کیا عورت کو اسقاطِ حمل کا حق ہے؟ (2)
اب جبکہ بات "جنین" کے حقوق کی طرف آگئی ہے تو یہاں نوٹ کرنے کی پہلی بات یہ ہے کہ بیشتر مغربی ممالک کے قوانین میں ابھی تک جنین کو مستقل "شخص" کے طور پر نہیں مانا گیا، باوجود اس کے کہ کئی ممالک، بالخصوص برطانیہ، میں unborn child کےلیے جائیداد کی وراثت کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب قانون اسے شخص ہی نہیں مانتا تو اس کےلیے حقِ وراثت کیسے مانا گیا ہے؟ یا جب اس کےلیے حقِ وراثت مانا گیا ہے تو پھر اسے شخص ماننے سے کیسے انکار کرسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ برطانیہ میں مسیحیت کے اثرات اور برطانوی معاشرے کے رواج کی بنا پر حقِ وراثت مانا جاتا رہا ہے اور اب تک برقرار ہے لیکن پچھلی ڈیڑھ صدی میں جس طرح لبرلزم کے جراثیم پھیلے ہیں اور پھر "میرا جسم، میری مرضی" تک بات گئی ہے، تو اب جنین کو شخص مانا نہیں جاسکتا کیونکہ ایسا ماننے کے نتیجے میں عورت "حقِ اسقاطِ حمل" ختم ہوجاتا ہے! چنانچہ کئی بار برطانوی عدالتوں نے، اور دیگر مغربی ممالک کی عدالتوں نے بھی، تصریح کی ہے کہ رحمِ مادر میں (en ventre sa mere) جنین اپنی ماں سے الگ مستقل شخصیت نہیں رکھتا۔ بہ الفاظِ دیگر، اس کی شخصیت ماں کی شخصیت میں شامل ہے اور اس کا وجود ماں کے وجود کا حصہ ہے۔ یہ بنیاد ہے اسقاطِ حمل کےلیے عورت کے "حق" کی!
تاہم جنین کے الگ اور مستقل وجود کو، بالخصوص جبکہ وہ ایک خاص مدت تک پلے بڑھے، کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے؟ انسان دل میں تو مانتا ہی ہے کہ اب وہ ایک زندہ حقیقت ہے اور ایک "انسان" ہے۔ چنانچہ بعض مقدمات میں عدالتوں کو کہنا پڑا کہ - مثلاً - 36 ہفتے کے جنین کے متعلق کیسے مانا جائے کہ وہ موجود نہیں ہے یا "لا شئ" (nothing) ہے۔
یہ ابہام حقوقِ انسانی کی یورپی عدالت کے سامنے ایک بہت اہم مقدمے میں سامنے آیا۔ مقدمے کے حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ ایک ہسپتال میں ایک نام کی دو خواتین آئیں۔ ایک حاملہ تھی اور دوسری اپنے رحم سے مانع حمل تدبیر دور کرنے کےلیے آئی تھی۔ سٹاف نے غلطی سے حاملہ خاتون پر وہ عمل کیا جو اس دوسری خاتون کے ساتھ کرنا تھا اور نتیجے میں حمل ضائع ہوگیا۔ یہ خاتون حقوقِ انسانی کی یورپی عدالت میں اس بنیاد پر گئی کہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں نے حقوقِ انسانی کے یورپی معاہدے میں "ہر کسی" کےلیے زندگی کے حق کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے (Everyone's right to life shall be protected)۔
یہ بات مان لی جاتی تو یورپی ممالک میں اسقاطِ حمل کی اجازت کے قوانین کو ختم کرنا پڑتا۔ چنانچہ عدالت نے فرار کی راہ اختیار کی اور قرار دیا کہ وہ اس معاملے کا فیصلہ نہیں کرسکتی کیونکہ اس پر یورپی معاہدے کے فریقوں کا اتفاق نہیں ہے! واضح رہے کہ "فیصلہ نہ کرنا" بھی ایک فیصلہ ہی ہوتا ہے کیونکہ نتیجتاً اس خاتون کا دعوی خارج ہوا، گویا اس کے جنین کا زندگی کا حق تسلیم نہیں کیا گیا!
اگلا سوال یہ ہے کہ کب اور کس بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ جنین اب لا شیئ (nothing) نہیں ہے اور اس وجہ سے اسے ضائع کرنا غلط ہوگا؟
اس ضمن میں ایک اپروچ برطانیہ کے قانونی نظام کی ہے جس کی رو سے جنین کا ضائع کرنا غلط ہے جب تک اس کےلیے دلیل نہ ہو لیکن غلط ہونے کے باجود پہلی سہ ماہی میں ضائع کرنے پر قانوناً کوئی سزا یا تاوان نہیں ہے۔
یہ اپروچ، جیسا کہ واضح ہے، قطعی غیر اصولی ہے کیونکہ ایک کام قانوناً غلط تبھی ہوسکتا ہے جب اس سے کسی کے قانونی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ جب آپ مانتے ہی نہیں کہ جنین کی کوئی شخصیت ہے تو اس کی زندگی کے حق کا کیا سوال اور اس زندگی کا ضائع ہونا غلط کیوں ہو؟ پھر جب آپ مانتے ہی نہیں کہ عورت پر بچہ پیدا کرنے کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی یہ مانتے ہیں کہ right to be a parent کو right not to be a parent پر کوئی فوقیت حاصل ہے، تو پھر حمل ضائع کرنا غلط کیوں ہوا؟ پھر اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ غلط ہے تو پھر اس پر قانوناً سزا یا تاوان کیوں نہ ہو؟ پھر سزا یا تاوان کا سوال پہلی سہ ماہی کے بعد ہی کیوں اٹھتا ہے؟ یہ اور اس طرح کے کئی اور سوالات ہیں جن کا کوئی اصولی جواب موجود نہیں ہے اور قانون کے ماہرین مانتے ہیں کہ برطانوی قانونی پوزیشن کسی قانونی اصول پر نہیں بلکہ محض "پالیسی" پر قائم ہے۔
دوسرا اپروچ امریکا کا ہے جو "غلط" کے بجاے "حق" کے تصور پر قائم ہے کہ کس کا حق کب غالب ہوتا ہے اور ریاست کا باہم متصادم حقوق کے معاملے میں کردار کیا ہوتا ہے؟ یہ اپروچ Roe v Wade کے مشہور مقدمے میں امریکی سپریم کورٹ کے ججز کی اکثریت نے اختیار کی۔
اس اپروچ کی رو سے پہلی سہ ماہی میں عورت کا حق غالب ہے اور اسے مکمل اختیار ہے کہ وہ چاہے تو حمل ضائع کرے۔ ڈاکٹر اس کی مرضی پر عمل کرنے کا پابند ہے اور ریاست کو اس سے پوچھنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس حق کے استعمال کےلیے اسے کوئی "وجہ" بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
پہلی سہ ماہی کے بعد البتہ ڈاکٹر پر یہ متعین کرنے کی ذمہ داری ہے کہ جنین کے زندہ و سلامت پیدا ہونے کے امکانات کتنے ہیں؟ اس کی زندگی کے چانسز کتنے ہیں؟ اسے کوئی جسمانی یا ذہنی عارضہ پیدا ہونے کے امکانات کتنے ہیں؟ وغیرہ۔ اسے قانوناً fetal viability کہتے ہیں۔
اس کے بعد مسئلہ جنین اور اس کی ماں کے حقوق کے تصادم کا ہوتا ہے جس میں ریاست کو ریفری کی پوزیشن حاصل ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا میں ، پہلی سہ ماہی میںِ عورت کا حقِ اسقاطِ حمل مانا گیا ہے اور برطانیہ میں نہیں لیکن اس کے باوجود برطانیہ میں اسقاطِ حمل کے واقعات امریکا کی بہ نسبت زیادہ ہیں۔
یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ مغرب میں اسقاطِ حمل پر ہونے والے مباحثے کی بنیاد اس امر پر نہیں ہے کہ جنین میں "روح" کب آتی ہے؟ یہ بحث مسلمانوں کے ہاں بعض احادیث کی بنا پر موجود ہے اور اس پر الگ سے بحث کی ضرورت ہےکہ "روح" سے ان احادیث میں مراد کیا ہے؟ یہاں ہم چونکہ مغربی تصورات پر بحث کررہے ہیں ، اس لیے "روح" کی بحث کو ایک طرف رکھیے اور اس پر توجہ کیجیے کہ جنین پہلے لمحے سے ہی "زندہ" وجود ہوتا ہے۔ اس لیے امریکا میں اگر حمل کی پہلی سہ ماہی میں عورت کےلیے اسقاطِ حمل کے "حق "کی بات ہوتی ہے، یا برطانیہ میں چاہے اس کے حق کی بات نہ کی جاتی ہو لیکن اس مدت میں اسقاط پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوتی، تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس مدت میں جنین کو زندہ تصور نہیں کیا جاتا۔ ہر گز نہیں۔ وہ تو زندہ وجود ہے اور اس میں زندہ انسان کے طور پر پیدا ہونے کا potential پایا جاتا ہے ۔ تاہم دوسری طرف عورت ہے جو صرف potentially نہیں بلکہ really ایک زندہ انسان ہے۔ چنانچہ اس بنیاد پر اس سہ ماہی میں عورت کے حق کو غالب سمجھا جاتا ہے اور جنین کا زندہ انسان کے طور پر پیدا ہونے کا حق نہیں مانا جاتا۔ قانونی بحث سمجھنے کےلیے اس نکتے کو یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس مرحلے پر جنین کے لیے یہ حق نہیں مانا گیا کہ اسے زندہ انسان کے طو رپر پیدا ہونے کا موقع دیا جائے اور چونکہ اس مرحلے پر عورت کےلیے یہ بات بطورِ حق مانی گئی ہے کہ وہ چاہے تو اس جنین کو ختم کردے، تو اس لیے اس سے اس مرحلے پر اسقاطِ حمل کےلیے کوئی وجہ نہیں پوچھی جاسکتی۔ بہ الفاظِ دیگر ، اس مرحلے پر جنین کو اس عورت کے جسم کا حصہ مانا گیا ہے اور اس کےلیے حق مانا گیا ہے کہ اس کا جسم ، اس کی مرضی!
البتہ جب عورت نے اس مرحلے پر اس حق کا استعمال نہیں کیا اور جنین بڑھوتری میں اس مرحلے پر پہنچ گیا جب اس کے بطورِ زندہ انسان کے پیدا ہونے کے امکانات بڑھ گئے، یعنی وہ دوسری سہ ماہی میں داخل ہوگیا ، تو اب ڈاکٹرز کی راے اہم ہوجاتی ہے، کہ ڈاکٹرز بتائیں کہ اس جنین کے بطورِ ایک صحت مند بچے کے پیدا ہونے کے امکانات کتنے ہیں؟ گویا اب جنین محض عورت کے جسم کا حصہ نہیں رہا بلکہ اس کی الگ مستقل حیثیت کی ابتدا ہوگئی۔ تاہم اس مرحلے پر بھی ابھی جنین کےلیے زندہ رہنے کا "حق" تسلیم نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے زندہ رہنے کا انحصار ڈاکٹر کی اس راے پر جو اس کی viability کے متعلق وہ دے گا۔ اس viability میں صرف اس کو ہی مدِ نظر نہیں رکھا جاتا کہ وہ زندہ پیدا ہوگا یا نہیں، بلکہ اس امر پر بھی غور ہوگا کہ کہیں وہ جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ تو پیدا نہیں ہوگا؟
اس کے بعد عورت کے اپنے جسم کے متعلق حق اور جنین کے ممکنہ طور پر پیدا ہونے کے حق کے درمیان ریفری کا کردار ریاست کرتی ہے اور ریاست یہ فیصلہ کرنے کےلیے کئی امور کو مدنظر رکھتی ہے جن کی روشنی میں وہ مناسب قانون سازی کرتی ہے۔
یہ ہے Roe v Wade کے مشہور فیصلے کا خلاصہ۔
اس فیصلے نے اگرچہ پہلی سہ ماہی میں عورت کےلیے اسقاطِ حمل کا حق مانا ہے لیکن "میرا جسم میری مرضی" والے تو اس کے بعد کے مراحل میں بھی جنین کو عورت کے جسم کا حصہ گردانتے ہوئے اس کےلیے اسقاطِ حمل کے حق کی بات کرتے ہیں۔ دوسری طرف "زندگی کے حق" کی بات کرنے والے – عام طور پر کیتھولک مسیحی – خواہ پہلی سہ ماہی میں عورت کا حق ماننے پر ناراض ہوں اور خواہ اسے آگے fetal viability کے اصول سے بھی اختلاف ہو، لیکن وہ کم از کم اس بات پر خوش ہیں کہ کسی حد تک جنین کی حیثیت تسلیم کی گئی۔
پہلے فریق کو pro-choice اور دوسرے کو pro-life کہا جاتا ہے، یعنی اختیار کے حامی اور زندگی کے حامی! امریکی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک طرح کا سمجھوتا تھا لیکن یہ سمجھوتا فریقین میں کسی کو بھی مطمئن نہیں کرسکا اور کشمکش بدستور جاری ہے۔

0 Comments