ہمارا ادیب (4)
زرک میر
پروفیسر صاحب ایک دن بڑے مضطرب تھے اور ہوٹل میں اپنے عمومی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے ، دو تین کتابیں سامنے رکھی ہوئی تھیں ، چائے کا کپ خالی تھا ، سگریٹ کی کئی مسخ شدہ لاشیں ایشٹرے میں پڑی ہوئی تھیں کچھ کو صحیح طور پر بجھایا بھی نہیں جاسکا تھا اور ان سے ہلکا ہلکا سا دھواں اٹھ رہا تھا ۔ دونوں ہاتھوں سے ٹھوڑی کو سہارا دیئے متفکر تھے اس وقت وہ پروفیسری کے عین روایتی تعریف پر پورا اتررہے تھے ، ان کی نظر ہم پر نہیں پڑی کہ ہم ہوٹل میں داخل ہوگئے ہیں ، ہوٹل میں رش تھا ، میں نے دوست کو کہنی ماری اور دبے پائوں آگے بڑھتے ہوئے دوست سے سرگوشی کی " آج پروفیسرصاحب ضرور کچھ نیا اور گہری بات کرنے والے ہیں ، دوست نے جوابا سر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پروفیسر صاحب کے ٹیبل کی جانب بڑھے ۔
ہمارا سلام ڈالنا پروفیسر صاحب کے تفکر میں خلل کا سبب بنا اور وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا " بخیرٹ " ہم نے اپنی نشتیں سنبھالیں ، پروفیسر صاحب نے اپنے چہرے پر تفکرات کو مٹانے کی بسیار کوشش کی اور ہم سے مسکراتے ہوئے بات کرنے لگے لیکن ہم بھانپ گئے کہ کچھ نیا اور گہری آمد ہوئی ہے یا ہونے والی ہے کہ پروفیسر صاحب اپنی پیشانی پر سے شکنیں تک دور نہیں کرپارہے ۔
میں نے گلا کھنکارتے ہوئے پوچھا " پروفیسر صاحب سب خیریت ہے ، یہ کتابیں دیکھ سکتا ہوں ۔ انہوں نے فورا کتابیں میری طرف بڑھائیں اور فوار ایک سوال داغ دیا ، سوال بڑا اچھوتا تھا ، کہا " آج نوجوان نسل عشق کرتی ہے کہ نہیں ؟ میں نے ایک کتاب ہاتھ میں پکڑی ہی تھی کہ پروفیسر صاحب کے سوال پر میرے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئی اور میں نے کہا " جی ہاں نوجوان نسل کرتی ہے بھرپور کرتی ہے ۔ میں نے یہ کہہ کر اپنے دوست کی جانب دیکھا اور یہ تاثر دیا کہ آج کا موضوع تو بڑا دلچسپ ہے ۔ انہوں نے بھی مسکراہٹ سے جواب دیا گویا وہ بھی ایسا ہی سمجھ رہے تھے ۔
پروفیسر صاحب نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو ہمارے ہاں عشق کی کوئی بڑی داستان کیوں نہیں جنم لے رہی ؟ عشق سے نہال کسی دیوانے کو کیوں نہیں ہم دیکھ رہے ، عشق تو فضاء کو بدلنے کا باعث بنتا ہے یہاں ہم کسی کو بدلتا کیوں نہیں دیکھ رہے ۔اس کا ذکر کیوں نہیں ہورہا ؟
اتنے جملے کہنے کے بعد پروفیسر صاحب نے ویٹر کو چائے کا آرڈر دیا میں نے آغاز کرتے ہوئے کہا " پروفیسر صاحب پھر عشق کیا ہوتا ہے ؟
پروفیسر نے کہا " عشق جاننے اور علم کا سب سے بڑا وسیلہ اور ذریعہ ہے میں کسی کو دیوانگی کی حالت اور بے خیال اور کٹا ہوا دیکھنے کا متمنی نہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ چشمہ پھوٹنے کیلئے کہیں سے تو پہاڑ ٹوٹے اور کہیں سے کوئی زلزلے کے جھٹکے ہوں تو چشمے پھوٹ پڑیں تب پانی اپنا راستہ خود تلاش کریگا اور سمندر کی طرف بہہ نکلے گا۔
میں نے کہا "عشق جاننے اور علم کا بڑا وسیلہ؟ وہ کیسے ؟
انہوں نے اپنی نشست پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کیلئے جسم میں جنبش لا کر کہنے لگے " ہاں میرے نذدیک عشق ہی جاننے اور علم کا بڑا اور اولین وسیلہ ہے ۔ جبکہ باقی علم معلومات اور حکمت عملی اور مروجہ نظام کی بابت ہے ۔ عشق کے بغیر سیاست ادب حتی کہ مشینوں کے علم کا حصول بھی نا ممکن ہے ۔ یہ ایسا ہی ہوگا کہ آپ کوئی کشتی بنا لیں اور وہ پانی میں نہ اترا جاسکتا ہو ۔ وہ بلے بہت خوبصورت اور مضبوط ہو ، لیکن پانی میں نہ اترنے والے کشتی کی کیا وقعت ۔
میں نے کہا " جی جی بالکل ہمارے ہاں عشق کی کئی داستانیں موجود ہیں۔
پروفیسر صاحب بڑی حیرانگی سے پوچھنے لگے ، اچھا کہاں اور کون کونسی داستانیں ؟
پروفیسر صاحب کے پے درپے سوالات اور مجھے برابر گھور کر سوالات پوچھنے کے انداز سے میرا گلہ خشک ہوگیا اور میں نے کہا " جی وہ ہمارے ہاں ہر ادیب کے ہاں ایک عشقیہ داستان موجود ہے ، اور وہ اس داستان کو بیان کرتا رہتا ہے اور لہو گرماتا ہے اور ہر ادیب اپنے عشقیہ داستان کو مزید نکھار کر بیان کرتا ہے دوسرا ادیب اس میں مداخلت نہیں کرتا ( گویا کاپی رائٹ کا معاملہ ہو ) ۔ باقاعدہ کتابیں موجود ہیں ان داستانوں پر۔
پروفیسر صاحب نے کہا " کیا یہ عشقیہ داستان ان کے ہیں یعنی حال کے ہیں ؟ کیا وہ اپنے احساسات بیان کررہے ہیں ؟
اسی اثناء میں ہماری چائے آ گئی اور میں نے چائے کا کپ فورا اٹھایا کہ اور کہا نہیں نہیں پروفیسر صاحب ! ان کے اپنے احساسات نہیں بلکہ وہ تو تاریخی طور پر قدیم مشہور داستانوں کو بیان کرتے ہیں اور کتابیں تک چھاپی گئی ہیں ۔
پروفیسر نے بھی اپنا پیالہ اٹھایا ۔ ایک گھونٹ لے کر اپنے چہرے پر یوں تاثرات بکھیرے گویا کہ انہوں نے انگور کی بیٹی کے ہونٹ چوس لئے ہوں ۔ وہ گویا ہوئے
" مطلب ہماری سیاست مستعار ،ادب مستعار تو ہمارا عشق بھی پرانے دور سے مستعار۔گویا عشق سکھایا جارہا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ہماری تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں لیکن کیا وہ اپنے عشقیہ داستانوں یا ایسے تاثرات اور احساسات کا کبھی اظہار نہیں کرتے ؟ کیا ان کی کتابوں میں ایسا تاثر پایا جاتا ہے کہ آج بھی عشق ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے اور خوب ہوتا ہے اور وہ بھی عشق کرچکے یا کررہے ہیں ؟
اب میرے دوست نے بھی ہمت کرکے کچھ کہنا شروع کردیا اور کہا " پروفیسر صاحب ہمارے ادیب تقریبا قدیم اور اساطیری عشقیہ داستانوں کو بہتر طورپر مرتب کرکے پیش کررہے ہیں اور یہ ہمارے ادب کاانمٹ حصہ ہیں ۔
پروفیسر صاحب نے اب کی بار دل سے مسکرا کر ہماری طرف دیکھا وہ تقریبا چائے کا کپ کچھ ہی گھونٹ میں ختم کرچکا تھا ، کپ کو ہاتھ میں لئے کہنے لگا " گویا سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والے سیاسی نظریات اور سیاسی حکمت عملیوں کی طرح ادبی داستانوں کا سلسلہ بھی جاری ہے کچھ نیا نہیں نہ تو نیا دور نہ ہی نئے انسان کی بابت کوئی بات کی جارہی ہے ۔دراصل اس میں ادیب کا کوئی نقصان نہیں ، وہ پرانی اور قدیم داستانوں کو جس قدر چاہے اپنے الفاظ میں خوبصورتی سے بیان کرے ، ہمارا معاشرہ بظاہر کس قدر سخت اور روایت پسند ہے لیکن یقین کریں پرانے دور کو آپ جس قدر عشقیہ دکھائیں ، باغی اور خود سر دکھائیں ،غیر مذہبی دکھائیں ، معاشرے کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی لیکن اگر حال کے کسی رومی ، تبریز ، منصور عیسیٰ ، رابعہ خضدار بکتاش اور مست توکلی کی بات کریں تو معاشرے کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ہمارا ادیب یہ خطرہ مولنا نہیں چاہتا ، لہذا وہ جس قدر چاہتا ہے اپنے الفاظ کے لبادے میں پرانی اور قدیم عشقیہ داستانوں کو لطف لے لے کر بیان کرتا ہے اور داد سمیٹتا ہے ۔ اسی طرح وہ نئی سیاسی پیشرفتوں پر بھی بات نہیں کرتا وہ ماضی کے اچھے دنوں کو اپنے قلم کو کچھ مضبوطی سے کس کر یاد کریگا اور ہیروز کو تغمہ امتیاز دیتا نظر آئیگا لیکن حال اور ابھی کی بات نہیں کریگا ۔ وہ اوشو کی مانند " نیا دور اور نیا انسان " کی بات کبھی نہیں کریگا ، وہ امکانات پر کبھی روشنی نہیں ڈالے گا ۔ اگر کبھی حال کی بات کریگا تو انتہائی پستی اور ماندگی سے کریگا کہ نوجوان نسل اپنے آپ کو بدقسمت اور خدا کا دھتکارا انسان تصور کریگی اور عشق سیاست اور ادب کو یوں پیش کریگا کہ گویا یہ پرانے دور کے کھیل ہوں ابھی ان کا ہم سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ یہ دیومالائی قصے ہوں ۔
میں نے شرارتا سوال کیا " تو کیا پروفیسر صاحب ہمارے ادیب کو سرکاری ملازمت اور ازدواجی زندگی میں زیادہ نہ الجھنے کے ساتھ ساتھ عاشق بھی ہونا چاہیئے ؟
پروفیسر نے تفکرانہ انداز میں اپنے سگریٹ کے مرغولے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا " یقینا، تب ہی تو میں نے کہا کہ عشق جاننے اور علم کا اولین وسیلہ ہے ۔
یہ سن کر میں نے اپنے دوست کی جانب دیکھا تو پروفیسر صاحب سگریٹ کے کش لے رہے تھے اور ہوٹل کے لوگوں کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ میں نے آہستہ سے اپنے دوست کو کہا " کہا تھا نا آج کچھ نیا ہوگا ۔
ہماری کھسر پھسر سن کر پروفیسر صاحب نے ہماری طرف دیکھا اور کہا " میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ سیاست ادب اور عشق کو دیومالائی سمجھ کر اس پر کبھی بات نہیں کرتے ۔ وہ امکانات پر کبھی نہیں سوچتے ، تب ہی شوپنہار والا سکہ ہمیشہ میرے جیب میں رہتا ہے ۔ میں اسے دان نہیں کر پاتا ۔ یہ سن کر میرا دوست ہوٹل میں ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔ میں نے وہاں رکھی کتابوں کو دیکھا تو ان میں سے اوپر اوشو کی کتاب " نیا دور نیا انسان " پڑی ہوئی تھی ۔
(جاری ہے )
Dabistan_دبستان

0 Comments