Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

اک عام سی پھیلی ہوئی ہر سمت وبا ہے

غزل

عنقا جو جہاں بھر میں نظر آتی وفا ہے

اک عام سی پھیلی ہوئی ہر سمت وبا ہے


دیوار سے دل کی جو اترتی ہی نہیں ہے

جاناں تری تصویر یقیں جان بلا ہے


یوں ہی نہیں آتا ہے نظر عکس سا اس میں

آنکھوں میں چھپا اشک گو آئینہ نما ہے


مجھ کو نہ ملی جرمِ محبت کی سزا کیوں؟

تقدیر میں لکّھی مرے کیسی یہ سزا ہے


میں کیسے ترے حسن پہ ایمان نہ لاؤں

آئینہ تجھے دیکھ کے حیران ہُوا ہے


یہ وقت بہت سخت چراغوں کے لیے ہے

 اس وقت چراغوں کے مقابل میں ہَوا ہے 


اک میں ہی نہیں حضرتِ غالب کا طرفدار

مرزا کا سخن لوگوں میں تسلیم شدہ ہے


امید رسائی کی فلک تک ہے اسی سے

بے ساختہ دل سے مرے نکلی جو دعا ہے


اے شمع تری جان وہ لے سکتا ہے کل کو

سر پر جو ابھی تیرے دھرا دستِ صبا ہے


دل توڑ کے دیکھو تو نظر آے گا تم کو

موجود کہیں ٹوٹے ہوے دل میں خدا ہے


کیوں روز نئی فکر مچاتی ہے یہاں غُل

محشر سا تخیل کی زمیں پر جو ہے کیا ہے؟؟


پیدا ہی ہوا نطفہء ناچیز سے  جب تو

کس بات کی پھر تجھ میں اے انسان انا ہے


نسیم خان

Post a Comment

0 Comments