Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

کہاں ہیں ہم نوا شہزادیوں کے

کہاں ہیں ہم نوا شہزادیوں کے

نہ جانے کیا سے کیا  کہنا پڑا ہے

بتوں کو بھی خدا کہنا پڑا ہے


ہمیں مقتل کی جانب لے گیا جو

اسی کو رہنما کہنا پڑا ہے


سیاسی مولوی کی صحبتوں میں

٫٫روا کو ناروا کہنا پڑا ہے


دغا دینا بنی ہے جن کی فطرت

اُنہیں بھی باوفا کہنا پڑا ہے


کہاں ہیں ہم نوا شہزادیوں کے

خود اپنا مدعا کہنا پڑا ہے


نہیں شرم و حیا کا پاس جن کو

 اُنہیں کو باحیا کہنا پڑا ہے


یہی ہے وصف حیدر کا تقاضہ

٫سبھی کچھ برملا کہنا پڑا ہے

حیدر میواتی ندوی

8 فروری 2022ء بروز منگل۔

Post a Comment

0 Comments