Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا۔

 مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا۔

 آج ہی کے دن یعنی22فروری1958کو   ابو الحکمت، غزالیِ وقت، بادشاہِ سیاست , پیکرِ نفسِ مطمئنہ , امام الہند محی الدین احمد کنیت ابولکلام تخلص آزاد اس دنیائے فانی کو خیر آباد کہہ گئے اور ہمیں قیامت تک داغِ مفارقت دے گئے۔ وہ گئے تو تمام دنیا غمزدہ ہو گئی تھی۔ اہلِ دانش بے دانش، انقلابی بے جذبہ اور اہل قلم بے قلم ہو گئے۔ ان کے قدردانوں نے ماتم منایا۔ اور وقت کے یزید ان كو کھو کر جان پائے کہ انہوں نے کیا کھویا ہے؟ ان کی موت ایسا سانحہ تھا کہ دنیا سرحدات کی بندش بھول گئی بلکہ یہ بے جا نہ ہوگا اگر میں کہوں کہ تاریخ عالم میں پہلی دفعہ مشرق و مغرب  سرحدات بھول کر یکساں کیفیت کے حامل ہوگئے, اور پھر کیا مشرق کیا مغرب سب ہی رونے لگے ۔ دنیا عالم کے تمام دانشور , سیاستدان , وزرائے عظم , فلاسفر , صحافی , اہلِ قلم , انقلابی سب کے سب  کیفیت غم میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اس کیفیت کی شاعر نے کیا خوب ترجمانی کی ہے۔

اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہے

اسے کھو کر تو میرے پاس رہا کچھ بھی نہیں 

مولانا ابولکلام آزاد کی موت ایک زمانے کی موت نہیں بلکہ کہیں زمانوں کی موت ہے۔ 

ان کی رحلت پر صدر مصر جمال عبدالناصر نے درد دل یوں بیان کیا کہ "آہ ! روشنی کا مینار اور عزم و حوصلہ کا سرچشمہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ ہم اہل مشرق اپنی تاریک راہوں کو کس چراغ سے روشن کرسکیں گے اور مغرب کی سامراجی قوتوں سے کس طرح اپنا لوہا منوا سکیں گے۔"

برطانیہ کے مشہور فلسفی برٹرنیڈرسل گویا ہوئے کہ۔ 

 "مولانا ابو الکلام آزاد کی موت کی خبر سن کر مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ میں یکہ و تنہا رہ گیا ہوں , جیسے وہ دریا خشک ہوگیا ہے جس کی موجوں سے ہمیں ذہنی اور فکری سرور حاصل ہو جایا کرتا تھا ۔فیثا غورث , سقراط اور ہیگل کے بعد شاید یہ سب سے بڑے انسان کی موت ہے!"

مشہور برطانوی مورخ ٹائن بی یوں ماتم کرنے لگے

"تاریخ کی گتھیاں سلجھانے والا ہاتھ شل ہوگیا ۔ ماضی حال اور مستقبل پر دور تک نظر رکھنے والا ہاتھ چلاگیا ۔"

حکومت روس نے اظہار غم اس نہج پر کی کہ

"مولانا ابوالکلام آزاد کی موت کا غم ہندوستان ہی کو نہیں , بلکہ روس کے عوام کو بھی ہے۔ وہ ایسے مجاہد تھے جنہوں نے دنیا کی سب سے بڑی استبدادی قوت برطانیہ عظمیٰ کے خلاف سب سے پہلے علم جہاد بلند کیا (یاد رہے 1912 میں الہلال کے ذریعے اور 1919 میں  جب ان پر بغاوت کا مقدمہ چلا, کامل آزادی کا اعلان کیا جس وقت مسلم لیگ و کانگریس آزادی کے "الف" تک بھی نہ پہنچیں  تھیں  ) اور ظالم کے خلاف مظلوموں کی صف بندی کی۔

انقلابِ روس کے رہنماؤں نے ان کی پرجوش جدوجہد آزادی سے بہت زیادہ حوصلہ پایا تھا۔روس میں انقلاب کی کامیابی ان کی صدائے انقلاب کی بھی رہین منت ہے۔ روس کے عوام اس عظیم انسان کو " سلام " کرتے ہیں " 

اس طرح کے اور سنکڑوں تحریرات ماتم اور دل میں نہ ختم ہونے والے درد و داغ پڑے  ہیں ۔غرض مولانا ابوالکلام آزاد کی موت نے ثابت کردیا کہ "موتِ عالِم موتِ عالٙم ہے

انسانیت پر احسان کرنے والے مرکر ہمیشہ کےلئے ذندہ ہوجاتے ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ ہم نے ان کی کہی ان کی وقت میں نہیں سنی اور اب جب اپنے دور میں سن رہے ہیں تو سب کچھ برباد ہو چکا ہے۔


شمس خیال

Post a Comment

0 Comments