Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

یہ بات اور کہ وعدہ بھلا دیا تم نے

غزل


کہ تم کو مجھ سے مجھے تم سے پیار کرنا ہے

بس ایک کام یہ دونوں کو یار کرنا ہے


جنوں سے ربط کو گو استوار کرنا ہے

کیا ہے عشق تو پھر اشتہار کرنا ہے


تو زندگی میں کسی موڑ پر ملے نہ ملے

ہمیں تو یار ترا انتظار کرنا ہے


یہ بات اور کہ وعدہ بھلا دیا تم نے

یہ طے ہوا تھا ہمیں اعتبار کرنا ہے


بڑے تپاک سے سینہ کو آگے کر دیتا

کہا تو ہوتا تمہیں تیر پار کرنا ہے


اگر بضد ہو تو دیتے ہیں تم کو دل اپنا

یقیں ہے ہم کو،، تمہیں تار تار کرنا ہے


ذرا سا گھور کے میری نگاہ میں دیکھو

تمہاری دو سے مری دو کو چار کرنا ہے


سکوں سے دل کے بہت تنگ آ گیا ہوں میں

کسی طرح سے اسے بے قرار کرنا ہے


بہت سوا ہے ادھر کچھ دنوں سے غم میرا

کسی رفیق کو اب غم گسار کرنا ہے


یہ طے کیا ہے کہ کرنا ہے رقصِ وحشت اب 

سو خود کو پہلے بہت سوگوار کرنا ہے


"نسیم خان"

Post a Comment

0 Comments