کہاں ہیں ہم نوا شہزادیوں کے
نہ جانے کیا سے کیا کہنا پڑا ہے
بتوں کو بھی خدا کہنا پڑا ہے
ہمیں مقتل کی جانب لے گیا جو
اسی کو رہنما کہنا پڑا ہے
سیاسی مولوی کی صحبتوں میں
٫٫روا کو ناروا کہنا پڑا ہے
دغا دینا بنی ہے جن کی فطرت
اُنہیں بھی باوفا کہنا پڑا ہے
کہاں ہیں ہم نوا شہزادیوں کے
خود اپنا مدعا کہنا پڑا ہے
نہیں شرم و حیا کا پاس جن کو
اُنہیں کو باحیا کہنا پڑا ہے
یہی ہے وصف حیدر کا تقاضہ
٫سبھی کچھ برملا کہنا پڑا ہے
حیدر میواتی ندوی
8 فروری 2022ء بروز منگل۔

0 Comments