Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

قرض ایک بڑی آزمائش

 قرض ایک بڑی آزمائش


قبۃ الصخرۃ


سیدنا عروۃ بن زبیر بن عوام رحمہ اللہ(م۔ 94ھ) اماں جی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہونے کے ناتے آپ رضی اللہ عنہا کے قریب رہے ہیں۔ فرماتے ہیں مجھے میری خالہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: رسالت مآب ﷺ اپنی نماز میں کثرت سے یہ دعا پڑھا کرتے تھے

: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ 

فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا 

وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ 

وَالْمَغْرَمِ۔

ایک شخص نے پوچھا: آپ ﷺ اتنا زیادہ قرض سے پناہ مانگتے ہیں؟

فرمایا: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ

(صحیح بخاری 832، صحیح مسلم 587)

بندہ جب قرض تلے دب جاتا ہے تو پھر بات کرتا ہے تو(مجبوراً) جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے تو(مجبوراً) پورا نہیں کر پاتا۔

میرے اللہ میری تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی کے فتنہ اور موت کے فتنہ سے، میرے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہوں سے اور قرض سے۔

Post a Comment

0 Comments