مدنی صاحب اور ایرانی صاحبان
حامدمحمودراجا
”نہیں مدنی صاحب،نہیں “کے عنوان سے ایک تحریرکے پاکستانی اور انڈین ورژن سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ تحریرسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ”جماعت ایرانی “ کے کسی کوفی مزاج تبرائی کارکن کی تخلیق ہے ۔ کرناٹک واقعے کے بعد مولانا سید محمود اسعد مدنی نے طالبہ کو پانچ لاکھ دینے کا اعلان کیا،یہ اعلان اتنا بروقت تھا کہ پیچھے رہ جانے والے سیخ پا ہو گئے ۔تحریر میں مولانا محمود اسعد مدنی کو مسکان خان کا مخالف اور متحارب ظاہر کیا گیا ہے۔ کہا گیا:”اس پاک وجود کو ایسے نہ تولئے۔ پانچ لاکھ تو کیا ہندوستان کی ساری دولت اور زر و جواہر بھی اگر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں اور دوسرے میں یہ معصوم وجود، تب بھی پلڑا اس پاک وجود کا ہی بھاری رہے گا“۔مولانا نے کب کہا کہ یہ انعام اُن کی قربانی کا بہترین اور مکمل نعم البدل ہے ۔ یہ جاہل نہیں جانتے کہ انعام محض حوصلہ افزائی کی ایک علامت ہے ،پوری کارکردگی کا بدلہ نہیں۔ مزید کہا گیا:”محترم بزرگ، آپ کاغذ کے یہ ٹکڑے واپس لے لیجئے اور اپنا دست شفقت اس کے سر پر رکھ دیجئے“۔کیا سر پر ہاتھ رکھنے کا یہ بہترین طریقہ نہیں کہ وہ انعام کا اعلان کرکے طالبہ کے ساتھ کھڑے ہوگئے ،دست شفقت رکھنے کا اور کیا طریقہ ہے ؟ ایک اور نصحیت ملاحظہ ہو:” ایسے کہ پھر سارے ہندوستان میں کسی دوسرے کی مجال نہ ہو کہ وہ نظر اٹھا کر ایسی پاک روحوں پر نگاہ بد ڈال سکے۔آپ یہ کرسکتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے آپ یہ کرسکتے ہیں۔ ایسا ہو سکتا ہے، بالکل ہو سکتا ہے“۔ لکھنے والا یہ نصیحت خود اپنے پلے کیوں نہیں باندھتا؟آگے لکھا ہے :”محترم مدنی صاحب زمین و آسمان کی ساری قندیلیں بجھا دی جائیں، سارے ستارے ماند پڑ جائیں تب بھی آسمان حمیت پہ روشنی کے لئے یہ ایک ستارہ کافی ہے“۔مولانا مدنی نے کب اس حقیقت کا انکار کیا جو آپ اُن کو مخاطب کیے بیٹھے ہیں۔مولانا کے اس انعام کی مسکان خان اور اس کے گھر والوں نے صحیح قدر کی ۔جب حضرت مولانا سیدمحمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علماءہند کے اعلان کردہ پانچ لاکھ کی رقم بروز بدھ بتاریخ :2022 /02 / 09 شام 5 بجے بذریعہ ڈی ڈی، بی کوم سیکنڈ ائیر کی طالبہ بی بی مسکان خان بنت جناب حسین خان صاحب کو دی گئی تو بی بی مسکان نے حضرت مولانا سیدمحمود اسعد مدنی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور جناب حسین خان صاحب نے آئے ہوئے وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور بے انتہا خوشی کا اظہار فرمایا۔وفد نے جذبہ خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ بی بی مسکان خان اسی طرح نڈر ہو کر اپنے ایمانی جذبہ اور اپنے دین کی حفاظت کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرے گی اور ملک ملت کا نام روشن کرے گی، ان شاءاللہ“۔پاکستانی ورژن میں مولانا کی پاکستان مخالفت کا بھی ذکر ہے اور پاکستان کے لیے جذبہ حب الوطنی کا بھی اظہار کیا گیا ہے ۔ ہماری میواتی قوم نے بھارت سے پاکستان ہجرت کی اور یہ مسلم تاریخ کی عددی لحاظ سے سب سے بڑی ہجرت تھی۔پاکستان کے غم میں ہلکان ہوئے دانش ور”یا خدا“میں قدرت اللہ شہاب کے قلم سے جذبہ حب الوطنی کا حال ملاحظہ کریں:”زبیدہ نے دلشاد کو آواز دی :بہن ذرا اس طرف دھیان رکھنا، محمود سورہا ہے ،میں ذرا خان کے ساتھ جا کر دہی لے آﺅں۔اسی طرح جب دلشادبھی اپنی پکوڑیوں کے لیے بیسن لینے کسی گاہک کے ساتھ جاتی ہے تو اپنی بچی کو زبیدہ کو سپردکرجاتی ہے ۔ دہی اور بیسن کی اس ملاوٹ پر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ملت کا مستقل پروان چڑھ رہا ہے، جب دلشاد کی بچی نرم نرم ، گرم گرم پکوڑیوں پر پل کر جوان ہو گی ، جب زبیدہ کا محمود دہی بڑوں کی چاٹ پر سیانا ہو گا تو اسلام کی برادری میں دو گراں قد رکارکنوں کا اضافہ ہو جائے گا“۔ مولانا سید محمود اسعد مدنی کے انعام پر تنقید کرنے والے مودودی صاحب کی تصویر اور ایک تحریر کو مسکان کی تصویر کے ساتھ نشر کررہے ہیں۔ نصف صدی قبل انتقال کر جانے والے شخص کا اس واقعے سے کیا تعلق ہو سکتا ہے ؟خود پسندی جماعت کے حوالے سے ہو یا ذات کے حوالے سے ،عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے ۔ ایک احمق نے مودودی صاحب کا یہ قول بھی نقل فرمایا کہ اگر دو آنکھیں تاڑنے والی ہوں تو پچاس ہاتھ روکنے والے ہوں۔ یہ بے وقوف یہ بھی نہیں سمجھ سکا کہ یہاں پچاس ہاتھ تھے اور دو جرات مند آنکھیں۔ ایسے کم عقلوں کو چاہیے کہ وہ مولانا محمود اسعد اور دیگر علما پر سیخ پا ہونے کی بجاۓ اپنا قبلہ درست کریں۔

0 Comments