غزل
عنقا جو جہاں بھر میں نظر آتی وفا ہے
اک عام سی پھیلی ہوئی ہر سمت وبا ہے
دیوار سے دل کی جو اترتی ہی نہیں ہے
جاناں تری تصویر یقیں جان بلا ہے
یوں ہی نہیں آتا ہے نظر عکس سا اس میں
آنکھوں میں چھپا اشک گو آئینہ نما ہے
مجھ کو نہ ملی جرمِ محبت کی سزا کیوں؟
تقدیر میں لکّھی مرے کیسی یہ سزا ہے
میں کیسے ترے حسن پہ ایمان نہ لاؤں
آئینہ تجھے دیکھ کے حیران ہُوا ہے
یہ وقت بہت سخت چراغوں کے لیے ہے
اس وقت چراغوں کے مقابل میں ہَوا ہے
اک میں ہی نہیں حضرتِ غالب کا طرفدار
مرزا کا سخن لوگوں میں تسلیم شدہ ہے
امید رسائی کی فلک تک ہے اسی سے
بے ساختہ دل سے مرے نکلی جو دعا ہے
اے شمع تری جان وہ لے سکتا ہے کل کو
سر پر جو ابھی تیرے دھرا دستِ صبا ہے
دل توڑ کے دیکھو تو نظر آے گا تم کو
موجود کہیں ٹوٹے ہوے دل میں خدا ہے
کیوں روز نئی فکر مچاتی ہے یہاں غُل
محشر سا تخیل کی زمیں پر جو ہے کیا ہے؟؟
پیدا ہی ہوا نطفہء ناچیز سے جب تو
کس بات کی پھر تجھ میں اے انسان انا ہے

0 Comments