بارہویں میوات ہیریٹیج واک" نوح سے فتح پور سیکری تک
صبح میں عین وقت پر میوات ہیریٹیج واک کی سُدھ لی، کال کی، بات بن گئی، یہ ہیریٹیج واک "میوات کل آج کل" کے منتظمین کی جانب سے منعقد کی گئی بارہویں واک تھی،
رات کی بارش سے موسم بہت سہانا اور خوشگوار ہو گیا تھا، اب بھی ہلکی ہلکی پھوار جاری ہے جو فصل پر بار گزر رہی ہی، راجستھان میں موسم میں کھنکی تھی لیکن بارش کم تھی!
صبح سات بجے بس نے بھادس، بڑکلی، پنگواں ،پُنہانہ ،جُرہَیڑھ،کاماں سے رفقائے سفر کو ساتھ لیا اور دس بجے ضلع ڈیگ (دو روز قبل ہی راجستھان میں 19 اضلاع بنائے گئے ہیں ان میں ڈیگ بھی شامل ہے) کے جل محل پہنچ گئے، ڈیگ جاٹوں کی اول ریاست ہے جسے بَدَن سنگھ نے 1755 میں منظم کیا، پھر راجا سورج مل نے بھرتپور کو صدر مقام بنایا، اس طرح 1952 تک تیرا راجاؤں نے یکہ بعد دیگر ہاں حکومت کی، اس حکومت میں میؤوں کا بھی بہت اہم کردار رہا اور راجہ بھی ان کا خاص اکرام کرتے رہے.
ہمارا پورا کارواں باون افراد پر مشتمل ہوا، محل میں ہمارے استقبال میں قریبی گاؤں مادلکا کے سرپنچ ظہیر ماسٹر موجود ملے،سرپنچ صاحب کے ڈیگ کے موجودہ ایم ایل اے اور راج گھرانے کے وارث مہاراجہ وشویندر سنگھ سے گہرے مراسم ہیں،اور یہ تعلقات ان کے پشتینی منتقل ہوتے آ رہے ہیں، سرپنچ صاحب کے دادا ان کے دائیں سمت دیوان میں بیٹھا کرتے تھے،
بہر کیف سب سے پہلے ہمیں محل کی مرکزی عمارت دکھائی گئی،داخل ہوتے ہی سامنے گرینائٹ پتھر کی مسہری دکھائی گئی، جسے راجہ سورج مل دہلی سے مغل بادشاہ کا خصوصی بیڑ سمجھ کر اٹھا لایا تھا😁، بعد میں معلوم ہوا کہ اس پر تو مردوں کو نہلایا جاتا ہے، اس محل کو جل محل یا گوپال محل کہا جاتا ہے جو سامنے سے ایک، برابر سے دو، اور عقب سے چار منزلہ نظر آتا ہے، راجہ سورج مل نے اس محل کو گرمی گزرانے کے لیے بنوایا تھا.
جل محل کے بالکل سامنے ایک جھولا ہے جس کے دامن میں یہ فارسی کا شعر کندہ ہوا ہے
دایما چون دولت ایں پادشاہ و جم سپاہ
ایں ہمایون برج عالی باد آزافت بی زوال
سنہ ١٠٤١ھ
یہ مغلیہ سلطنت کا دہلی سے اٹھا کر لایا گیا جھولا بتایا جاتا ہے.
گوپال محل (جل محل) کے دائیں طرف ایک اور مدرسہ نما عمارت ہے، گائیڈ نے بتایا کہ یہ عمارت اگرہ کا مدرسہ ہے، جسے راجہ آگرہ سے بیل بگی کے ذریعہ اٹھا لایا اور کمال مہارت سے اسے ہوبہو یہاں نصب کرا دیا گیا، اس سے اگے بھی ایک کھنڈر عمارت سورج بھوَن ہے جو مسلمانوں کے طرف منسوب کی جاتی ہے.
البتہ یہاں کے مسلمان مانتے ہیں کہ یہ قلعہ ایک نواب نے بنوایا اور اس میں ایک مسجد بھی ہے، نواب صاحب حج کو چلے گئے اور ان کی والدہ یہیں اس مسجد میں عبادت کرتی تھی جسے نواب نے خاص اپنی خواب گاہ کے قریب بنوایا تھا.
ڈیگ سے قریبی قصبہ کا محل نواب کی پھوپھی کشوری کے نام پر بنا ہوا ہے.
حالانکہ تاریخی حقائق اس کے برخلاف ہیں یہاں کبھی بھی کسی مسلم نے حکمران لمبی حکومت نہیں کی البتہ تاریخ میؤ کھشتری میں لکھا ہے کہ شاہ عالم بادشاہ دہلی کے زبردست وزیر نواب ذوالفقار الدولہ مرزا نجف خاں نے حملہ کر ایک سال کچھ ماہ یہاں بتائے.
(تاریخ میؤ کھشتری 178صفحہ)
ڈیگ محل کی وجہ شہرت و عزت یہاں دو ہزار فواروں کا دلکش نظام ہے، یہ فوارے سال میں دو بار (یکم اپریل اور اگست کو) چلائے جاتے ہیں، یہ فوارے بغیر بجلی کے خود بخود چلتے ہیں اور رنگین نظارے پیش کرتے ہیں،در حقیقت ڈیگ کے راجا نے مغلیہ مزدوروں سے یہ فوارے بنوائے تھے، اس علاقائی جاٹ ریاست کا آغاز تب ہوا جب مغلیہ سلطنت لبِ دم ہو چکی تھی اور راج مستری و مزدور ہندوستان چھوڑ کر اپنے وطن ایران وغیرہ کی جانب کوچ رہے تھے. (وکی پیڈیا)
ہندوستان بھر میں جاٹوں کی یہ واحد ریاست رہی اور آج بھی عوام شاہی گھرانے سے سیاسی و سماجی طور پر وابستہ ہے.
جل محل کے دیوار سے ڈیگ قلعے کی بلند دیوار ملی ہوئی ہے، جس کے اوپر آگرہ قلعہ سے لائی ہوئی توپ رکھی ہوئی دکھائی دیتی ہے.
*بھرتپور کی طرف*
بارہ بجے ہم ڈیگ سے نکلے اور ایک بجے بھرتپور پہنچے یہاں ہوٹل "سُواد اِن" میں ظہرانہ تناول کیا، دو بجے خانواہ کے تاریخی مقام کی جانب بڑھ چلے، تین بجے کے قریب ہم خانواہ کی اس پہاڑی پر پہنچے جہاں رانا سانگھا کا بڑا سا مجسمہ نصب ہے اور ان کے دائیں راجا میدنی رائے اور بائیں جانب راجا حسن خان میواتی کے مجسمے کھڑے کئے گئے ہیں.
اس پہاڑی کے پیچھے پوری تاریخ جڑی ہے، جہاں راجپوت رانا سانگھا نے دوسرے راجاؤں کے ساتھ ملکر متحدہ محاذ تیار کیا، جس کے محرک راجا حسن خاں میواتی تھے اور بابر سے سن 1927ء میں جنگ لڑی، زور کا رن پڑا، بابر کی توپ چلی اور راجپوتوں کی فوج کو شکست فاش ہوئی، اسی جنگ میں حسن خاں میواتی بھی اپنے بارہ ہزار فوجیوں کے ساتھ شہید ہوئے، ان مجسموں کی پردہ کشائی کرنے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت یہاں آئے تھے اور انہوں نے کھلے دل کے ساتھ راجا حسن خاں میواتی کی تعریف کی تھی.
اس موقع پر آل انڈیا میؤ مہا سبھا سے جڑے لوگ فتح پور سیکری سے یہاں آ گئے، جو سبھا کے صدر جناب عبدالرشید میؤ نے مدعو کئے تھے، انہوں نے لائیو کوریج پر مجسمہ نصب کرنے تک کی جد جہد بتائی اور اپنے میواتی ہونے پر فخر کا اظہار کیا اور راجہ حسن خاں میواتی کو بھارت رتن دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا!
حاجی الطاف آلی میؤ کے ساتھ ظہر کی نماز اس احاطہ کے نگراں کرپال سنگھ کے کمرے میں ادا کی، خانواہ کو فتح کرنے کے بعد بابر نے یہاں ایک شاندار مسجد تعمیر کرائی جو اب تک موجود ہے.
مجسمہ کے پاس ایک سیشن چلا جس میں پروگرام کے محرک زبیر خان ڈیمروت نے انٹرویو کیا اور تاریخ کے اسکالر رفیقِ سفر الطاف میؤلی نے خانواہ کی جنگ پر مفصل روشنی ڈالی،ہر جگہ لائیو کوریج میں راقم سے بھی میزبان روبرو ہوئے !
یہاں آکر جذبات ہمت افزا ہوئے چونکہ اب تک صرف پڑھتے اور سنتے تھے اب اسی مقام کا مشاہدہ کر رہے ہیں حدیث میں صحیح کہا گیا ہے" ليس الخبر كالمعاينة" مسند احمد!
یہاں سے فتح پور سیکری جانا طے تھا مجھے وجہ معلوم نہیں ورنہ تو اس پہاڑی سے بیس کلومیٹر دور بیانہ قصبہ آباد ہے اور وہاں سے خانزادوں کی اصل بھی ہے، نیز بے شمار مسلم یادگاریں اور کھنڈرات ہیں جن کا ذکر ابن بطوطہ نے بھی کیا ہے، وہاں کا جانا طے ہونا چاہیے تھا.
تاریخ میؤ کھشتری صفحہ ١٥٤
بہر حال اب ہم یہاں سے اپنے آخری پڑاؤ فتح پور سیکری ڈھلتی شام کے ہمراہ بلند دروازہ کے مقابل پہنچ گئے، جو یقیناً بہت بلند ہے اس میں باون سیڑھیاں اور 176 فٹ سڑک سے اوپر تک کی بلندی ہے، انڈین جرنل نالج کے سوال میں اسے بلند ترین دروازہ بتایا جاتا ہے، در اصل 1601ء میں بادشاہ اکبر کے گجرات فتح کی خوشی میں اسے تعمیر کرایا گیا، اندر خوبصورت مسجد ہے جس کے دائیں جانب صحن میں خواجہ سلیم چشتی کا سفید سنگ مرمر کی جالیوں سے بنا خوبصورت مزار بنا ہوا ہے، جس کا بادشاہ اکبر بہت معتقد رہا اور اسی کی محبت و عقیدت میں فتح پور سیکری 11 سال تک ملک کی دارالحکومت بھی رہا، مسجد کے باہر قلعے کی فصیل تاحدِ نگاہ پھیلی ہوئی ہے، مختلف محلات موجود ہیں اور فتح پور سیکری وہی شہر ہے جس میں مغلیہ سلطنت کے عظیم بادشاہ اکبر (1556-1605ء) کا مقبرہ بھی موجود ہے.
مسجد میں عصر و مغرب کی نماز ادا کی، سلیم چشتی رح کی قبر پر فاتحہ پڑھا اور واپس ہوئے.
جب بس واپس ہوئی تو بس پہ در پہ کئی حادثات سے دو چار ہوتی ہوتی بچی، سب کے ہوش اڑ گئے، ڈرائیور سے دریافت کیا گیا تو سفید ریش سائق نے ہوشربا جواب دیا کہ مجھے رات میں کم دکھائی دیتا ہے، اتنا کہنا تھا کہ بس کے پیچلے حصے میں مزے کرتے نوجوانوں نے کلمہ و استغفار کا ورد شروع کر دیا، قہقہوں اور نغموں سے گونجتی محفل یکلخت خانقاہی مجلس میں بدل گئی اور پھر پورے سفر زباں پر ذکر، دماغ پر فکر اور دل میں بے چینی سوار رہی، سب راقم سطور سے دعا کے لئے اور حاجی الطاف صاحب سے راہبری کے لیے گہار لگاتے رہے.
حاجی الطاف صاحب ڈرائیور کے پاس بیٹھ گئے اور سب کے کہنے کی وجہ سے نوح تک ساتھ آئے اور پورے سفر میں تمام ساتھیوں کی خدمت کرتے رہے، نماز کے لئے ان کی طرح فکرمند کوئی نہیں تھا،حاجی Altaf Hussain Ali Meo عقلمند، سماجک، سیاسی، ذہین،ملنسار، خلیق و خوبرو نوجوان ہیں جو میوات کے مشہور گاؤں آلی سے تعلق رکھتے ہیں.
اس طرح سات بجے فتح پور سیکری (یوپی) سے چلی بس ایک بجے نوح آ لگی!
پوری واک کو جس خوبصورت انداز میں برادر Mujtaba Mannan اور عبدالصمد بھائی نے مرتب اور منظم کیا وہ سیکھنے کے لائق تھا اور بہت کچھ سیکھا بھی.
اس سفر کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس ہیریٹیج واک کے سفر خرچ کا پورا ذمہ راجستھان میؤ مہاسبھا کے صدر جناب ارشد صاحب نے اپنے ذمہ لیا.
سفر بہت کچھ سکھاتا ہے اور بہت نئے دوست بناتا اور تجربے دے جاتا ہے! اس سفر میں بھی سب حاصل ہوا.
*محمد تعریف سلیم ندوی*
19-03-2023 بروز اتوار


0 Comments