بھاجپا اور غیر بھاجپا حکومت کا فرق سمجھنا ضروری ہے 

ووٹ فار مہلت

 اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں الیکشن شروع ہونے جارہےہیں، اب ضروری ہے کہ ہم اس میں زمینی بنیادوں پر مطلوبہ کردار ادا کریں، تاکہ ہمارے سر پڑی ہوئی سَنگھی ہندوتوا کی بلائیں کسی قدر کم ہوسکیں،

ہم سیکولر پارٹیوں کے کتنے خلاف ہیں شاید اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، ابھی جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی خاطر کچھ مہلت حاصل کرنے کے لیے ہے، جیسے کہ، آج اگر بھاجپا کی حکومتیں حجاب پر پابندیاں لگا کر ہمارا چین و سکون غارت کر رہی ہیں تو یہی کام راجستھان میں کانگریسی حکومت نہیں کرسکتی ہے ہزاروں ہندوﺅں کے مطالبے کے باوجود، کیونکہ بہرحال اسے اپنا چہرہ بنائے رکھنا ہے، جیسے کہ، آج گجرات و مدھیہ پردیش میں گئو کشی اور تبدیلئ مذہب کےنام پر جابرانہ قوانین بناکر سینکڑوں مسلمانوں کی زندگی عذاب بنائی جارہی ہے لیکن یہی ٹرائل تلنگانہ، تملناڈو، پنجاب یا کیرالہ میں نہیں ہوسکتا کیونکہ وہاں کی حکومتوں کو اپنی اپنی سیاسی بنیادیں محفوظ رکھنی ہیں، یقینًا یہ مسلم نواز حکومتیں نہیں ہیں ناہی ان کی پالیسیوں کو ہم مسلمانوں پر احسان مانتے ہیں یہ ان اپنی خود کو سیکولر دکھلانے کی مجبوری ہے، 

 مثال کے طورپر سمجھیے کہ، ہمارے یہاں مہاراشٹر میں آج مہا وکاس اگھاڑی کی سرکار ہے جس میں کمیونل پارٹی شیوسینا کا وزیراعلیٰ ہے لیکن اس کو وزیراعلیٰ بنایا ہے دو سیکولر پارٹیوں کانگریس اور این سی پی نے مل کر، اس کا فائدہ کوئی ہم لوگوں سے پوچھے، اس سے پہلے جب فڑنویس کی بھاجپا سرکار تھی تب آئے دن زہر اگلنے اور مسلم مخالف پالیسیوں کی خبریں گردش کرتی رہتی تھیں، لیکن اب جب امراؤتی میں بجرنگ دل اور بھاجپا نے فساد پھیلانا چاہا، جب ممبئی میں ٹیپو سلطان کے نام پر وشو ہندو پریشد اور بھاجپا نے دنگا بھڑکانے کی کوشش کی تب بھاجپا سمیت متشدد بھاجپائی ہندوتوا کارکنوں پر پولیس کی ناصرف لاٹھیاں برسیں بلکہ اٹھا اٹھا کر جیلوں میں بھی ڈالا گیا، 

آپ کو یاد ہے؟ مسلم عورتوں کی آن لائن نیلامی کا ایک ٹرائل ہندوتوا جنونیوں نے سلّی ڈیل اور Bulli bai ایپلیکیشنز کے ذریعے شروع کیا تھا ہماری کتنی ہی جانباز مسلمان بہنوں کی تصاویر ان ایپلیکیشنز پر شائع کرکے انہیں فروخت کرنے کی کوشش کی گئی، یہ انتہائی گھٹیا اور شرمناک ظلم تھا جو ہندتوا دہشتگردوں نے مسلم عورتوں کےخلاف کیا، لیکن آپکو یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ، اس کیس کو حل کیا ممبئی پولیس نے، اس پر تفتیش اور کارروائی کرکے سنگھی مجرموں کو ملک کے کونے کونے سے جاکر پکڑا ممبئی کرائم برانچ پولیس نے، ممبئی پولیس کو یہ طاقت کس نے دی؟ اگر بھاجپا کی سرکار ہوتی تو کیا یہ ممکن ہوپاتا؟ اب آپ کو میں اس مقدمے کا دوسرا پہلو دکھاتا ہوں، جب مسلم عورتوں کی آنلاین نیلامی کا یہ شرمناک سلسلہ ناپاک نظروں والے سنگھیوں نے شروع کیا تو کئی سارے مسلمان ممبران پارلیمنٹ نے ملکر یہ مسئلہ مرکزی وزارت داخلہ میں امیت شاہ کے روبرو پیش کیا کہ اس بےشرم ننگے ناچ کو بند کروائیے لیکن امیت شاہ نے بحیثیت بھارتی وزیرداخلہ اس کے لیے کچھ بھی نہیں کیا، اس کے کئی دنوں بعد ممبئی پولیس نے مہاراشٹر سرکار کی طرف سے اس مسئلے کو حل کیا۔

ہم کو سیکولروں سے کوئی امید نہیں ہے ان کے مقابلے میں ہمیشہ ہم اپنے مسلمان بھائی کو ہی ترجیح دینا چاہیں گے، البتہ ہم سیکولروں کی مجبوری اور سیاسی ضرورت کو پہچانتے ہیں، خود ہمارے خلاف مہاراشٹر ممبئی پولیس میں کیس چل رہاہے اس کےباوجود ہم کہہ رہےہیں،  فرق سمجھیے، اگر یہی کیس ہم پر اترپردیش میں ہوتا تو یو۔اے۔پی۔اے لگ جاتا اور یوگی کا نفرتی غنڈہ دماغ گھروں پر بلڈوزر چلوانے کا حکم دیتا ۔

 اس لیے ہم آپ کو یہ مشورہ امانت سمجھ کر دینا چاہتےہیں کہ سیکولر کہلانے والوں کی سیاسی ضرورت کو فی الحال کسی بھی طرح ہمیں اپنے مفاد میں استعمال کرنا چاہیے، ان پانچوں ریاستوں میں غیربھاجپا سرکار اگر بنتی ہے تو ہمیں ایک فرصت ایک مہلت اپنی تیاریوں کے لیے مل سکتی ہے، جس کے دوران ہم اپنی مسلم قیادت کے لیے گراؤنڈ ورک تو کرسکیں گے اور اپنا ایک نیٹورک تعمیر کرسکیں گے، لہذا جہاں کہیں غیر بھاجپائی امیدوار جیت رہا ہو اسے جیتنا چاہیے، یہ ہمارے مسائل کا حل نہیں ہے، سیکولر کتنا کمینہ ہوتاہے وہ ہم بخوبی جانتےہیں لیکن اُن کی سیاسی دکھتی رگ ہم دبا سکتےہیں بھاجپا کی نہیں دبا سکتے، یہ مشورہ اُس عارضی مہلت کا راستہ ہے جس کی آج اس پُرشور ہنگامہء ہندوتوا میں مسلمانوں کو تلاش ہے، جہاں مسلمان امیدوار جیت رہا ہو اسی کو جتایا جائے اور جہاں غیر بھاجپائی جیت رہا ہو وہاں اسے، تاکہ آئندہ مکمل تیاریوں کے ساتھ گراؤنڈ نیٹورک کےساتھ مسلمان اپنی قیادت کا دعویٰ صرف پیش نہ کرسکیں بلکہ حاصل بھی کرلیں، 

ہم کو ہندوتوا اور سیکولروں کے مقابلے میں اب مسلمان قیادت اور اپنی سیاسی طاقت کھڑی کرنی ہی ہے اس ملک کے ہندو جس طرح فرقہ پرستی کی بھٹی میں سلگتے جارہےہیں اس کو دیکھتے ہوئے ان سے آئندہ کے لیے تعمیری امیدیں معدوم ہورہی ہیں، لیکن ہماری طاقت ہوا میں نہیں بلکہ زمین سے لےکر ایوانوں تک بنانی ہے، کاش کہ سترسالوں سے ہماری ملی قیادتوں نے کانگریس کی غلامی کرنے کی بجائے مسلم سیاسی طاقت بنانے کا کام کیا ہوتا تو آج ہمیں اس مہلت کی تلاش نہ ہوتی، اور ستم ظریفی دیکھیے کہ جب آج اُس مہلت کی تلاش ہے تو قیادتیں بھارتی سرکار سے ملنے کی فرصت تلاش رہی ہیں_

ووٹ فار مہلت 

سمیع اللہ خان