Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

سوامی ویوک نندا

سوامی ویوک نندا


  سوامی ویوک نندا 1863 میں بنگال میں پیدا ہوئے اور1902   میں انتقال کرگئے. صرف 39 برس عمر پائی مگر اس مضتصر عرصے میں بھی سناتن دھرم کے لئے کارہائے نمایاں سر انجام دیے.آپ نے مغربی دنیا میں ویدک فلسفہ اور یوگا کو متعارف کروایا اور آپ کی محنت کی وجہ سے ہندو دھرم  دنیا کے ممتاز مذاہب میں شامل ہوا. ہندو مذہب کی حیات نو  کے لئے سوامی ویوک نندا نہ صرف برصغیر کے ہر گوشے میں گئے بلکہ چین ,جاپان ,فرانس, سلطنت عثمانیہ ,کینیڈا, برطانیہ اور امریکہ کے دورے بھی کئے. ہارورڈ سمیت امریکہ کی تمام بڑی جامعات میں لیکچر دیے اور  ویدک سوسائیٹیز قائم کی. کم و پیش تمام مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ ہندو مذہب کی موجودہ شکل و ہیئت سوامی ویوک نندا کی تعلیمات کی ہی مرہون منت ہے. آپ کی سالگرہ کو بطور نیشنل یوتھ ڈے منایا جاتا ہے. ویوک نندا کے نام پر جامعات بھی قائم ہیں اور مشہور و موثر تھنک ٹینک بھی.

 آپ نے 1893 میں شکاگو میں منعقد ہونے والی مذاہب کی عالمی پارلیمنٹ میں ہندومت کی نمائندگی کی اور اس موقع پر یادگار تقریر کی (اس دن کی گئی تقریر کی نسبت سے اس تاریخ کو اب دنیا بھر میں بھائی چارے کا عالمی دنیا منایا جاتا ہے)

خیر سوامی ویوک نندا کے بارے میں پڑھتے ہوئے جب ان کی   مذاہب کی عالمی پارلیمنٹ میں نمائندگی دیکھی تو اشتیاق ہوا کہ کھوجا جائے اس وقت اسلام کی نمائدگی کس نے کی تھی. کہ اس وقت سلطنت عثمانیہ بھی قائم و دائم تھی, خلیفہ اسلام موجود تھے, مراکش کے ساتھ امریکہ کے سفارت تعلقات بھی تھے, جامعہ ازہر و جامعہ فز جیسے ادارے بھی فعال تھے اور دیوبند تحریک بھی فعال تھی. اس کے ساتھ ہند میں درجنوں امیر کبیر مسلم سلنطنتیں بھی موجود تھی. مگر یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اتنے اہم فورم میں جہاں تمام بڑے مذاہب کے ساتھ جین مت , برہمو سماج اور بہائی مذہب کے نمائندے بھی موجود تھے وہاں کسی اسلامی ریاست نے کوئی مبلغ و نمائندہ نہیں بھیجا بلکہ یہ فریضہ ایک امریکی نو مسلم محمد الیگزینڈر رسل ویب نے انجام دیا. انہوں نے 1888 میں اسلام قبول کیا تھا اور ان کا شمار اولین اینگلو امریکن مسلم میں ہوتا ہے جس کے بعد آپ کی اہلیہ اور بچے بھی مشرف بااسلام ہوئے. آپ فلپائن میں امریکی سفیر بھی رہے.

الیگزنڈر ویب کی قبول اسلام کی داستان دلچسپ بھی ہے اور ہمارے لئے باعث عبرت بھی. 1886 میں  امریکی ریاست میسا چوسٹس میں بیٹھے  الیگزنڈر ویب  کا اسلام سے تعارف ہزاروں کلومیٹر دور مشرقی پنجاب کے پسماندہ قصبے میں بیٹھے مرزا غلام احمد قادیانی کے ذریعے ہوا جس سے ان کی خط و کتابت جاری رہی اور مرزا غلام قادیانی نے ان کے خطوط اپنی کتاب شیان حق میں بھی شائع کیے.

اس کے بعد ان کے خطوط کچھ دیگر مسلم.اخباروں میں بھی شائع ہوئے. جس کے بعد بمبئی سے حاجی عبداللہ عرب نامی تاجر جو مرزا غلام.احمد قادیانی کے زیر اثر تھا وہ بذات خود الیگزنڈر ویب سے ملنے منیلا فلپائن روانہ ہوا اور انہی نے بعدازاں ان کے دورہ ہند کا اہتمام کیا جس کے تحت انہوں نے پونا , بمبئی, حیدر آباد سمیت مختلف شہروں میں جامع اور دلسوز انداز میں لیکچرز دیے.

محمد الیگزنڈر ویب مرزا غلام.قادیانی کی تعظیم تو کرتے تھے کہ ان کی بدولت انہیں دولت اسلام نصیب ہوئی مگر جماعت احمدیہ کے ریکارڈ میں کہیں یہ ذکر نہیں ملتا کہ یہ قادیانی ہوئے نہ الیگزینڈر ویب کی کسی تحریر میں مرزا کے نبی ہونے کی بات کی گئی یے اس کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ جب الیگزنڈر ویب جب ہندوستان تشریف لائے تو مرزا سے ملاقات نہیں کی. . آپ عمر بھر امریکہ میں اشاعت اسلام کی کاوشوں میں مصروف رہے. مین ہٹن میں ایک مسجد قائم کی اور مختلف امریکی ریاستوں میں قرآن سڈڈی سرکل قائم کیے. آپ  کی خدمات کے اعتراف میں سلطان عبدالحمید کی جانب سے  آپ کو امریکہ میں ترکی کا اعزازی قونصل جنرل بنایا گیا اور 1916 میں آپ نیو جرسی میں انتقال کرگئے.

محمد الیگزنڈر ویب نے اسلام پر درجہ ذیل کتب تصنیف کی 

. Islam in America: A Brief Statement of Mohammedanism and an Outline of the American Islamic Propaganda.

.Yankee Muslim: The Asian Travels of Mohammed Alexander Russell Webb

.Islam in America: An Annotated Edition

.The Moslem World and Voice of Islam

محمد الیگزنڈر ویب کی کوششوں سے کچھ دیگر امریکی بھی اسلام کے قریب ہوئے جن میں نمایاں تریں شخصیت جارج بکر تھے جو پیشے لحاظ سے ڈاکڑ اور مشہور پروٹیسٹنٹ پادری تھے مگر بدقسمتی سے قبول.اسلام کے ساتھ ہی مرزا غلام احمد قادیانی کے انگریزی رسالے " The review of religons"  پڑھ کر اس کے زیر اثر آگئے اور باضابطہ طور پر احمدی /قادیانی ہوگئے. اور مفتی صادق پہلے ہندوستانی قادیانی مبلغ کی.امریکہ آمد کی راہ ہموار کی اور عمر بھر بطور مبلغ سرگرم عمل رہے

مفتی صادق قادیانی جس کا تعلق بھیرہ سے تھا 1920 میں امریکہ آیا اور دن رات قادیانیت کی تبلیغ کی. اس کے ہاتھوں سے 700 سے زائد امریکی جن میں ہر رنگ و نسل کے لوگ شامل تھے قادیانی ہوئے. اس نے Muslim Sunrise  کے نام.سے ایک پرچہ بھی نکالا جو دہائیوں تک چھپتا رہا

قادیانی مشنریوں نے امریکی سول رائٹس مومنٹ میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا کے ایسے وقت میں جب امریکی معاشرہ بدترین نسلی تفریق کا شکار تھا قادیانی مشنریوں نے رنگ و نسل کی بنیاد پر برتری کی نفی کی. جس کے نتیجے میں نہ صرف ہزاروں گورے مشرف با قادیانیت ہوئے بلکہ 1950 کی دہائی تک کالے امریکیوں میں قادیانیت سب سے مقبول مذہب بن چکا تھا

بات سوامی ویوک نندا سے چلی تھی اور کہاں آپہنچی. ابھی یہ سب باتیں انتہائی اختصار سے لکھی گئیں ہیں وگرنہ بیان کرنے کو بہت کچھ ہے

اللہ اکبر. ہماری پستی کی انتہاء دیکھیے جو مسلم تبلیغی تنظیمیں آج سوچتی ہیں وہ قادیانی مبلغ ڈیڑھ صدی پہلے سوچتے تھے

میں نے اب تک نہیں سنا کہ قادیانیت کے رد میں اور اشاعت اسلام کے لئے کوئی انگریزی مجلہ نکلتا ہو جبکہ قادیانی انیسویں صدی میں ہی انگریزی رسالہ The review of religion اور Muslim Sunrise امریکی اور یورپیوں میں تبلیغ کی غرض سے نکالتے تھے

امریکہ, یورپ, مشرق وسطیٰ , انڈونیشیا, مشرقی , شمالی جنوبیاور مغربی افریقہ میں ہزاروں قادیانی مبلغ خدمت انسانیت کے کاموں میں سرفہرست ہیں جس کا لازمی نتیجہ اشاعت و ترویج قادیانیت کی صورت میں نکلتا ہے اور لاکھوں افریقی "اسلام" کے نام پر قادیانی بن چکے ہیں.

اسلام کے نام پر پہلا ٹی وی چینل قادیانیوں نے بنایا. اشاعت اسلام کے نام پر قائم کی گئی پہلی ویب سائٹ جماعت احمدیہ کی ہے.

جبکہ ہمارا یہ حال ہے کہ 2011 میں ایوان اقبال لاہور میں ایک انٹرنیشنل مذہبی جماعت نے ختم نبوت (ص) ٹی وی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا ایک.دہائی گزر گئی عمل نہ ہوسکا

ان کا تبلیغ کا انداز بھی نرالا ہے کہ 

 قادیانی پہلے اسلام میں داخل ہوں 

پھر دکان میں داخل ہوں.

ایسے اخلاق ہوں گے تو بھلا کون ان کے "اسلام" میں داخل ہوگا.

دنیا میں ہر مذہبی تحریک و جماعت کو تبلیغ کا حق حاصل ہے مگر قادیانیوں سے وجہ اختلاف یہی یے کہ وہ اپنے عقائد اسلام کے نام پر پھیلاتے ہیں. اور المیہ یہی ہے کہ نہ صرف ہزاروں مسلم مرتد ہو ریے ہیں بلکہ لاکھوں غیر مسلم بھی قادیانیت کو اسلام سمجھ کر قبول کر رہے ہیں.

ُختم نبوت (ص) پر کام کرنے والی تنظیموں (ان میں احرار شامل نہیں کہ وہ محدود وسائل کے باوجود بہترین کام کررہی ہے) کی حالت زار, ویژن کا فقدان, جدید ذرائع ابلاغ سے ناواقفیت, اور گالیوں کے ساتھ تبلیغ  کرنے کا نرالا انداز,  ایک دوست سے  جذباتی انداز میں بیان کیا تو درد دل سن کر مسکرایا اور دو جملوں میں بات ختم کردی.

کہنےلگا ان کے نزدیک

نبوت (ص) ختم ہوگئی مگر چندا جاری ہے  جاری رے گا.


مخدوم عدیل عزیز

Post a Comment

0 Comments