کے سر ہے۔ خواجہ صاحب مولانا احمد علی لاہوری صاحبؒ کا نام بڑے احترام سے لیتے۔ ان کے درس اورمجالس میں ان کا تذکرہ آنا غیر متوقع بات نہ تھی۔ اس لئے جہاں تک قیاس کام کرتا ہے مولانا کا سب سے پہلے نام اہمیت کے ساتھ انہی سے سنا۔ مولانا لاہوریؒ کے تعارف اور دل میں ان کی عقیدت پیدا ہونے کا دوسرا سبب یہ تھا کہ میرے پھوپھا مولانا سید طلحہ صاحب ایم اے اورینٹیل کالج لاہور میں پڑھاتے تھے۔ مولانا لاہوریؒ سے ان کے گہرے روابط تھے۔ حضرت سید احمد شہیدؒ کے خاندان سے تعلق کی بنا پر مولانا ان کا ایک درجہ میں احترام فرماتے تھے اور وہ خود بھی لاہور میں سب سے زیادہ مولانا لاہوری ؒ ہی کے اخلاص و للہیت اور پاکیزہ نفسی کے قائل تھے۔ وہ جب چھٹیوں میں وطن واپس آتے تو مولانا کا ذکر خیر کرتے۔1929ء کی گرمیاں تھیں اور مئی کا مہینہ،میں امتحان عربی میں نمایاں طریقہ پر کامیاب ہوا تھا۔میری پھوپھی صاحبہ کا خط لاہور سے والدہ مرحومہ کے نام آیا جس میں مجھے لاہور بلایا گیا تھا۔ یہ میرا پہلا طویل سفر تھا اور بہت سی حیثیتوں سے تاریخی اور یادگار، اسی سفر میں میں نے پہلی مرتبہ علامہ اقبالؒ کی زیارت کی۔ مشہور علمی اورادبی شخصیتوں کودیکھا، بڑے بڑے فضلاء اور پروفیسروں سے ملاقات کی علمی اور ادبی محفلوں میں شریک ہوا۔ رستم زماں گاماں پہلوان اور بعض ہندوستان گیر اور بعض عالمگیر شہرت رکھنے والے اہلِ کمال کی زیارت کی، یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ مولانا احمد لاہوریؒ صاحب کے دیدار سے آنکھیں روشن نہ کرتا جن کا ذکر خیر عرصہ سے سنتا تھا۔ مئی کی غالبًا کوئی آخری تاریخ تھی کہ مولانا سید طلحہ صاحب مجھے احمد علی صاحب کے پاس لے گئے۔ میری عمر اس وقت 16,15 سا ل کے درمیان ہی ہوگی میرے تعارف میں دوہی باتیں کہی جاتی تھیں۔ والد صاحب کا نام اور ان سے نسبت فرزندی اور عربی زبان سے مناسبت اور اس میں بے تکلف لکھنے پڑھنے کی صلاحیت جو اس عمر اور زمانہ میں کچھ نئی ہی بات سمجھی جاتی تھی۔ مولانا نے جس شفقت و عنایات کا اظہار فرمایا، اس کا مجھے اس وقت تک کوئی تجربہ نہیں ہوا تھا اور وہ میری توقع اور حیثیت سے زیادہ تھی۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ ان کی محبت و عقیدت کا بیج دل کی نرم زمین میں پڑا اور زمین نے اس کو قبول کر لیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ دوسرے یا تیسرے سال گرمیوں کی تعطیل میں لاہور پھر اس شوق میں گیا کہ مولانا کے درس قرآن میں شرکت کروں۔ لیکن معلوم ہوا کہ عربی مدارس کے طلباء اور فضلاء کا باقاعدہ درس رمضان، شوال اور ذی قعدہ میں ہوا کرتا ہے۔ اس وقت تو صرف فجر کے بعد عمومی درس میں اہل شہر شریک ہوتی ہوتے ہیں اور مغرب کے بعد انگریزی تعلیم یافتہ حضرات کی کلاس ہوتی ہے لیکن مولانا نے از راہ شفقت و عنایت مجھے مستقل وقت دیا اور شروع سے قرآن شریف پڑھانا شروع کیا۔ اس درس میں صرف میں اور برادر عزیز سید احمد الحسینی جو پہلے سے لاہور میں تھے شریک تھے اس درس کا سلسلہ زیادہ دن نہیں رہا۔ شاید سورۃ بقرہ نصف ہوئی ہوگی کہ لکھنؤ میری واپسی ہوگئی۔ اس درس میں نیز صبح کے عمومی درس میں شرکت سے اور کوئی فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو دینی ذوق ضرور پیدا ہوا۔ مولانا کے درس کے تین اہم بڑے مرکزی مضمون تھے (1) عقیدہ توحید کی وضاحت (2) تذکرہ مشائخ (3) جہاد۔ اس سے اگلے سال غالبًا 1932ء میں حجۃ اللہ البالغہ کے درس میں شرکت کے لئے لاہور آیا۔ مولانا عبیداللہ صاحب سندھی کی دوسری پسندیدہ کتاب شاہ ولی صاحبؒ کی حجۃ اللہ البالغہ تھی، جس کو مولانا احمد علی لاہوریؒ بڑے اہتمام اورذوق و شوق سے پڑھاتے تھے اور اس کا ایک الگ درس ہوتا تھا جس میں مستند مدارس عربیہ کے فضلاء کو شرکت کی اجازت تھی۔ میں نے بھی اس درس میں شرکت کی ۔ مولانا کے یہاں کتاب کا صرف پہلا حصہ زیرِ درس رہتا تھا۔ نصاب پورا ہونے کے بعد امتحان میں مجھے سب سے زیادہ نمبر دیئے اور میں اول آیا۔ 1932ء کے آخر میں رمضان 1351ھ میں لاہور اس درس کی تکمیل کے ارادہ سے کیا جو فضلائے مدارس کے ساتھ مخصوص تھا اور جس کا سلسلہ آخر شعبان سے شروع ہوکر وسط ذی قعدہ تک جاری رہتا تھا۔ سردیوں کا رمضان تھا، مدرسہ قاسم العلوم میں قیام تھا، 60 کے قریب طلبہ تھے جو سب مدارس عربیہ کے فارغ التحصیل تھے یا بالکل آخری درجات (حدیث و تفسیر) کے طالب علم تھے۔ فجر کے بعد ذرا دن چڑھے سبق شروع ہو جاتا اور کئی کئی گھنٹے جاری رہتا۔اس درس کا اصل مقصد و موضوع تو قرآنِ مجید کے علم و فہم میں بصیرت پیدا کرنا تھا اس درس سے مجھے فائدہ بہت ہوا اور اس کی برکت میں نے اپنی بعد کی علمی اور تبلیغی زندگی میں محسوس کی۔ سب سے زیادہ مفید و مؤثر مولانا کی صحبت ، ان کی زاہدانہ اور مجاہدانہ زندگی، ان کا اخلاص ، ان کا قرآن مجید سے والہانہ تعلق اور اس کی نشر و اشاعت اور تبلیغ کا بے قرار جذبہ تھا۔ مولانا تبلیغی دورے بھی فرماتے تھے، لیکن اس میں ان کے شرائط بہت سخت تھے مثلاًاپنے کرایہ سے جائیں گے،وہاں قیام کے دوران اپنا ہی کھانا کھائیں گے۔ حضرت لاہوری ؒ عمر بھرانجمن خدام الدین اور مدرسہ قاسم العلوم جس کے وہ بانی تھے ایک پیسہ لینے کے کبھی رودار نہیں ہوئے۔ہم لوگوں کو خوب اندازہ تھا کہ مولانا کے یہاں عسرت اور نہایت سادگی کے ساتھ گزران ہوتی ہے۔ ہمیشہ غیبت و شکایت سے مجتنب اور محتاط پایا، درس میں ہر طرح کا تذکرہ آتا تردید و تنقید بھی ہوتی لیکن کسی موقعہ پر بھی مولانا کو اپنے شدید سے شدید مخالف کی غیبت کرتے ہوئے نہیں سناگیا۔مولانا کی قوت روحانی اور اشراقی بہت بڑی ہوئی تھی۔ کشف قبور میں بڑا دخل تھا۔ ان کے صحیح کشف کے بہت سے حیرت انگیز واقعات ہیں، جو ان کے مخصوص اہلِ تعلق کے علم میں ہیں۔مولانا جہاں اہلِ دنیا کے سامنے بڑے خوددار اور غیور واقع ہوئے تھے، اہل دین اور خصوصیت کے ساتھ ان حضرات کے سامنے جن کو اپنے مشائخ اور اکابر کی صف میں شمار کرتے تھے، غایت درجہ متواضع اور منکسر المزاج تھے۔ علمائے حق سے بہت جھک کر اور فروتنی سے ملتے تھے اور ان کی نہایت تعظیم کرتے تھے، دیکھنے والوں کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مولانالاہوریؒ اپنے آپ کو ان کے سامنے ایک معمولی طالب علم سے زیادہ نہیں سمجھتے، معاصر علماء اور مشائخ میں سے ان کو دو شخصیتوں سے بے حد عقیدت تھی ایک مولانا سیّد حسین احمدمدنیؒ ، دوسرے مولانا عبدالقادر صاحب رائے پوریؒ ،مولانا سید انور شاہ صاحب کاشمیریؒ کے بھی بڑے معتقد اور مرتبہ شناس تھے۔ مولانا لاہوریؒ شروع سے مجاہدانہ جذبات وعزائم کے حامل تھے اوریہ بات ان کو اپنے مربی مولانا عبیداللہ صاحب سندھیؒ اپنے شیخ طریقت مولانا سید تاج محمود امروٹیؒ اور اپنے استاذ حدیث شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ سے وراثت میں ملی تھی۔امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحبؒ اور مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانویؒ کے ساتھ برادرانہ تعلقات تھے اور وہ حضرت مولانا کواپنے سچے خیرخواہوں اور بزرگوں میں سمجھتے تھے۔مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحبؒ کے ہاتھ پر علماء و صلحاء کی ایک بڑی جماعت (جن میں مولانا سید انور شاہ صاحبؒ بھی تھے) نے انجمن خدام الدین ہی کے جلسہ میں بیعت امارت کی تھی اور اسی وقت سے امیر شریعت کہے جانے لگے تھے۔
وہ پاکستانی جس کے سوئس اکاؤنٹ میں اربوں روپے تازہ لیکس میں سامنے آگئے
جب انگریز حکومت نے ان کو جلا وطن کر کے لاہور پہنچایا تو آپ نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر درس قرآن کا آغاز کیا۔ رفتہ رفتہ آپؒ شیرانوالہ گیٹ میں اس مسجد میں منتقل ہوئے جو لائن والی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ اس مسجد کا مسقف حصہ نہایت مختصر تھا۔ اس کے بغل میں جانب شمال ایک وسیع چبوترہ تھا جس پر گرمیوں میں ٹھنڈے اوقات میں نماز ہوتی تھی۔ جب آپؒ کا درس مرجع عام و خاص بن گیا اور قدیم مسجد بالکل ناکافی ثابت ہوئی تو اس چبوترے پر چھت پڑگئی اور روز بروز مجع زیادہ ہونے لگا آپؒ کی قبولیت و مرجعیت برابر بڑھتی گئی اور آخری زندگی میں تویہ حال ہوگیا کہ لوگ دور دورسے پروانہ وار آتے اور ایک ہجوم رہتا۔ اسی کے ساتھ آپ کی مشغولیت اور انہماک بھی بڑھتا گیا۔ بعض اوقات ملاقات و زیارت کے لئے آنے والوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا اور بہت دیر میں باری آتی۔ بعض دن ناشتہ کی نوبت ہی نہ آتی دوپہر کے کھانے میں بہت دیر ہوجاتی۔ آخر میں سربرآوردہ اور صاحبِ وجاہت اشخاص کو بھی کئی کئی دن کے انتظار کے بعد ملاقات کا موقعہ ملتا۔ اس بارہ میں آپ کا معاملہ مقبولین خدا اور اولیاء اللہ کے مشابہ تھا کہ جتنا سفر کا وقت قریب آجاتا تھا لوگوں کی عقیدت و محبت بڑھتی جاتی تھی اور نفع و افادہ کی مقدار بھی اسی کے بقدر، بالآخر وہ وقت آگیا کہ نصف صدی کا پرمشقت اورطویل مجاہدہ کا سفر کرنے والا اپنی آخری آرامگاہ پر پہنچے اور اپنی محنت و وفاداری کا انعام پائے۔آخر کار1381ھ کے رمضان المبارک کی 18 تاریخ مطابق 23 فروری 1962 ء کو حاضری کا پیام آگیا اور نماز عشاء میں بحالتِ سجدہ انتقال ہوا اور خادم قرآن، قرآن نازل کرنے والے کے جوارِ رحمت میں پہنچ گیا۔ جنازہ میں لوگوں کے پروانہ وار ہجوم اور اجتماع عظیم کا وہ منظر تھا جو لاہور کے سے عظیم شہر نے مدت دراز سے نہیں دیکھا تھا اور شاید مدت دراز تک نہ دیکھے، غروب آفتاب کے ساتھ تبلیغ و اشاعت دین کا یہ آفتاب بھی لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل اورخاک کے پردہ میں نہاں ہوگیا اور سینکڑوں ہزاروں آدمیوں نے وہیں افطار کیا اور بادیدہ نم واپس آئے۔

0 Comments