کیا عورت کو اسقاطِ حمل کا حق ہے؟
ہمارے ہاں "میرا جسم، میری مرضی" کے نعرے کی عجیب تاویلات پڑھے کم لکھے زیادہ صحافیوں اور سمجھے کم بولے زیادہ اینکرز نے شروع کر رکھی ہیں۔ یہ نعرہ اصلاً جس مفہوم کےلیے وضع کیا گیا وہ یہ تھا کہ عورت کو اپنے پیٹ کے متعلق یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ وہ اس میں بچہ رکھے یا گرائے۔
زیادہ نہیں تو امریکا میں پچھلی نصف صدی میں "ابارشن" پر ہونے والا مباحثہ دیکھ لیجیے، بالخصوص امریکی سپریم کورٹ کا مشہور فیصلہ Roe v Wade اور اس پر اٹھنے والی بحث ہی پڑھ لیجیے تو معلوم ہو کہ اصلاً یہ نعرہ اس سیاق میں اٹھا کہ مذہبی لوگ، بالخصوص کیتھولک مسیحی، جنین کی زندگی کے حق کی بات کرتے تھے، تو عورت کے جسم کے حق کی بات اس کے جواب میں پیش کی گئی اور اس نعرے کا مفہوم یہ تھا ، اور اب بھی یہی ہے، کہ جنین کی اس کے سوا کوئی حیثیت نہیں ہے کہ وہ عورت کے جسم کا ایک ٹکڑا ہے اور عورت کو اپنے جسم کے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔ چنانچہ جیسے وہ اپنی بھنویں تراش سکتی ہے، بال سنوار سکتی ہے، ناخن بڑھا سکتی ہے، کاسمیٹک سرجری کرسکتی ہے، ایسے ہی اسے حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ اس کے پیٹ میں کوئی جرثومہ parasite ، جو اس کا جسم چوستا ہے، باقی رہے یا نہ رہے۔ اس کو اصولِ قانون کی نصابی کتب میں "زندگی کے حامیوں" اور "اختیار کے حامیوں" کا تنازعہ کہتے ہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ یہ بحث شادی کے نتیجے میں واقع ہونے والے حمل کے تناظر میں نہیں ، بلکہ بدکاری اور حرام کاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حمل کے سیاق میں اٹھی۔ شادی کرتے ہی کتنے لوگ ہیں؟ بلکہ اصل مسئلہ انفرادی سطح پر ہونے والی بدکاری اور حرام کاری کا بھی نہیں تھا، اور نہیں ہے، بلکہ بدکاری اور حرام کاری کی انڈسٹری کی ہے۔ یہ بھی صریح الفاظ میں نوٹ کرلیں کہ بدکاری اور حرام کاری کی اس انڈسٹری سے مراد صرف پورن انڈسٹری نہیں بلکہ شوبز ، ماڈلنگ اور فیشن انڈسٹریز بھی ہیں کیونکہ جو خاتون حاملہ ہوجائے وہ ان میں کسی بھی انڈسٹری میں رہنے کے اہل نہیں رہ جاتی، یا کم از کم اس کی قیمت گر جاتی ہے۔
اگلا اہم نکتہ یہ ہے کہ اسقاطِ حمل کے اس نعرے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ جنین کی زندگی سے زیادہ اہمیت "ماں کی زندگی" کو ہے بلکہ اس کا آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ جنین کی زندگی کی بہ نسبت "عورت کی سہولت" زیادہ اہم ہے۔ اگر ماں کی زندگی کو کوئی خطرہ نہ ہو، اور اسقاطِ حمل کے معاملات کی غالب اکثریت میں ماں کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا، تب بھی "عورت کا جسم، اس کی مرضی" کا مطلب یہ ہے کہ وہ کیوں خواہ مخواہ اپنے لیے ایک مصیبت پالے؛ نو مہینے اسے پیٹ میں رکھے، اپنی "شیپ" خراب کرے، "ڈائٹ" تبدیل کرے، "سکیجول" تلپٹ کردے، پھر ڈیلیوری یا سی سیکشن کی تکلیف اٹھائے، پھر فیڈنگ کے چکر میں پڑے، پھر پرورش کا روگ پالے؛ اور یوں اپنا سارا "کیریئر" تباہ کردے؟ ہاں، وہ یہ سب کچھ اپنی مرضی سے کرنا چاہے تو بے شک کرے کیونکہ اس کا جسم، اس کی مرضی۔
یہ ہے اس نعرے کا اصل مفہوم۔ یہ نہیں کہ آپ داڑھی رکھیں یا کلین شیو ہوں، آپ پتلون پہنیں یا دھوتی، وغیرہ۔
اس بحث کو اس کے درست تناظر میں سمجھنے کےلیے بعض اور بنیادی سوالات پر بھی غور ضروری ہے۔
مثلاً کیا بچے پیدا کرنا فرد کا حق ہے یا فریضہ؟ مغربی ممالک کی عدالتوں میں اس سوال پر بڑی دلچسپ بحثیں وجود میں آئی ہیں۔ مثلاً اگر یہ حق ہے تو پھر قانون کیسے اسے محدود یا معطل کرسکتا ہے؟
کیا مثال کے طور پر ریاست کم سے کم (یا زیادہ سے زیادہ) عمر کی حد مقرر کرسکتی ہے کہ اس عمر سے قبل (یا اس عمر کے بعد) آپ بچے پیدا نہیں کرسکتے؟ قوانین میں شادی کی کم سے کم عمر کے متعلق دفعات دیکھ لیجیے نا۔ ابھی تک قوانین کی توجہ کم سے کم عمر پر ہی ہے، زیادہ سے زیادہ عمر پر قانونی پابندی کا وقت بھی آجائے گا۔
اسی طرح ابھی تک بہت سے ممالک میں (یہودی یا مسیحی اثرات کی بنا پر) قریبی رشتہ داروں کے درمیان ازدواجی تعلق (incest) پر پابندی ہے۔ گویا اسے بھی "حق" کے طور پر نہیں مانا جارہا۔ آئندہ کی اللہ جانے!
ایک تیسری قانونی پابندی جو ابھی برقرار ہے لیکن مستقبل قریب میں دور ہوسکتی ہے یہ کہ انسان اور جانور کے ملاپ سے کوئی اور نسل پیدا ہو۔ Technological Bestiality کا زمانہ بہت دور نہیں ہے۔
یہ تو رہا "پیدا کرنے کا حق" جو مغربی قوانین نے محدود طور پر مانا ہوا ہے، لیکن کیا "پیدا کرنے کا فریضہ" مغربی قوانین مانتے ہیں؟ اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ "نہیں، ہر گز نہیں۔" چنانچہ اگر مرد بچہ چاہتا ہے اور عورت اسقاط تو کئی ممالک کی عدالتوں نے کئی بار قرار دیا ہے کہ right not to be a parent کو right to be a parent پر فوقیت حاصل ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ صرف مرد اور عورت کے حق کا ہے یا "جنین" کا بھی کوئی حق ہے جسے ضائع کرنے یا نہ کرنے کا سوچا جارہا ہے؟

0 Comments