غزل
ہم نے یہ بھید بھی الفت میں ہے جانا دل کا
کتنا پیارا ہے کسی شخص پہ آنا دل کا
مجھ کو نظّارہ کرا کے دو حسیں آنکھوں کا
وجد میں روح کو کیا خوب ہے لانا دل کا
اس لیے اہلِ جنوں مجھ کو بڑا مانتے ہیں
میں نے لا ریب ہر اک قول ہے مانا دل کا
میں اگر عشق نہ کرتا تو بھلا کیا کرتا
ٹال سکتا ہی نہیں تھا میں بہانا دل کا
بات تک کرنے کی فرصت نہیں تجھ کو مجھ سے
کیا سناؤں میں تجھے یار فسانہ دل کا
آج کچھ پھول تمنا کے کھلے ہیں دل میں
آج تو واقعی موسم ہے سہانا دل کا
ایک بس روح کو معلوم ہے کیا ہوتا ہے
اور سمجھے گا بھلا کون ستانا دل کا
تارِ مضراب پہ انگلی کا تھرکنا پہلے
پھر مری تازہ غزل جھوم کے گانا دل کا
ٹھہرے پانی پہ ہے کنکر کوئی پڑنے جیسا
حالتِ رقص میں بسمل کو لے آنا دل کا
ورنہ بے کیف ہی رہتا ہے ہر اک موسم میں
دورِ الفت ہے حقیقت میں زمانہ دل کا
چین آتا نہیں پہلو کے بدل لینے سے
جان لیتا ہے شبِ ہجر رلانا دل کا
دل نے جو کچھ بھی کہا ہم نے وہ سب مان لیا
ہم کو سمجھا ہی نہیں بات بنانا دل کا
"نسیم خان"

0 Comments