Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

خوجگانِ مہرولی دہلی کی انجمن میں قسط3

 خوجگانِ مہرولی دہلی کی انجمن میں قسط3

مفتی تعریف سلیم ندوی


دبستانِ زندگی

حضرت خواجہ شہاب الدین عاشق اللہ چشتی رح

اب ہم گھنی آبادی سے نکل کر گھنے جنگل میں داخل ہو گئے،شمسی عید گاہ اسی گرین ایریا میں واقع ہے، اسی سے نصف کلومیٹر نشیبی راہ سنسان و ویران مقام پر آباد و بارونق یہ درگاہ زائرین و مجاورین سے معمور و مملوء ہے،یہاں عقیدت مند عورتوں کی ٹولیاں، پریشان حال و حاجت مندوں کی

عاشق اللہ چشتی کا مزار

 بھیڑ،چلہ کشوں و خدام کی تعداد موجود تھی، یہ عاشق اللہ رح کا مزار پہاڑی پر واقع ہے،عاشق اللہ کی قبر پر واردین افراد قدم بوسی اور سجدہ ریزی میں ملوث تھے، مسلم و غیر مسلم جوق در جوق بلا کسی تفریق مذہب و ملت عقیدت مندانہ  حاضر ہو رہے تھے،

عاشق اللہ چشتی رح کی قبر کے برابر پہاڑی پر مزید دسیوں مقبرے ہیں جن پر نیلگو ٹائل کا کام ہوا تھا، اس درگاہ کی تعمیر سلطان مبارک شاہ خلجی رح کے دور میں ہوئی، اس کی تعمیر میں میں چار بھورے بلوا پتھر کے اوپر شہ تیر توڑے دے کر ایک چھوٹا سا بنگالی نما گنبد بنایا گیا ہے، پوری درگاہ کو سبز و پیلے رنگ میں رنگا گیا ہے، ایک لنگر خانہ بھی ہمیشہ چلتا ہے جو ان درویشوں کا شیوہ رہا ہے، داخلہ پر ہی چھوٹی سی مسجد ہے، یہاں ایک پہاڑی ہے جس پر بابا فرید الدین مسعود گنج شکر نے

 چلہ کھیچا، شیخ شہاب الدین عاشق اللہ چشتی رح کے والد شیخ امام الدین ابدال بڑے بزرگ تھے، آپ نے انہیں سی اصلاحی تعلق قائم کیا اور مقام ولایت پر سرفراز ہوئے، عاشق اللہ چشتی رح صاحبِ کشف و کرامات بزرگ تھے، آپ کا انتقال 11 رمضان 717 ہجری بمطابق 1317ء میں سلطان مبارک خلجی(1320-1316ء) کے دور میں ہوا. (بحوالہ دلی کے بتیس خواجہ کی چوکھٹ ص___66)

بھول بھلیاں مہرولی

درگاہ سے نکل کر مقبرہ نما قدیمی عمارت میں داخل ہوئے، جسے بھول بھلیاں کہا جاتا ہے،یہاں آٹو رکشہ والے درگاہ عاشق اللہ کے لیے آواز لگا رہے تھے، شنید کہ اس عمارت ایک زمینی راستہ تھا جس میں ایک بارات گم ہو گئی تھی، اسی لیے اسے بند کر دیا ہے، کافی تعداد میں سیلانی و سیاح یہاں تفریح کے لیے آئے ہوئے تھے، اب ہم خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رح کے مزار کی جانب بڑھنے لگے.

جاری

مفتی تعریف سلیم ندوی

Post a Comment

0 Comments