Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

میوات میں سماجی برائیوں کے خاتمہ کے لئے پنچایتوں کا انعقاد: ایک تجزیہ

میوات میں سماجی برائیوں کے خاتمہ کے لئے پنچایتوں کا انعقاد: ایک تجزیہ 

ڈاکٹر عارف الیاس ندوی

علاقہ میوات میں اصلاح معاشرہ  کے عنوان سے منعقد ہونے والے عوامی اجلاس ہوں یا پنچایتیں دونوں ہی  اپنی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔  ہم جس سماج میں رہتے ہیں وہ ایک جمہوری نظام کا حصہ ہے جہاں ہر شخص اپنی مرضی کا مالک ہے اور قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے اسے اپنی زندگی گزارنے کا مکمل اختیار ہے۔ سماج کی تشکیل میں مختلف افکار و خیالات اور اعتقاد کے حامل افراد کا کردار ہوتا ہے جس سے سماج ایک اکائی کی صورت میں وجود میں آتا ہے۔ ہر سماج اخلاقی اقدار کا پابند ہوتا ہے اور انھیں اخلاقی اقدار کی وجہ سے انسان کی شرافت اور اس کے ظرف کا معیار بھی طے ہوتا ہے کہ آیا وہ انسانی اقدار کا پاس و لحاظ رکھتا ہے یا انھیں اپنے پاؤں تلے روند کر آگے نکل جاتا ہے۔ 
اس حقیقت سے کلی انکار ممکن نہیں کہ ان عوامی اجلاس اور پنچایتوں سے فائدہ نہیں ہوتا، ان کے فوائد ہیں مگر حقیقت میں یہ پنچایتیں اصلاح معاشرہ کا فطری طریقہ نہیں ہیں۔ انسان یا انسانی معاشرہ کی اصلاح اس پر پابندیاں عائد کرکے نہیں کی جا سکتی. پنچایتوں کی پابندی کے نتیجےمیں جو اصلاح معاشرہ کی کوششیں ہوں گی وہ انسان پر اسی وقت تک اثر انداز ہوں گی جب تک انسان کو کسی دوسرے کے دیکھ لینے کا ڈر ہوگا، جیسے ہی انسان کو اکیلے میں سماج مخالف کام کرنے کا موقع ملے گا وہ برائی کرنے سے نہیں ھچکچائے گا، کیوں کہ ایسے شخص کی تربیت پابندی کے نتیجہ میں ہوئی ہوتی ہے جو کہ ایک وقتی عمل ہے۔
کسی بھی معاشرہ کی حقیقی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب کہ وہ معاشرہ صحیح اور غلط  کی تمیز کرتا ہو، اور برائی کو دل سے برا سمجھنے کا عادی ہو۔برائی کرنے کے نتیجے میں اس کو اپنے ضمیر کی ملامت کا ڈر ہو۔یہ شعور انسان کے اندر وعظ و تقریر سے بظاہر پیدا تو ہو جائے گا مگر یہ عمل دیرپا ثابت نہیں ہوگا، اس کا اثر اسی وقت تک ہوگا جب تک انسان کو برائی سے متعلق  سنا ہوا وعظ یاد رہے گا، جیسے ہی وعظ و نصیحت کا اثر زائل ہوگا انسانی طبیعت برائی کی طرف مائل ہونے لگے گی۔ صالح سماج کی تشکیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اچھائی انسان کے کردار، چال چلن، لین دین  اور طرز معاشرت کا اٹوٹ حصہ بن کر اس کی طبیعت ثانیہ نہ بن جائے۔ انسان کی کردار سازی کا عمل ایک مستقل عمل ہے جو چند گھنٹوں کے وعظ اور  بھاشن سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کردار سازی کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے اور تعلیم بھی ایسی جس میں اخلاقی اقدار کے پہلو کو نمایاں اہمیت حاصل ہو۔میوات میں سماجی برائیوں کے خاتمہ کے لئے پنچایتوں کی شکل میں ماضی میں جو بھی کوششیں کی گئی ہیں ان کے نتائج کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان پنچایتوں میں جو حضرات شریک ہوتے ہیں اور عوام کی نمائندگی کا فرض انجام دیتے ہیں عموما دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسی پنچایتوں میں کئے گئے عہدوپیمان کی مخالفت عملی طورپر وہی عوامی نمائندے ہی کرتے ہیں جن کو سماج کے لعن طعن سے نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی وہ سماج میں اپنی اہمیت و حیثیت کی وجہ سے ایسے عہد و پیمان کو لائق اعتناء ہی سمجھتے ہیں۔
پنچایتوں کا سلسلہ وار منعقد ہونا اور ان میں بڑے پیمانے پر بڑی رقم صرف کرنا جبکہ ان کےنتائج وقتی اور عارضی سے زیادہ کچھ نہ ہوں کسی بھی اعتبار سے  قابل تعریف قدم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ علاقہ کی تعلیمی صورتحال کسی سے مخفی نہیں ہے ۔ علاقہ میوات کو اگر ضرورت ہے تو تعلیمی بیداری کے پروگراموں کی، قوم کے ذہن کو تعلیم کے لئے تیار کرنے کی، پہلے سے موجود تعلیمی اداروں کے معیار کو بہتر بنانے کی، اور نئے اعلی معیار کے ایسے ادارے بنانے کی جو زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کی ایسی تربیت کریں جو ہر اعتبار سے سماج کے لئے نافع ہوں، جو ہر میدان میں قوم کی نمائندگی کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں، جو مذہبی امور کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ عصری علوم پر بھی کامل دسترس رکھتے ہوں۔ ایسی اعلی معیاری تعلیم و تربیت کے سایہ تلے جو نسل پروان چڑھے گی اس کے اندر برائی کو برائی سمجھنے کا مادہ پیدا ہوگا، اور وہ صالح سماج  کی تشکیل میں ایک مؤثر کردار ادا کرے گی۔

Post a Comment

0 Comments