Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

کسی کے دل پہ میری بھی حکومت ایک دن ہوگی

 غزل

مریں گے ہم بھی جیتے جی قیامت ایک دن ہوگی

ہمیں جب یار کی اپنے زیارت ایک دن ہو گی

کسی کے دل پہ میری بھی حکومت ایک دن ہوگی

نہیں معلوم کب پر یہ کرامت ایک دن ہو گی

ضروری تو نہیں اس دن مری سانسیں بھی چلتی ہوں

انہیں پر دیکھنا مجھ سے محبت ایک دن ہو گی

نہیں اچھا ہے الفت میں حدوں کو پار کر جانا

جنوں حد سے بڑھے گا تو ہلاکت ایک دن ہوگی

نیا یہ دور ہے اس میں ملا کر ہاتھ چل دیجے

کسی سے دل ملانے پر اذیت ایک دن ہوگی

شروعِ عشق میں باہم ادب آداب ہوتے ہیں

مگر پھر آپ،تم سے، تو کی عادت ایک دن ہوگی

نہ یوں مایوس ہو اے دل صنم گر بے رخی برتے

مہربانی،توجہ اور عنایت ایک دن ہوگی

کہیں ایسا نہ ہو اک دن کلیجہ منہ کو آجاے

نہ حد سے بڑھ محبت میں  یہ حالت ایک دن ہو گی

وہ تجھ کو بھول بیٹھا ہے خدارا بھول جا تو بھی

اسے دل یاد کرنے سے مصیبت ایک دن ہوگی

"نسیم خان"

Post a Comment

0 Comments