غزل
مریں گے ہم بھی جیتے جی قیامت ایک دن ہوگی
ہمیں جب یار کی اپنے زیارت ایک دن ہو گی
کسی کے دل پہ میری بھی حکومت ایک دن ہوگی
نہیں معلوم کب پر یہ کرامت ایک دن ہو گی
ضروری تو نہیں اس دن مری سانسیں بھی چلتی ہوں
انہیں پر دیکھنا مجھ سے محبت ایک دن ہو گی
نہیں اچھا ہے الفت میں حدوں کو پار کر جانا
جنوں حد سے بڑھے گا تو ہلاکت ایک دن ہوگی
نیا یہ دور ہے اس میں ملا کر ہاتھ چل دیجے
کسی سے دل ملانے پر اذیت ایک دن ہوگی
شروعِ عشق میں باہم ادب آداب ہوتے ہیں
مگر پھر آپ،تم سے، تو کی عادت ایک دن ہوگی
نہ یوں مایوس ہو اے دل صنم گر بے رخی برتے
مہربانی،توجہ اور عنایت ایک دن ہوگی
کہیں ایسا نہ ہو اک دن کلیجہ منہ کو آجاے
نہ حد سے بڑھ محبت میں یہ حالت ایک دن ہو گی
وہ تجھ کو بھول بیٹھا ہے خدارا بھول جا تو بھی
اسے دل یاد کرنے سے مصیبت ایک دن ہوگی

0 Comments