نہیں مدنی صاحب، نہیں۔۔
تحریر سید ذکی
اس پاک وجود کو ایسے نہ تولئے۔ پانچ لاکھ تو کیا ہندوستان کی ساری دولت اور زر و جواہر بھی اگر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دینے جائیں اور دوسرے میں یہ معصوم وجود، تب بھی پلڑا اس پاک وجود کا ہی بھاری رہے گا۔
محترم بزرگ، آپ کاغذ کے یہ ٹکڑے واپس لے لیجئے اور اپنا دست شفقت اس کے سر پر رکھ دیجئے، ایسے کہ پھر سارے ہندوستان میں کسی دوسرے کی مجال نہ ہو کہ وہ نظر اٹھا کر ایسی پاک روحوں پر نگاہ بد ڈال سکے۔
آپ یہ کرسکتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے آپ یہ کرسکتے ہیں۔ ایسا ہو سکتا ہے، بالکل ہو سکتا ہے۔
دنیا نے دیکھ لیا نہ کوئی تلوار چلی، نہ بندوق اور چند معصوم للکاروں نے ہندوستان کے سیکولرازم کو چھلنی نہیں کیا بلکہ زمیں بوس کرڈالا۔
محترم مدنی صاحب زمین و آسمان کی ساری قندیلیں بجھا دی جائیں، سارے ستارے ماند پڑ جائیں تب بھی آسمان حمیت پہ روشنی کے لئے یہ ایک ستارہ کافی ہے۔
اے محترم بزرگ، ہم سب کے سر پہلے ہی ندامت سے جھکے ہوئے، دامن خالی اور چیخیں سسکیوں میں بدل چکیں۔
ہم پر رحم کھائیے، ہمارا مذاق نہ اڑائیے۔
ہمارے مردہ ضمیروں پر پانچ پانچ لاکھ کے تازیانے نہ برسائیے۔
ان معصوم پاک جسموں کو کاغذ کے رنگین ٹکڑے نہیں، آپکی سرپرستی اور تحفظ درکار ہے۔
خدارا، ان کے سروں پر دست شفقت رکھ دیجئے۔
جناب مدنی، پانچ لاکھ معصوم مسکان کی ایک پاکیزہ مسکراہٹ کا مول نہیں ہوسکتے تو بھلا اسکے آہن میں ڈھلے عزم و حوصلہ کا "انعام" کیا ہونگے، ہندوستان کی جمہوریت جس کے سامنے منہ کے بل گری ریزہ ریزہ ہورہی ہے، آر ایس ایس کے جھنڈوں کا زعفرانی رنگ جس کے جوتوں کی دھول بن کر اڑ رہا ہے۔۔!

0 Comments