لذتِ علم اور کربِ آگہی
آصف انظار عبدالرزاق صدیقی
علم ،معلومات، جاننا ،سمجھ جانا، بوجھ لینا،آگاہ ہوجانا عجیب کیف آور اور لذت آگیں احساس ہے۔
علم ومعلومات میں یہ خرابی بھی ہے کہ جس طرح یہ سرور و لطف کا بحر بیکراں چھوٹے سے دل اور ننھے سے دماغ کی دسترس میں لے آتا ہے۔۔اسی طرح یہ تکنیکی خرابی ،اضافت کی مخدوشی،خیال کے لہروں کی معکوسی سے الم و اندوہ کرب و درد کا بحر اوقیانوس وجود پر مسلط کردیتا ہے۔۔
لذتِ علم و کربِ آگہی دل و دماغ میں ایسی بھاپ پیدا کرتا ہے جو برداشت کی چَپْنی تو کجا سدِ ارم کو بھی اڑا دے۔۔۔
علم کی لذت ایسا سرور ہے کہ انسان کائنات میں بکھری ہر لذت کو فراموش کردے ،مگر اس کے ساتھ ہی آگہی کا دوزخ بھی نت نئے عذاب لیے موجود رہتا ہے۔۔
ایسا ہوتا ہی نہیں کہ لذت علم کے متوازی آگہی کا عذاب نہ اترے
میں آپ کو مثال سے سمجھاتا ہوں ۔۔
آپ کو اور مجھے روز بہت سی نئی باتوں کا علم ہوتا ہے۔۔کچھ ہمارے ذوق و فکر، جذبات واحساسات کے مطابق ہوتے ہیں ،جہاں پر ہماری شادکامی کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے۔۔اسی شادابی وہرایالی میں ہمارے جذبات کو ڈسنے والے آگہی کے سانپ سپولے بھی بستے ہیں جو لذت علم میں آگہی کا زہر گھول دیتے ہیں ۔ بِس کی یہ پوٹلی لذت کے پورے ٹوکرے کی معنویت کو ہی آلودۂ سم کردیتی ہے۔۔۔
جب آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کے فلاں باب میں آپ کے آباؤ اجداد کی کارنامے جلی قلم سے لکھے ہوئے ہیں ۔۔تو لذت وسرور کی جنّتی کیفیت حاصل ہوتی ہے۔۔پھر اگلے ہی پنے پر ایک پھنکارتا ہوا سانپ آپ کے احساس کو ڈس لیتا ہے۔۔آپ کو معلوم ہوتا ہے۔۔
کہ اب تم کیا ہو،
اتنے مجبور کہ انتظارِ فردا کی بھی اجازت تمہیں دستِ غیر سے لینی ہے۔۔پھر یہ بھی احساس ہوتاہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ایمان رکھنے والے کروڑوں لوگ اسی ذلت پر برضا و رغبت راضی بھی ہیں تو اسی وقت آپ احساس و آگہی کے جہنم میں گر جاتے ہیں ۔اور پھر جب آپ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب علم وفضل، ارباب فکر وجستجو بھی اپنی اسی پوزیشن پر مطمئن ہیں تو آپ کے احساس و آگہی کے اس دوزخ میں آپ سے لاتعداد ڈنک مارتے بچھو چمٹ جاتے ہیں۔۔۔
جب آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ طارق ابن زیاد نے اندلس پر اسلام کا پھریرا لہرا دیا تو لذت کا ایک نامختتم احساس رگ و ریشے میں سنسی پیدا کرتا ہے۔
اور جب آپ جانتے ہیں کہ ابو عبداللہ غرناطہ سے روتا ہوا رخصت ہوا اور پھر اندلس میں مسلمانوں کا چراغ کبھی جل نہ سکا تو آپ کادل ہیروشیما و ناگاساکی سے زیادہ تباہ ہوجاتا ہے۔۔۔۔
جب آپ پڑھتے ہیں کہ محمد الفاتح قسطنطنیہ میں داخل ہوگیا تو شراب طہور کی لذت محسوس ہوتی ہے۔۔
اور جب آپ کو الغائے خلافت اور اس کے مضمرات کا علم حاصل ہوتا ہے تو آپ اچانک آسمان کی بلندیوں سے کربکے سمندر ڈوب جاتے ہیں ۔۔۔
آپ کے اردگرد لذتِ علم اور کربِ آگہی کے سینکڑوں پنے بکھرے ہوئے ہیں ۔۔
کبھی ہنسئے کبھی روئیے تاکہ معلوم ہوسکے کہ آپ زندہ ہیں ۔
ہنسنے اور رونے والے لوگ دنیا بدلتے ہیں
مابقیہ احباب زندگی اس لیے گزار رہے ہیں کہ انھیں مرجانا ہے۔۔

0 Comments