خوجگانِ مہرولی دہلی کی انجمن میں
| مفتی تعریف سلیم ندوی |
دبستانِ زندگی
شیخ عبدالحق محدث دہلوی
اب ہم حوضِ شمسی پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے، تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے اسلام کالونی، وارڈ نمبر 7 میں واقع ہندوستان کی عظیم انقلابی شخصیت شیخ عبدالحق محدث دہلوی 1642-1551ء کی آرام گاہ کی جانب کشاں کشاں قریب ہوئے، درگاہ میں اندر داخل ہونے کا دو فٹ کا راستہ ہے، اندر بہت ساری پختہ قبریں اور ایک مسجد موجود ہے. (دلی کے بتیس خواجہ کی چوکھٹ ص150)
| درگاہ کا داخلی دروازہ |
شاہ عبدالحق کے سوانح نگار پروفیسر خلیق احمد نظامی رقم طراز ہیں کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رح کو اسلامی ہند علمی و مذہبی تاریخ میں خاصی اہمیت حاصل ہے، تقریباً نصف صدی تک دہلی میں ان کی خانقاہ علم و فضل کا گہوارہ اور ارشاد و تلقین کا مرکز رہی ہے، ہزاروں تشنگانِ علم نے وہاں آکر اپنی پیاس بجھائی سینکڑوں گم گشتانِ علم نے وہاں آکر روشنی حاصل کی. (سوانح شیخ عبدالحق محدث دہلوی ص 3)
شیخ دہلوی ٩٥٨ھ مطابق 1551ء کو دلی میں پیدا ہوئے،یہ اسلام شاہ سوری کا عہد خلافت تھا، آپ کا گھرانہ بخارا سے چنگیزی عتاب سے بچ کر دہلی آیا، آپ کی علمی و روحانی تربیت میں والد گرامی کا بڑا دخل ہے،تعلیم سے فراغت کے بعد اکبری دینِ الٰہی نے زور پکڑا، آپ کی طبیعت پر بار گزرا، لہٰذا آپ حجاز مقدس کوچ کر گئے، آپ مکہ میں شیخ عبدالوہاب مکی سے بیعت ہوئے، چند دنوں بعد شیخ مکی نے آپ کو چشتیہ، قادریہ، شازلیہ اور نقش بندیہ سلسلے کا خلافت نامہ عطا فرمایا.( ص__151 دلی کے بتیس خواجہ کی چوکھٹ)
آپ سن 1000ء میں دہلی واپس آئے، تو دیکھا اکبر بادشاہ کے غیر متعین مذہبی افکار نے دینِ الٰہی کی شکل اختیار کر لی، تو ایک مدرسہ کی بنیاد ڈال کر علومِ شریعت کی ترویج و اشاعت اور مردہ دلوں کی مسیحائی و تابندگی میں اپنی حیات مستعار کو فنا کر دیا.
شیخ محدث کا مدرسہ، مکان و خانقاہ مہدیان میں واقع تھی،(سوانح شاہ عبدالحق ص__150)
شیخ نے آٹھ شاہوں کا دور دیکھا اور یہ سلسلہ اسلام شاہ سوری سے شروع ہو کر شاہجہاں پر ختم ہوتا ہے، کل عمر 94 سال پائی اور بیشتر حصہ تصنیف و تالیف میں بسر کیا، بایں لحاظ تفسیر، حدیث، عقائد جیسے سولہ مضامین پر شیخ نے کل ساٹھ کتابیں تصنیف کیں،آپ نے عربی و فارسی میں کتابیں لکھیں، شیخ کو عربی سے فارسی ترجمہ کرنے میں مکمل عبور حاصل تھا، شیخ کا طرزِ نگارش ان کی علمی وقار کا آئینہ دار ہے. ان کا آج کل کی طرح نقش بر آب نہیں، بلکہ مضبوط ستونوں کا کندہ تھا.
آپ کی مشہور تصانیف اخبار الاخیار، مدارج النبوہ، ذکرِ ملوک (سلاطین ہند) تقویة الایمان وغیرہ آخر الذکر کتاب کو بے پنا شہرت حاصل ہوئی بے راہ روی، کج روی کے بیچ صحیح درستگی میں یہ کتاب مشعل راہ ثابت ہوئی، آج بھی بہت سے دینی مدارس میں مذکورہ کتاب درس میں شامل ہے.
آپ کے معاصرین میں شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رح سب سے نامور بزرگ ہیں، دونوں میں محبت و یگانگت کا رشتہ استوار تھا.
اس مرقد میں سکون پرور اور روحانی اثرات کو ہر وارد محسوس کرتا ہے. عصر کی اذان شروع ہوئی اور ہم آگے کی نیت سے نکل گئے.
| مزار |
محمد تعریف سلیم ندوی
Dabistan دبستان

0 Comments