غزل
کہ تم کو مجھ سے مجھے تم سے پیار کرنا ہے
بس ایک کام یہ دونوں کو یار کرنا ہے
جنوں سے ربط کو گو استوار کرنا ہے
کیا ہے عشق تو پھر اشتہار کرنا ہے
تو زندگی میں کسی موڑ پر ملے نہ ملے
ہمیں تو یار ترا انتظار کرنا ہے
یہ بات اور کہ وعدہ بھلا دیا تم نے
یہ طے ہوا تھا ہمیں اعتبار کرنا ہے
بڑے تپاک سے سینہ کو آگے کر دیتا
کہا تو ہوتا تمہیں تیر پار کرنا ہے
اگر بضد ہو تو دیتے ہیں تم کو دل اپنا
یقیں ہے ہم کو،، تمہیں تار تار کرنا ہے
ذرا سا گھور کے میری نگاہ میں دیکھو
تمہاری دو سے مری دو کو چار کرنا ہے
سکوں سے دل کے بہت تنگ آ گیا ہوں میں
کسی طرح سے اسے بے قرار کرنا ہے
بہت سوا ہے ادھر کچھ دنوں سے غم میرا
کسی رفیق کو اب غم گسار کرنا ہے
یہ طے کیا ہے کہ کرنا ہے رقصِ وحشت اب
سو خود کو پہلے بہت سوگوار کرنا ہے


0 Comments