Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

اسلامی تاریخ (تاریک) نگاری

 ” اسلامی تاریخ(تاریک ) نگاری“

حامدمحمودراجا

درس نظامی میں شامل علوم وفنون کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ ابتدائی سالوں میں عربی قواعد و زبان کی کتب شامل ہیں،جیسے: علم النحو،علم الصرف ، علم الصیغہ ، ہدایۃ النحو، کافیہ ،شرح جامی ، مقامات وغیرہ۔ وسطانی درجات میں کتب فقہیہ جیسے: قدوری ، کنز، شرح وقایہ اور ہدایہ شامل نصاب ہیں۔ منتہی درجات میں قراٰن و حدیث کی کتب جیسے: آثارالسنن ،جلالین ، مشکوٰۃ ،بیضاوی اور صحاح ستہ شامل نصاب ہیں۔ اس سے نصاب کی تدریجی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے ۔ میرے ساتھ اتفاق ایسا ہوا کہ فقہی دور میں مَیں نے علامہ شبلی نعمانی ؒ کی” سیرت النبی“ تین مرتبہ بالاستعیاب پڑھی ۔ اس کے ساتھ حضرت تھانویؒ کی کلید منثوی زیر مطالعہ رہی ۔ فقہی کتب میں علماء و طلبہ کے لیے حنفی شافعی اختلاف میں ترجیحات کا تعین دل چسپی کا باعث ہوتاہے اور اس دوران یہ مزاج پر حاوی بھی  ہوا کرتا ہے ۔ فقہی دور میں سیرت النبی کے مطالعہ  کا  نتیجہ یہ نکلا کہ سیرت النبی میں مذکور تاریخی کتب کے حوالے سےمیرا تجسس بڑھنے لگا کہ ِان کتب کے مصنفین حنفی ہیں یا شافعی ؟ جیسے جیسے میں اِن مصنفین کا مسلک جانتا گیا، میری پریشانی میں اضافہ ہوتا گیا،اگرچہ بعد میں میری یہ پریشانی،شادمانی میں تبدیل ہو گئی ۔ میں  نے جانا کہ: 

(1)ابن جریر طبری (متوفی۳۱۰ھ)  شافعی  ہیں۔ 

(2)علامہ عبدالرحمن ابن خلدون (متوفی۸۰۸ھ)مالکی ہیں۔ 

(3)ابن اثیر (متوفی۶۰۶ھ)شافعی ہیں۔ 

(4)احمد بن محمد بن ابراہیم بن خلکان (متوفی۶۸۱ھ)شافعی ہیں۔ 

(5)اسماعیل بن عمر بن کثیر (متوفی۷۹۲ھ)شافعی ہیں۔ 

(6) بہاء الدین قاسم بن عساکر (متوفی۷۲۳ھ)شافعی ہیں۔ 

(7)يُوسُف بن عبد الله بن مُحمَّد بن عبد البر النمري  (متوفی۴۶۳ھ)مالکی ہیں۔ 

یہ نکتہ ذہن میں رہا اور پھر رفتہ رفتہ اس کی وجہ بھی ذہن میں آئی کہ شوافع میں تاریخ نگاری  کا یہ مزاج روایت پسندی کے زیر اثر پروان چڑھا ۔ شوافع روایت حدیث اور روایت تاریخ کے فرق کو  ملحوظ خاطر نہ رکھ سکے ،  انھوں نے تاریخ کی کتب بھی اسی طرح تصنیف کرنے کی کوشش کی جیسے کتب حدیث مدون کی گئی تھیں لیکن رواۃ کی جرح و تعدیل  کا اس میں نام تک نہ تھا ، بلکہ اکثر قال بعض الناس(کسی نے مجھے بتایا) سے کام چلایا ۔پاک و ہند  کےروایت پسند علامہ ابن کثیرؒ کو مفسر اورمحدث کے روپ میں د یکھ کر اُن کے عقیدت مند ہو جاتے ہیں لیکن تاریخ نگاری میں جو بے احتیاطیاں انھوں نے کیں ، اُن پرہونٹ سی لیتے ہیں،یہ عجیب مخصمے کا شکار ہیں، صحیح،صریح اور غیر متعارض حدیث کا ثبوت مانگنے والے علامہ ابن کثیر سے تاریخ کاثبوت طلب نہیں کرتے ۔ پاکستان میں ناموس صحابہ پر کام کرنے والے حضرات نے  دریدہ دہنوں کی دیگر برائیاں تو بیان کیں لیکن تاریک نگاری کے اس  جدل کو کماحقہ جان سکے اور نہ ہی بیان کرسکے ،یہ کام شعوری طور پر ہوا یا غیر شعوری طورپر ،لیکن اچھا ہوا۔

امام ابو حنیفہ کے مزاج کی کچھ جھلک علامہ شبلی نعمانی کی ”سیرت النبی“ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ اس کتاب کی جلد اول تمام طلبہ کو پڑھنی چاہیے اور مقدمہ تو بار بار پڑھنا چاہیے ۔ علامہ مرحوم نے واقدی کے حوالے جو بحث کی ہے ،اِسی مزاج پر مبنی ہے ۔ امام ابو حنیفہ اخذ روایت میں نہایت محتاط واقع ہوئے تھے ، وہ خود کوفہ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے روایت گھڑنے کی اس سب سے بڑی فیکٹری کے بارے میں خوب جانتے تھے ۔ میں حنفی شافعی مزاج میں فرق کی یہ سوچ اپنے ذہین میں پختہ کرچکا تھا کہ  مولانا سید حسین احمد ؒ کی یہ عبارت نظر سے گزری:”مورخین کی روایتیں تو عموماً بے سروپا ہوتی ہیں، نہ راویوں کا پتاہوتا ہے اور ان کی توثیق و تخریج کی خبر ہوتی ہے، نہ انفصال و انقطاع سے بحث ہوتی ہے اور اگر بعض متقدمین نے سند کا التزام بھی کیا ہے تو عموماً ان میں ہر غث و ثمین سے ارسال و انقطاع سے کام لیا گیا ہے ۔خواہ ابن اثیر ہوں یا ابن قتیبہ، ابن ابی الحدید ہوں یا ابن سعد۔“ (مکتوبات شیخ الاسلام جلد ۱ صفحہ ۲۶۶)۔یہ جاننے کے باوجود کہ حدیث اور تاریخ دو الگ الگ علم ہیں، ابن شہاب زہری اور ابن جریر طبری کو ایک لاٹھی سے ہانکنا قرین قیاس نہیں ، نیزتاریخ کا منکر ، حدیث کا منکر نہیں۔ جب کہ یار لوگ بضد ہیں کہ تاریخ کا منکر، حدیث کا منکر ہے ۔


اسلامی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں ابن جریرطبری کو اولیت زمانی حاصل ہے ۔ انھوں نے اپنی تاریخ میں بے سروپا باتیں اور رطب و یابس مواد نقل کردیا ہے ۔ د لیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ اجی وہ تومؤرخ ہیں اور انھوں نے غیر جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تصویر کے دونوں رخ واضح کردیے ہیں۔ لیکن  کیا صحابہ کرام کے حوالے سے تصویر کے دو رخ ہو سکتے ہیں؟ طبری کے حوالے سے ایک دل چسپ بحث یہ بھی موجود ہےکہ طبری نام کے دو شخص ہیں ایک دریدہ دہن اور درسرامؤرخ طبری ۔ طبری نام کے دو آدمی تھے یا دس ،اس سے غرض نہیں ۔ سوال تو یہ ہے کہ تاریخ طبری کے مصنف نے اپنی تاریخ میں اصحاب رسو ل کے حوالے سے جو لکھا ہے کیا وہ منصب صحابیت کے شایان شان ہے ؟ 

بعد کے مؤرخین نے مکھی پر مکھی ماری اور طبری سے مواد نقل کرکے اپنی کتب میں جمع کردیا ، کچھ شک  ہے تو بسم اللہ کیجیے اورکتب تاریخ اٹھا کر پڑھیے ۔ یہ اکثر  بالمعنی روایت کرتے ہیں  اور بعض اوقات صفحے کے صفحے لفظ بلفظ  طبری سے نقل کردیتے ہیں۔ حوالہ دونوں صورتوں میں نہیں دیتے ،کیوں کہ دعوی ہے ”البدایۃوالنہایۃ“ کا،  ہم کائنات کی ابتدا سے لے کر  اب تک کی تاریخ جانتے ہیں  ۔بغیر حوالہ لکھنے کو علمی   دنیا میں سرقہ او ر چوری کہا جاتا ہے ۔ جوگی اپنی کٹیا سے اورمولوی اپنے حجرے سے نکلتا نہیں اور علم ساری دنیا کا رکھتاہے،فیا للعجب! ۔ مروجہ اسلامی بنکاری کے شریعہ ایڈوائزر بھی   36   ممالک کے نام نہاداسلامی بینکوں  کی ایڈوائزری  یوں ہی تو نہیں  کرتے، باقی 20 ممالک کے بینکوں سے معاملات طے کرنے کے لیے گفت و شنید جاری ہے ۔ خبردار! جو آپ نے اُن کی اہلیت پر انگلی اٹھائی تو ، آپ ان پہنچے ہوئے بزرگوں کی کرامات کے منکر قرار دیے جائیں گے ۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ حضرت کے لیے زمین لپیٹ دی گئی ہے۔وہ ایک قدم اٹھاتے ہیں تو ملائیشیا کے بنک میں پہنچ جاتے ہیں ، دوسرا قدم اُٹھاتے ہیں تو متحدہ عرب امارات کے بنک میں اُن کا ورود مسعود ہو جاتا ہے۔ اُن کے وقت میں برکت دی جا چکی ہے اور اُن کے چوبیس گھنٹے ہمارے اڑتالیس گھنٹوں کے برابر ہوا کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے شیخ الاسلام سوتے ہوئے بھی کام کرنے کے عادی ہیں اور انھوں نے امام ابوحنیفہ سے باختلاف روایات نو سال یا سات سال عالم نوم میں پڑھا ہے ۔ 

مؤرخین کے ہاں نقل در نقل ایک عام چیز ہے ، وہ بغیر تحقیق ایک بات کو آگے سے آگے سے پہنچا دیتے ہیں۔مولانااسماعیل ریحان کے طرف داروں نے ایک  جملہ بار بار کہا کہ انھوں نے وہی لکھا جو تاریخ کی کتب میں لکھاہوا ہے ۔ یہی جملہ بعینہ خلافت وملوکیت میں درج ہے ۔ تاہم محققین ہر نکتے پرغور کرنے کے عادی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ مولانا ثناء اللہ سعد کو قاضی طاہر ہاشمی کے حوالے سے کہنا پڑا کہ وہ بلاوجہ بال کی کھال اُتارتے ہیں۔ مولانا ثناء اللہ سعد چوں کہ تاریخ کے طالب علم ہیں  اورمؤرخین لکیر کے فقیر گزرے ہیں، وہ اسی مزاج کے شناسا ہیں، تحقیق والی عادت اُن کو عجیب لگی ۔ مولانا ثناء اللہ سعد کی ایک اور بات پر حیرت ہوئی ،فرماتے ہیں کہ مولانا اسماعیل ریحان نے ایک انقلابی کام کیا لیکن بس دوچار جگہ صحابہ کی عظمت کا خیال نہیں رکھ پائے ۔   دوچار کو چھوڑیں، کیا ایک جگہ بھی اس غلطی کی گنجائش موجود ہے ؟ مولانا موصوف ناموس صحابہ کے حوالے سے حمیت کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن معلوم نہیں یہاں کیوں لچک کے قائل ہو گئے ؟

واضح رہے کہ یہ بحث مسلم مؤرخین کے اسلوب کا پوری طرح احاطہ نہیں کرتی ،اس میں چیدہ چیدہ باتیں کی گئی ہیں، کسی غلط فہمی کاشکار ہوئے بغیر یہ ذہن نشین کر لیا جائے کہ :

(1)مطلقًا تاریخ نگاری زیربحث نہیں۔ 

(2)صحابہ کرام تاریخ نہیں، قراٰن وحدیث کی شخصیات ہیں،لہذا کسی لکیر کے فقیر کے مؤرخ کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی تاریک نگاری کی اس عدالت میں اصحاب رسول کو لے آئے۔

(3)مسلم مؤرخین نے خود تحقیقا ت نہیں کیں اور انھوں نے مجہول اشخاص سے منسوب روایات اپنی کتب میں شامل کردیں۔

(4)بہتر ہو تا کہ یہ لوگ تاریخ عالم یا تاریخ کائنات کے بجائےاپنے زمانے کے حالات و کوائف لکھتے ۔

Post a Comment

0 Comments