مفتی عبدالعزیز عزیزی میواتی دامت برکاتہم
ڈھاڈھولی(بھارت)۔ ٹھینگ موڑ(پاکستان)
حامد محمود راجا
مفتی عبدالعزیز بن عبدالرحمن بن کریم خان بن وجیر خان 1950ءکے آس پاس پیدا ہوئے۔مفتی صاحب کے والد صاحب چار بھائی تھے ان میں مولانا عبدالرحمن اور حاجی سعید پاکستان آئے جب کہ باقی دو بھائی وہیں رک گئے ۔پاکستان میں پتو کی گاﺅں کاہنی ویرڑ میں رقبہ الاٹ ہوا۔ مفتی عبدالعزیز کے والد عبدالرحمن سب سے بڑے تھے۔ انہوں نے مولانا عبدالسبحان کے مدرسہ سے تعلیم حاصل کی ۔ مولانا عبدالسبحان فاضل دارالعلوم دیوبند تھے اورمولانا محمود الحسن دیوبندی کے تلمیذ تھے ۔ مولا نا عبدالرحمن بھی دارالعلوم دیوبند سے دورہ حدیث کرنا چاہتے تھے لیکن اُن کے والد کریم خان کا انتقال ہو گیا۔ بھائی چھوٹے تھے ،اُن کی ذمہ داری کے باعث دارالعلوم سے دورہ نہ کرسکے ۔مفتی عبدالعزیز نے جب ہوش سنبھالا تواس وقت مولانایوسف کاندھلوی میوات (پاکستان) میں اپنی محنت جاری رکھے ہوئے تھے۔ نرمل کے، کنگن پور اور قادی ونڈ میں حضرت جی کے اجتماعات ہوئے اوررائے ونڈ کے ایک اجتماع میں خود بھی شریک ہوئے۔
مفتی عبدالعزیز نے کاہنی ویرڑ میں حفظ کیا۔ جامعہ مدنیہ (کریم پارک ،لاہور)اورجامعہ اشرفیہ (نیلا گنبد،لاہور) سے کتب کے اسباق پڑھے ۔نیلا گنبد میں تعلیم کے آخری سال مولانا یوسف کاندھلوی یہاں تشریف لائے ، تمام طلبہ کے ساتھ میں نے بھی مصافحہ کیا۔حضرت جی کا آخری بیان وہیں سنایہ 1964کاواقعہ ہے ۔ مفتی عبدالعزیز کے والدمولانا عبدالرحمن نے لاہور میں حضرت جی کی تکفین میں حصہ لیا ۔پیرجمیل احمدمیواتی اکثر فرید الدین گنج شکر کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاتے تو والد صاحب بھی ہم راہ ہوتے ۔
دورہ حدیث اساتذہ کی مشاورت سے مولانا سرفراز خان صفدر سے پڑھا۔ تب نصر ة العلوم کا دورہ حدیث ملک بھر میں معروف تھا۔مولانا سید حسین احمد مدنی نے اپنی آپ بیتی نقش حیات میں لکھا ہے کہ والد صاحب کے دل میں مدینہ میں بسنے کا داعیہ پیدا ہوا اور یہ اس قدر شدید تھا کہ کم وساٸل کے باوجود وہیں منتقل ہو گۓ۔ اسی وجہ سے مولانا کا تخلص مدنی پڑا۔ مولانا مدنی کے شاگرد تھے مولانا سرفراز خان۔ مولانا سرفراز خان ایک دفعہ نماز کے وقت میں صفوں کو چیر کر آگے بڑھے تو مولانا مدنی نے ان کو صفدر کا لقب دیا جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ مولانا سرفراز خان صفدر کے شاگرد تھے مفتی عبدالعزیز میواتی۔ مولانا سرفراز خان صفدر نے ایک دفعہ نام کی مناسبت سے ان کو عزیزی(میرے پیارے) کہہ کر پکارا تو مفتی عبدالعزیز عزیزی کہلاۓ۔ مفتی عبدالعزیز صاحب نے اپنے شاگرد عبدالحق میواتی کو رشیدی کہا تو وہ مولانا عبدالحق رشیدی کہلاۓ۔ ٹھینگ موڑ میں مدرسہ کے لیے جگہ خریدی ۔ مفتی عبد العزیز کے بھائی مفتی عبداللطیف نے 1979/80میں باقاعدہ تدریس کا آغاز کیا ، ایک وقت تھا کہ یہ تعداد 300 تک جا پہنچی۔
زیرنظر کتاب تدوین و تصنیف کے آخری مراحل میں تھی کہ مفتی صاحب کے علیل ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں اور کچھ دن بعد ہی اُن کی صحت کا مژدہ جاں فزا بھی موصول ہوا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی مفتی صاحب کو صحت و سلامتی کےساتھ لمبی عمر عطا فرمائیں۔آمین
دبستانDabistan

0 Comments