Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

جلا آے ہیں ہم گھر بار بھائی

غزل

ذرا پڑھئے کبھی اخبار بھائی

نہیں لگتے بھلے آثار بھائی 

جلا آے ہیں ہم گھر بار بھائی

نہیں ممکن ہے اب ادبار بھائی

ہے یہ کیا بات کہ باتوں کو میری

اڑا دیتے ہو تم ہر بار بھائی

جو چاہے لوٹنا مرضی تری ہے

ہے آگے وادیء پر خار بھائی

کئے جاتے ہو تم کیوں جاتے جاتے

تعلق کا مکاں مسمار بھائی

مراسم کی زمیں ہموار رکھئے

نہ رکھئے درمیاں دیوار بھائی

ضروری ہے نمائش قہقہوں کی 

ہو دل گرچہ بہت مردار بھائی

نہیں جاتی ہے اس کی بے قراری

ہے کچھ دن سے یہ دل بیمار بھائی

نہیں ہوتا کبھی بھی عشق،،اِس کا

ہوا کرتا بھی ہے پرچار بھائی

تری تب تو سمجھ پاؤں گا باتیں

خموشی توڑ،، کر گفتار بھائی

کسی تالاب سا میں تھم گیا ہوں

ہے تیرے بن عجب رفتار بھائی

یہاں ہر گام پر حیرت ملے گی

ہیں دنیا میں بہت اسرار،،بھائی

بہت مانی ہے تیری بات میں نے

نہ کر پھر سے کوئی اصرار،،بھائی

نہیں بکتی یہاں گاؤں کی چیزیں

ہے کیسا شہر کا بازار بھائی

تو اپنی بات کو مت تھوپ مجھ پر

مرے اپنے ہیں کچھ افکار بھائی

مری باتوں کو مت دل پر لیا کر

تو ہی تو ہے مرا دلدار،،بھائی

نہ چاہے جو اسی کی چاہ رکھنا

ہے یہ کرنا بہت دشوار بھائی

کہاں سے ساز چھیڑوں،،،زندگی کے

بہت الجھے ہوے ہیں تار بھائی

وہاں عزت ہے ملتی آدمی کو

جہاں مرتا نہیں کردار بھائی

مرے احباب ہوں گے،،،گر ہوے تو

ترے جیسے کوئی دو چار بھائی

کئی سارے دلوں کے ترجماں ہیں

کہے میں نے ہیں جو اشعار بھائی


"نسیم خان"

Post a Comment

0 Comments