ہمارا ادیب
زرک میر
ٹھیک ہے کہ ادیب کے پاس بھی پیٹ ہوتا ہے وہ پہلے پیٹ بھرتا ہے پھر سوچتا ہے ،اس کے جسم پر بھی ایسے اعضاء ہیں کہ وہ بھی سترپوشی کرلے ، اور اسکی بھی بیوی اور بچے ہوتے ہیں ، اس پر طرہ یہ کہ ادیب کو سگریٹ بھی پھونکنا ہوتا ہے اور اگر کوئی ادیب سگریٹ نہ پھونکے تو وہ ادیب کیسا ، گویا ادیب کے منہ سے سگریٹ کے دھویں کا فضاء میں اڑنا ایسا ہے جیسا کہ دماغ کی کیتلی سے بھاپ کا اٹھنا ۔ اور پھر بوتل کا شغل الگ سے ، اسے اس کے لئے کوئی کام تو کرنا ہوتا ہے ہی ،اور یہ کرنا اس کا حق بھی ہے لیکن کم ازکم سرکاری ملازمت سے اسے اجتناب کرنا چاہئے یا پھر خوش قسمتی سے کوئی ادیب سرکاری ملازم نہ ہو تو وہ صراط مستقیم پر بغیر قدم ڈگمگائے چل سکتا ہے ورنہ وہ پھسلن کا شکار ہوسکتا ہے وہ سڑکوں پرالائونسز کیلئے بھی بیٹھ سکتا ہے ، ایک طرف وہ اس قدر حساس ہوتا ہے کہ وہ سرے راہ "موتنے "(پیشاب کرنے) کا روا دار تک نہیں دوسری طرف وہ ہفتوں تک سرے راہ بیٹھ کر عوام کا راستہ روکے رکھتا ہے ، ایسے کئی بے شمار بے ضابطگیاں اور تضادات سامنے آتے ہیں ، دوسری جانب پورا دفتر رشوت کے رسم ورواج کے مطابق چل رہا ہوتا ہے تو ادیب صاحب کیسے اس سے دور رہ سکتے ہیں اور پھر ترقی کا دوڑ الگ سے ،اس کے لئے ایک دوسرے کی فائلوں میں تانکہ جھانکی اور سفارش ڈھونڈنے کی تک ودو الگ سے ۔
میرے نذدیک تو ایک ادیب کو تو شادی سے بھی گریز کرنا چاہیئے ورنہ اپنے آپ کو بچا کر رکھنے کی حتی الوسع کوششوں کو اس وقت دھچکا لگ سکتا ہے کہ جب بچے کو مہنگے اسکول میں داخل کرانا ہو ، بیوی کیلئے اچھے پوشاک اور میک اپ کا بندوبست الگ سے ، اب ہر بیوی صفیہ نہیں ہوسکتی لیکن صفیہ پر کیا مستزاد کہ انہوں نے بھی " "منٹو صاحب " کو پاگل خانے تک کی سیر کرا کر سلیقہ مند بیوی ہونے کی " سعادت " حاصل کرلی تھی ، چنانچہ بیوی بچے اور سرکاری ملازمت کسی ادیب کیلئے پل صراط ثابت ہونگے جہاں سے صحیح سلامت گزرنا کسی ادیب کیلئے ممکن نہیں ۔ ایک طرح سے ادیب کا ان مشکلات سے گزرنا اور ذاتی مشاہدہ کرنا بھی ازحد ضروری ہے لیکن افسوس کہ ادیب اگر یہ سب کرلے تو پھر اپنی مخبری اور چغلی کیسے کرسکتا ہے تب وہ شریک جرم ہوتا ہے اور زندگی بھر 164(اعتراف جرم) نہیں کرپاتا ۔
ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ کوئی ادیب کسی دفتر میں بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لے رہا ہوتا ہے پتہ چلتا ہے کہ ادیب صاحب بچے کی نوکری کیلئے کسی سرکاری دفترکے چکر کاٹ رہے ہیں ۔ اگر موصوف ادیب خود سرکاری ملازم ہیں تو اپنی ترقی تنخواہ اور پوسٹنگ کے گھن چکر میں یوں پڑ جاتا ہے کہ وہ حکومت وقت پر کوئی تنقید نہیں لکھ پاتا اور پھر اپنے گریڈ دیکھ کر دانشوری جھاڑتا رہتا ہے ۔ سلسلہ یہاں رکتا تو بھی بات تھی ہمارا ادیب پھر اس قدر سیاست زدہ ہوجاتا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد توسیع مانگتا ہے یا پھر کسی پارٹی میں شمولیت کا سوچتا ہے (شمولیت کا احوال آگے چل کر)
ہمارے ہاں ایسی درجنوں مثالیں ہیں ،اکادمی ادیبات سے لے کر بلوچستان یونیورسٹی تک ہر جگہ ہمارے ادیب مزاجا چڑچڑا پن کا شکار ہیں ، خود سے ناراض ہوکر خود سے تشریحات تشبیہات گھڑ لیتے ہیں ، گویا ادیب کا سرکاری ملازم اور پھر افسران ہونا ایک المیہ ہی ہوتا ہے ، اور اگر اس پر مستزاد کہ اس کی شادی بھی ہوگئی ہو ( جبکہ سب کی ہو بھی چکی ہے ) اور پھر بچے بھی پیارے اور راج دلارے ہوں پھر تو ادیب کا سرگرداں ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔
یوٹوپیائی ریاست کی اگر بات کی جائے تو خواہش ہوتی ہے کہ ادیب فلسفی اور سائنسدانوں کو شادی نہ کرنے اور سرکاری امور سے دور رہنے کی ترغیب دی جائے کیونکہ یہ حضرات سرکاری امور میں جتنی تنخواہ اتنے کام کے مصداق پر رک ہی نہیں سکتے ، انہیں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے ہی ہوتے ہیں ۔
ایک دلچسپ واقعہ سناتا ہوں کہ ہم قلات میں اپنے استاد پروفیسر ادیب صاحب کے انتہائی مشکور ہیں کہ وہ ہمیں ملاقات کا وقت دیتے رہتے ، لیکن اکثر ان کے ہاتھوں میں کتابوں کیساتھ ایک فائل بھی نظر آتی ، وجہ پوچھتے تو ٹرانسفر روکنے کیلئے تگ ودو کا کہتے اور جواز دیتے کہ اگر ان کا یہاں سے کہیں ٹرانسفر ہوگیا تو ان محفلوں کا کیا ہوگا جو ہم ہر رات برپا کرتے ہیں جو شروع شروع میں شام غریباں کا روپ دھار کر آخر میں قدیم روم کے اس کلب کا روپ اختیار کرلیتیں ، جہاں روم کے شہشاہ آگسٹس شراب میں بھگوئی روٹی کجھور اور انجیر کیساتھ نوش فرماتے اور پھر کہتے کہ انہیں مملکت کے بارے میں اچھے خواب آئیں گے اور وہ اکثر خواب میں سمندر کے بیچوں بیچ مخالف فوجوں کو غرق ہوتا دیکھتے اور ساحل پر انعام میں کھڑی بے حجاب دوشیزائیں دیکھتے تب آدھا خواب تو وہ خواب میں ہی مخالف فوجوں کو غرقآب دیکھ کر پورا کرلیتے اور ان خوابوں کی آدھی تعیبر مملکت کی ذمہ داری ہوتی تھی ،تب شہنشاہ کے خواب گاہ میں ایسی دوشیزائیں پیش کی جاتیں ۔ ہمارے قلات کے پروفیسرادیب بھی مملکت کے مفاد میں کہیں اور جانے سے کترانے کیلئے ٹرانسفر رکوانے کی درخواستیں بنا کر سفارشیں ڈھونڈا کرتے تھے ۔ اب ریٹائرڈ ہوکر پینشن مراعات کی فائل گھماتے رہتے ہیں لیکن اب یہ ضرور ہے کہ وہ تادیر ایسی محفلیں برپا کرتے رہتے ہیں ، قلات کی خنک ہوا میں ہمارے پاس گوکہ شراب اور اس میں بھگونے کیلئے روٹی بھی موجود ہے کھجور اور انجیر بھی ، پروفیسر صاحب کیساتھ ساتھ ہمیں بھی شہنشاہ آگسٹس کی طرح مخالف فوجوں اور انعام میں دوشیزائوں کے خواب آتے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے ساتھ کچھ الٹا ہورہا ہے کہ ہم مخالف فوجوں کو غرقاب ہوتا دیکھ تو نہیں رہے بلکہ انہیں مسلسل اپنی طرف بڑھتا دیکھ رہے ہوتے ہیں البتہ گڈانی کی ساحل پر انعام کے طورپر دوشیزائوں کو ضرور دیکھ سکتے ہیں ، بھلا بتائیں ایسی صورتحال میں ہمیں اور ہمارے پروفیسر صاحب کو انعام کون دے گا ؟
جاری ہے

0 Comments