گاندھی جی کی بیٹی امت السلام
| امت السلام |
مخدوم عدیل عزیز
گاندھی جی کی بیٹی امت السلام
بی بی امت السلام سے پہلا تعارف امام الہند مولانا ابولکلام آزاد کی سوانح حیات پڑھ کر ہوا جس میں مولانا نے انہیں بیوقوف مگر نیک نفس انسان لکھا تھا. جس وقت گاندھی جی جناح صاحب کو مزاکرات کی دعوت دیتے ہوئے خط تحریر کر رہے تھی. تو بی بی امت السلام نے ہی گاندھی جی کو جناح صاحب کو قائد اعظم کہہ کر مخاطب کرنے کا مشورہ دیا تھا کہ اس سے ان کا اخلاص ظاہر ہوگا کیوں کہ اردو پریس انہیں اسی لقب سے مخاطب کرتا تھا. امام الہند کے مطابق یہی ان کی عظیم غلطی تھی جس کے بعد برصغیر کی مسلم اکثریت نے یہ سمجھنا شروع کیا کے جسے گاندھی خود قائد اعظم کہیں وہی مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق دلا سکتا ہے.
اس بات سے قطع نظر امت السلام کے سیاسی کردار ان کی امن و شانتی کے لئے عظیم جدوجہد اور آزادی کے لئے قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا. بی بی امت السلام کی پیدائش پٹیالہ کے معزز مسلم خاندان میں ہوئی. اوائل عمر میں ہی آپ گاندھی جی کے فلسفہ حیات سے متاثر ہوئیں اور اپنی زندگی گاندھی واد (گاندھی ازم) کے لئے وقف کردی. گاندھی بھی انہیں اپنی بیٹی کی مانند چاہتے تھے اور ان بہت عزت و اکرام کیا کرتے تھے.گاندھی جی ان کے نام اکثر خطوط میں انہیں بیٹی لکھتے تو کبھی انہیں اپنی پوتی کانو کی مانند قرار دیتے. تقسیم ہند کے وقت جب نواکھلی میں قیامت ٹوٹی اور بدترین فسادات ہوئے تو آپ گاندھی جی کے ساتھ وہاں پہنچی اور امن کے قیام کے لئے دن رات جدوجہد کی. اس کے لئے آپ نے گاندھی جی کے ساتھ اکیس دن کا طویل مرن بھرت رکھا(بھوک ہڑتال) جس کے بعد ہندو اور مسلم معززین نے امن کے قیام کا وعدہ کیا . گاندھی کی کی واپسی پر آپ کی ایک عرصہ تک نواکھلی میں ہی انسانیت کی خدمت کرتی رہیں.
تقسیم کے وقت آپ کے بہن بھائیوں سمیت پورے خاندان نے پاکستان کی جانب ہجرت کی جس سے آپ بہت رنجیدہ ہوئیں. مگر گاندھی جی نے آپ کو دلاسہ دیا اور ان کے بحفاظت پاکستان پہنچنے کا انتظام کیا. تقسیم پنجاب پر ہونے والے قتل عام ن آپ کو سخت بےچین کیا اور ایک بار پھر سسکتی انسانیت کی خدمت کے لئے آپ پنجاب پہنچی اور ہزاروں اغوا شدہ ہندو اور مسلم خواتین کو اغواکنندگان کے چنگل سے آزاد کروا کر ان کی بحفاظت واپسی کا انتظام کیا. آپ نے آزادی کے لے طویل اور کھٹن مراحل میں جدوجہد کی مگر کبھی کسی عہدے کی آرزو نہیں کی اور بعد کی زندگی میں بھی کسی حد تک گمنام رہ کر انسانیت کی خدمت جاری رکھی آپ کا انتقال بھارت میں 1985میں ہوا

0 Comments